روس چین اتحاد بمقابلہ یورپ

روس چین اتحاد بمقابلہ یورپ
روس چین اتحاد بمقابلہ یورپ

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

مغرب کی طرف سے عائد پابندیوں اور روس کو معاشی مشکلات کا شکار کرنے کے منصوبہ کے تحت تیل کی بین الاقوامی منڈی میں قیمت گرنے کا مقابلہ کرنے اور ان عزائم کا مقابلہ کرنے کے لئے روس نے مشرق سے اپنے روابط بڑھانے شروع کئے۔

*۔۔۔ ماسکو کے جنوب مشرق میں ایک بہتر بڑی مارکیٹ ہے جس کا کوئی نام نہیں ہے اور خریدو فروخت کے لئے صرف چینی باشندے ہی نظر آتے ہیں، روس میں چینی باشندوں کی تعداد143ملین کے قریب ہے۔ ایک وقت تھا کہ1961ء میں روس اور چین میں سرحدی تنازعہ اور وہ بھی ایک جزیرے کی وجہ سے ایک خوفناک جنگ ہوتے ہوتے رہ گئی۔ یاد رہے کہ چین اور روس کے درمیان4200 کلو میٹر لمبی سرحد ہے، لیکن اب حالات بہت تبدیل ہو گئے ہیں۔ ویسے بھی بین الاقوامی معاملات میں، اتفاق اور اختلاف کی بنیاد تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ اب روس مغرب کی طرف سے مُنہ موڑ کر چین کو ایک اچھا دوست ایک اچھا ساتھی بنانے پر مجبور ہے کہ یہ اُس کے مفادات کا تقاضا ہے۔ یہ قربت سرد جنگ کے خاتمے کے بعد یوریشیا کی طرف جھکاؤ اور امریکہ کے ’’ورلڈ آرڈر‘‘ کا مقابلہ کرنے کے لئے ہے اور آج روس برلن کی نسبت بیجنگ ے بہت قریب ہو رہا ہے اور چین کے لئے یہ ایک سنہری موقعہ ہے کہ وہ بین الاقوامی سیاسی سٹیج پر اپنی ایک علیحدہ شناخت اور موثر موجودگی کا احساس پیدا کرے اور عالمی معاملات میں اس کی رائے اپنی جگہ ایک اہم حیثیت رکھتی ہو اور چین اس طرف آہستہ آہستہ، لیکن بڑی کامیابی سے قدم بڑھایا گیا ہے اور آج اسے وہ مقام حاصل ہے۔ کل چین کا ہو گا۔ امریکہ پندرہ بیس سال پہلے یہ دعویٰ کر سکتا تھا کہ یوریشیا میں اُس کو ہر لحاظ سے بالادستی حاصل ہے، لیکن اب وہ جائزہ لینے تک محدود ہے کہ وقت ضرورتِ مداخلت کر سکے، روس چین کا اتحاد تاریخ کا سب سے بڑا توانائی کا معاہدہ کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے، اس کے ساتھ ساتھ مشرقی چین کے ساحل سے لے کر یورپ تک کھلے سمندروں میں مشترکہ بحری افواج کی مشقیں،وسط ایشیا میں دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی، روس کی طرف سے چین کو جدید ترین ہتھیاروں کی فروخت اور چین کا خلائی سیارہ روس کے خلائی سیارہ کی ہی ٹیکنالوجی ہے۔

*۔۔۔ اس سے پیشتر ر وس ایک عرصہ سے اس کوشش میں رہا کہ وہ یورپ کے ’’قوموں کے خاندان‘‘ میں شامل ہو سکے اور1991ء میں سوویت یونین کے بکھرنے کے بعد ماسکو کی کوشش رہی کہ وہ جرمن کے ساتھ قریبی دوستانہ تعلقات استوار کر سکے اور اس کے وسائل اور جرمن کی ٹیکنالوجی اکٹھے ہو کر واشنگٹن کا مقابلہ کر سکیں، لیکن پچھلے سال مغرب نے یوکرائن کے مسئلے پر روس پر پابندیاں عائد کر دیں، جس میں امداد، قرضہ اور ٹیکنالوجی کے حصول پر پابندی لگا دی گئی تھی،جس کے نتیجے میں ’’روبل‘‘ (روسی کرنسی) کی قیمت میں کمی یعنی شرح تبادلہ میں کمی ہوئی، جس کے مضر اثرات روس کی معیشت پر پڑنا لازم تھا، روس نے محسوس کیا کہ توانائی کی طاقت کے بل بوتے پر یورپ اور علیحدہ ہونے والی ریاستوں پر اپنی مرضی مسلط کرنا ایک خواب تھا۔ ایک سراب تھا، چنانچہ مغرب کی حکمت عملی نے روس کا چین کی طرف جھکاؤ مجبوری بنا دیا، لیکن دونوں مُلکوں نے مغرب کے خلاف کھلم کھلا پالیسیاں ترتیب نہ دینے کی اہمیت کا احساس بھی سامنے رکھا۔ روس نے عندیہ دیا کہ وہ تیل اور گیس یورپ کی بجائے مشرق اور مشرقی بعید تک پہچائے گا، لیکن یورپ اور خود روس کو احساس ہے کہ اس کاخزانہ ایسی سرمایہ کاری کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ ماضی میں 24/25کے قریب ممالک روس سے ہائیڈرو کاربن حاصل کرتے تھے، لیکن اب اس کا زیادہ حصہ چین حاصل کر رہا ہے اور وہ بھی اپنی شرائط پر کیونکہ امریکہ کی بالادستی اور اجارہ داری کے خلاف چین ہی ایک موثر اتحادی ثابت ہو سکتا ہے۔ علاوہ ازیں اس وقت چین روس سے سب سے زیادہ تیل حاصل کرنے والا مُلک ہے۔ سعودی عرب اس کے بعد ہے، روس اپنی پیداوار کا 15فیصد، یعنی30ملین ٹنخام تیلچین کو دے رہا ہے اور بدلے میں تیل کی پیداوار میں استعمال ہونے والا سازو سامان حاصل کر رہا ہے، کیونکہ پابندیوں کے بعد چین ہی ایسا مُلک ہے جس سے یہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔

مشرق وسطیٰ کے ساتھ ساتھ سنٹرل ایشیا کے حالات نے بھی دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ گزشتہ مئی میں روس اور چین کے درمیان400ارب ڈالر کا معاہدہ طے پایا جس کے تحت روس چین کو38ارب کیوبک میٹر گیس فراہم کرے گا ’’ہر سال اور30سال کے لئے‘‘ اس کے علاوہ روس یورپ کی ضروریات پوری کرنے کے لئے اور اپنی معیشت کو سنبھالا دینے کے لئے160ارب کیوبک میٹر گیس دوسرے ہمسایہ مُلک کو سپلائی کرے گا ۔ حالات کے تقاضے کیسے بدلتے ہیں؟1969ء میں دونوں ممالک جنگ کرنے والے تھے، پھر حالات بدلے اور چین نے سوویت یونین کو اپنا بڑا بھائی مان لیا اور آج سوویت یونین کا شیرازہ بکھرنے کے بعد روس چین سے معاونت کا طلب گار ہے، کیونکہ یہ اس کی ضرورت ہے۔ ماسکو اگرچہ گیس چین کو بیچ رہا ہے، لیکن قیمتوں کا توازن قائم رکھنے کے لئے اسے سابقہ یونین کی ریاستوں ترکمانستان، ازبکستان اور قازقستان سے مقابلہ بھی کرنا پڑ رہا ہے، جو چین کو گیس بیچ رہے ہیں۔

*۔۔۔ وسط ایشیا کی ریاستیں دونوں کے درمیان کچھ اختلافات کی بنیاد ہیں، کیونکہ یہ ریاستیں چینی مال کی بڑی خریدار ہیں، جبکہ روس کے ساتھ ان ریاستوں کا تعاون برائے نام رہ گیا ہے، لیکن اتحادیوں کی حیثیت سے دونوں ممالک نے ان اختلافات کو پس پشت ڈال کر آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ساتھ ساتھ ماسکو کی سربراہی میں یوریشین اکنامک یونین جس میں قازقستان اور کرغزستان شامل ہیں۔ سوویت یونین کا نیا جنم سمجھا جاتا ہے، موجودہ صدر پیوٹن کے آنے کے بعد روس نے بین الاقوامی سیاسی نظر میں متحرک کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس فیصلے پر عمل پیرا ہے۔ شام اس کی ایک مثال ہے۔۔۔چین مستقبل میں ریل، سڑک، پائپ لائن کے ذریعے ایک نیاSilk Road معاشی راستہ بنانے کی راہ ہموار کر رہا ہے جو پاکستان سے ہوتا ہوا پولینڈ تک جائے گا۔بریکس کی میٹنگ میں جو روس کے مغربی شہر اوفا میں جولائی میں ہوئی تھی۔ روس اور چین نے مشترکہ منصوبوں اور حکمت عملی پر معاہدہ کیا تھا، جو آنے والے دِنوں میں عالمی سیاست پر اثر انداز ہو گا۔

*۔۔۔ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد وسط ایشیا عالمی سیاست کی بساط پر بڑی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔۔۔بریکس اور شنگھائی تعاون تنظیم اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہیں۔2001ء میں تعاون تنظیم کا قیام، روس چین اور چار وسط ایشیائی ریاستوں نے یہ تنظیم قائم کی تھی کہ باہمی اختلافات خصوصاً سرحدوں کا تعین مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے، لیکن آہستہ آہستہ اس کا دائرہ اثر بڑھتا گیا اور آج یہ گروپ دُنیا کی کل آبادی کا پانچواں حصہ ہے اور3/5 یوریشیا، یعنی یورپ اور ایشیا کی آبادی اس سے منسلک ہے۔ اوفا میٹنگ میں بھارت اور پاکستان نے بھی اس میں شمولیت کا عندیہ دیا ہے۔

*۔۔۔ لیکن دنوں ممالک کا تعاون’’Honey Moon‘‘ بھی نہیں ہے۔ بیچنگ یوکرائن کے مسئلے پر روس کے خلاف عائد پابندیوں کے خلاف ہے، لیکن ساتھ کریمیا کو روس کا حصہ بنا لینے کی حمایت بھی نہیں کرتا۔ روس بھی چین کی اس کوشش کا حامل نہیں ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم کا اپنا بنک ہو اور رکن ممالک کے درمیان آزادانہ تجارت زون بن جائے، کیونکہ اس سے روس کی ایکسپورٹس متاثر ہوں گی۔ دونوں کے درمیان 150 سال پہلے روس کا چین کے ایک بڑے رقبہ پر قبضہ بھی چین کے دل کی چبھن ہے۔ آنے والا وقت بتلائے گا کہ روس ’’بڑا بھائی‘‘ تو یقیناًنہیں رہا، لیکن کس حد تک ’’برخوردار‘‘ رہے گا یہ چین کے رویہ پر منحصر ہے، لیکن مغرب کی بالادستی کے خلاف یکجہتی مضبوط رشتہ ہے اور رہے گا۔

مزید : کالم