ایک شرمناک شیطانی خیال نے نوجوان کو 3 کروڑ روپے کا مالک بنادیا

ایک شرمناک شیطانی خیال نے نوجوان کو 3 کروڑ روپے کا مالک بنادیا
ایک شرمناک شیطانی خیال نے نوجوان کو 3 کروڑ روپے کا مالک بنادیا

  

ٹورنٹو (نیوز ڈیسک) دنیا کے ذہین انسانوں نے بنی نوع انسان کے کام آنے والی بے شمار ایجادات کرکے نیک نامی کمائی ہے لیکن کینیڈا کے ایک شہری نے شیطانی خواہشات کی تکمیل کے لئے ایک کھلونا ایجاد کر کے 3 لاکھ ڈالر (تقریباً تین کروڑ پاکستانی روپے) کمالئے ہیں۔

میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق آرٹسٹ ٹریور مرفی کا کہنا ہے کہ ایک روز جب وہ نیند کے خمار میں تھے تو اچانک ان کے ذہن میں ایک ایسا جنسی کھلونا ایجاد کرنے کا خیال آیا جو خواتین کی تفریح کے لئے استعمال ہوسکے۔ ٹریور کا کہنا ہے کہ اس کا آئیڈیا ایک پہیہ اور اس پر لگے پلاسٹک کے زبان نما ٹکڑوں پر مشتمل تھا۔ ٹریور نے اس ڈیزان کے مطابق اپنے کمپیوٹر پر ایک خاکہ تیار کیااور ویب سائٹ لوو ہنی کے تحت منعقد ہونے والے ایک مقابلے میں شمولیت کے لئے بھیج دیا۔

جیب خرچ جمع کرکے 13 سالہ بچے نے ایسے کاروبار میں ڈال دئیے کہ دنوں میں ہی کروڑ پتی بن گیا، وہ خبر جو ہر نوجوان کو ضروری پڑھنی چاہیے

ٹریور کا کہنا ہے کہ اس مقابلے میں درجنوں دیگر ڈیزائن بھی شامل تھے مگر ان کے ڈیزائن کو پہلا انعام ملا۔ جلد ہی ان کے تیار کئے گئے ڈیزائن کے مطابق ایک کمپنی نے نئی قسم کے جنسی کھلونوں کی تیاری شروع کردی۔ بیٹری سیل سے چلنے اور دونوں سمتوں میں گھومنے والے اس جنسی کھلونے کو بہت زیادہ مقبولیت حاصل ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے ٹریور کی دولت میں بھی غیر معمولی اضافہ ہونے لگا۔ وہ اس کھلونے سے اب تک لاکھوں ڈالر کماچکا ہے اور اب اس کے ڈیزائن میں کچھ تبدیلی کرکے اسے مردوں کے لئے بھی متعارف کروا دیا گیا ہے۔ ٹریور کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ اپنی ایجاد پر شرمندہ نہیں ہے بلکہ اسے کسی بھی دوسری ایجاد جیسی اہم چیز ہی سمجھتا ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس