سرکاری حج سکیم کا پرائیویٹ سکیم سے مقابلہ کیوں؟

سرکاری حج سکیم کا پرائیویٹ سکیم سے مقابلہ کیوں؟
 سرکاری حج سکیم کا پرائیویٹ سکیم سے مقابلہ کیوں؟

  

عمرہ و حج بل کی کابینہ سے رسمی منظوری کے بعد قومی اسمبلی سے منظوری کے لئے تیاریاں مکمل ہیں جلد بازی اور سٹیک ہولڈر سے مشاورت کے بغیر عمرہ و حج بل کی قومی اسمبلی سے منظوری پر شدید ردعمل آ سکتا ہے ابھی وقت ہے مشاورت کی جانی چاہیے۔ سرکاری حج سکیم کے حوالے سے رانا طارق سرور کی سرکاری سکیم میں حج 2016ء کی ادائیگی کی یادیں اور تجاویز گزشتہ کالم کا حصہ بنیں تو رانا طارق سرور صاحب کا فون آیا میاں اشفاق صاحب پونے تین لاکھ میں خواری کے باوجود کچھ بُرا نہیں ہے ایک چیز تسلیم کریں سرکاری حج سستا ہے ان کی باتیں من و عن لکھ دی ہیں میں نے کبھی نہیں کہا کہ سرکاری حج بُرا ہے سستا نہیں ہے۔ میں نے ہمیشہ کہا ہے پرائیویٹ سکیم کے ساتھ سرکاری حج کا مقابلہ کیوں کیا جاتا ہے۔ سعودی حکومت کی طرف سے پرائیویٹ حج سکیم صرف پاکستان کے لئے متعارف نہیں کروائی گئی۔ پوری دنیا کے اسلامی ممالک میں شروع ہوئی ہے۔ سعودی تعلیمات کے مطابق پاکستان میں پرائیویٹ سکیم کا پودا لگانے والے اور پروان چڑھانے والے سابق وفاقی سیکرٹری جناب وکیل احمد خان، آغا سرور رضا قزلباش، ارشد بھٹی شوکت درانی پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے بنیادی خیال کو سمجھ کر مرحلہ وار آگے بڑھاتے رہے۔ علامہ حامد سعید کاظمی صاحب اور راؤ شکیل مبینہ پرکرپشن کے الزامات لگتے رہے ہیں، اس پر بات پھر کسی اور کالم میں کریں گے ۔

سرکاری حج اب بھی سو فیصد کرپشن سے پاک نہیں ۔ حوالے کے لئے عرض ہے مدینہ میں سرکاری حاجیوں کو کھانے کی فراہمی کا ایگریمنٹ فی حاجی 24 ریال ایک دن کا ہوا تھا ادائیگی 18 ریال میں کی گئی ہے۔ مکہ میں 28ریال کا ایگریمنٹ تھا ادائیگی 20ریال میں کی گئی میرے کالم کی اشاعت کے بعد مجھے فون پر کیٹرنگ کے ٹھیکہ دار خود تفصیلات بتا رہے ہیں۔ عمارتوں کے حصول میں کیا ہو رہا ہے کمیشن مافیا کا کتنا کردار ہے۔ آج کے کالم کا موضوع نہیں ہے اس بات کا کریڈٹ ضرور وزارت کو دوں گا کہ سرکاری حج سستا ہے۔ انتظامی امور میں جو کمی یا کوتاہی موجود ہے وہ سستے پیکیج کی چادر میں چھپ جاتی ہے۔ بات کر رہا تھا پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کی پوری دنیا کی طرح مقابلہ سازی کا رجحان ہمارے ہاں بھی تیزی سے ڈویلپ ہو رہا ہے سرکار مقابلے کی دوڑ میں شامل ہونے کے لئے میونسپل سروسز، پرائیویٹ ہسپتال پرائیویٹ ہاؤسنگ سوسائٹی، پرائیویٹ میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالجز پرائیویٹ یونیورسٹیز کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔ بیورو کریسی سے لے کر وزارت کے ذمہ داران تک اور حج آرگنائزر سے لے کر عام آدمی تک کی خواہش ہے ان کے بچے پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کریں اس کی وجہ جاننے کی ضرورت نہیں ہے۔ مقابلے کی دوڑ ہے آگے بڑھنے کی جستجو ہے ہر ایک فرد کو بہتر سے بہتر کے حصول کا حق ہے۔ اسی لئے میں کہتا آ رہا ہوں سرکاری سکیم بھی اپنی ہے اور پرائیویٹ سکیم بھی اپنی ہے۔ ادراک ضروری ہے۔

وزارت مذہبی امور کے ذمہ داران اس بات کا اعتراف کر چکے ہیں کہ پرائیویٹ سکیم کے آغاز کے بعد پاکستان میں نوجوان نسل میں عمرہ و حج کا شوق بڑھا ہے اس کا سروے کروا لینا چاہیے اس کے ساتھ ایک اور بات زیر بحث ہے کہ اگر ایک فرد صاحب استطاعت ہے وہ سرکاری حج سکیم کے سستے پیکیج میں حرم سے 12کلومیٹر دور رہنے اور ایک کمرے میں 5سے 6افراد کے ساتھ رہنے کی بجائے فورسٹار فائیو سٹار ہوٹل میں ڈبل پیڈ لینا چاہتا ہے اس میں کسی کو کیا تکلیف ہو سکتی ہے۔ سرکاری سکیم میں منیٰ، عرفات، مزدلفہ کے لئے 90فیصد مکتب مزدلفہ یعنی نیو منیٰ میں حاصل کئے جاتے ہیں۔ ہر حاجی کو شیطانوں کو کنکریاں مارنے کے لئے 3سے 4کلومیٹر جانا اور آنا پڑتا ہے اس کے مقابلے میں اگر پرائیویٹ سکیم میں کوئی صاحب حیثیت فرد ایک سے 8وی آئی پی مکتب یا B گریڈ میں مکتب لے کرجسم بورڈ کے خیموں میں رہنا چاہتا ہے۔ پرائیویٹ واش روم حاصل کرنا چاہتا ہے۔ منیٰ میں ڈبل بیڈ یا صوفہ کم بیڈ حاصل کرنا چاہتا ہے کھانے میں ملٹی ڈشز پر مبنی بوفے چاہتا ہے اس میں سرکار کا کیا جاتا ہے سرکاری اور پرائیویٹ سکیم کا کوئی مقابلہ نہیں ہے جو سرکاری حج میں جانا چاہتا ہے اس کو ضرور جانا چاہیے اس کے لئے کوٹہ مخصوص ہونا چاہیے اس کے طریقہ کار کو شفاف بنانا چاہیے۔ ہارڈشپ کے نام پر کسی کا استحصال نہیں ہونا چاہیے۔

اس سے بڑھ کر جو بات کرنی ہے سرکاری حج سکیم کے حجاج کے مسائل پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے مثلاً ایئر لائنز کا حاجیوں سے رویہ ۔شاہین ایئر لائنز نے حج 2016ء میں پاکستان سے صرف 20کلو وزن لے جانے کی اجازت دی ہے۔ روزنامہ ’’پاکستان‘‘ کے شور مچانے کے بعد اس کو واپسی میں 30کلو کی اجازت دی گئی۔ ایئر بلیو نے سرکاری اور پرائیویٹ حاجیوں کے ساتھ ناروا سلوک رکھا اس کا نوٹس ضروری ہے۔

سعودی ایئر لائنز سینکڑوں حجاج کا زم زم نہیں لائی اس کا نوٹس لینا چاہیے اللہ کے مہمانوں کی خدمت رہنمائی کا فریضہ انجام دینے کے لئے خدام الحجاج کی نامزدگی کے نظام کو شفاف بنانے اور ان کو ہونے والی ادائیگیوں کو شفاف بنانے کی ضرورت ہے۔ سب سے اہم بات جس کا اب تک وزارت مذہبی امور ادراک نہیں کرسکی وہ ہے 10کلو زم زم کی بجائے 5کلو زم زم کی اجازت دی جا رہی ہے۔

حاجی سرکاری ہو یا پرائیویٹ اللہ کا مہمان ہے۔ حج کا انمول تحفہ زم زم ہے۔ ایک حاجی کو 5کلو زم زم دیا جا رہا ہے۔30کلو سامان میں 20کلو سامان حاجی پاکستان سے لے جاتا ہے اب مکہ مدینہ سے 10کلو کھجوریں ہی لا سکتا ہے۔ ایک کلو اوپر ہو جائے تو حاجی کو ایئرپورٹ پر خوار کر دیا جاتا ہے۔30ریال فی کلو جرمانہ وصول کیا گیا ہے وزارت مذہبی امور حج 2017ء کے لئے ایئر لائنز سے ایگریمنٹ کرتے ہوئے سعودی ایئر لائنز کی طرح دیگر ایئر لائنز کو 45کلو سامان کے دو بیگ کی شرط رکھنی چاہیے اور چار ایئر لائنز کے علاوہ دیگر ایئر لائنز سے بھی ایئر فیئر اور سامان کے لئے کھلی آپشن دینے کی ضرورت ہے۔ کم از کم10کلو زم زم کی اجازت کے حوالے سے بھی سعودی حکومت سے بات کرنے کی ضرورت ہے۔

سرکاری حج سکیم میں ہر سال آخر میں VIP فلائٹ کی روایت ختم کرنا اچھا اقدام ہے لیکن اس کی جگہ سرکاری حج فارموں کی ہارڈشپ کے نام پر خرید و فروخت نہیں ہونا چاہیے۔ سرکاری حج سکیم اور پرائیویٹ حج سکیم کو برابری کی سطح پر تسلیم کرتے ہوئے مزید بہتری کے لئے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ پرائیویٹ حج سکیم کی نمائندہ ہوپ کی طرف سے مشاورتی حج ورکشاپ کے انعقاد کا آغاز خوش آئند ہے۔ وزارتِ مذہبی امور کی طرف سے گزشتہ کئی سال سے حج مشاورتی ورکشاپ کی خوبصورت روایت پہلے سے موجود ہے۔ کوئٹہ میں کامیاب ورکشاپ ہو چکی ہے۔19کو لاہور میں ہوگی 30نومبر تک یہ سلسلہ چلے گا اس ورکشاپ کو بھی ایک دوسرے کے خلاف ورغلانے اور استعمال کرنے کی بجائے منصوبہ بندی کے ذریعہ بنانے کی ضرورت ہے۔ (جاری ہے)

مزید : کالم