جہانگیر بدر مرحوم (1944-2016)

جہانگیر بدر مرحوم (1944-2016)
 جہانگیر بدر مرحوم (1944-2016)

  

جہانگیر بدر بھی اللہ کو پیارے ہوگئے۔میں کافی تھکا ہوا تھا صبح فجر کی نماز کے بعد بستر پر دراز ہوگیا۔ اچانک ٹیلی فون کی گھنٹی بجی، شاد باغ سے جناب محمد اسلام صاحب کا فون تھا۔ انہوں نے بتایا ابھی ابھی ٹیلی وژن پر خبر نشر ہوئی ہے کہ آپ کے پرانے ہمجولی جہانگیر بدر اللہ کو پیارے ہوگئے ہیں۔ انا للّٰہ وانا الیہ راجعون۔ ایک تاریخ آنکھوں کے سامنے گھوم گئی۔ جہانگیر بدر ایک فرد نہیں، ایک انجمن تھا۔جب میں 1968ء میں لاہور جمعیت کا ناظم بنا تو جہانگیر بدر ہیلی کالج جامعہ پنجاب میں ایم کام کے طالب علم تھے۔ ان سے پہلی ملاقات بارک اللہ خاں مرحوم نے کروائی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ ہمارے خالص لاہوریے دوست ہیں۔ جمعیت کے رفیق تو نہیں، البتہ جب بھی ہم ان کو پکاریں، یہ ہمیشہ لبیک کہتے ہیں۔ اس ملاقات کے بعد کئی مرتبہ مرحوم سے جامعہ پنجاب، ہیلی کالج اور انارکلی میں ملاقاتیں ہوئیں۔جہانگیر بدر بہت بے تکلف تھے ، عموماً لوگ جامعہ پنجاب سٹوڈنٹس یونین کے صدارتی انتخابات کے حوالے سے انہیں میرا مدمقابل سمجھ کر یہی تصور کرتے رہے کہ ہمارے درمیان مخاصمت تھی۔ یہ تاثر بالکل غلط ہے۔ بلاشبہ الیکشن کے دنوں میں کافی تلخی اور تناؤ پیدا ہوا تھا، مگر یہ محض ایک عارضی مرحلہ تھا۔جب میں مرحوم کے جنازے کے لئے جامعہ پنجاب پہنچا تو بہت بڑا ہجوم تھا۔ مجھے یاد آیا کہ ان فضاؤں میں جہانگیر بدر زندہ باد کے نعرے لگتے تھے۔ لیکن اس روز ہر شخص کی زبان پر تھا، ’’الوداع جہانگیر بدر الوداع، بدر تم ہمیشہ یاد رہو گے۔‘‘ سیاسی و دینی جماعت کے کارکنان و قائدین جنازے میں شریک تھے۔

جہانگیر بدر اندرونِ شہر لاہور میں ایک نچلے متوسط طبقے کے آرائیں خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد میاں بدر الدین کی اکبری دروازے کے اندر دکان تھی۔ جہانگیر بدر نے اپنی ساری زندگی خالص لاہوری ماحول میں گزاری۔ ان کے لب و لہجے میں آخر تک لاہور کی شناخت پوری شان و شوکت کے ساتھ موجزن رہی۔ وہ حرف ’’ر‘‘ کو ’’ڑ‘‘ ہی بولا کرتے تھے، بے تکلف دوستوں کے ساتھ ہمیشہ گھل مل جاتے۔ میرے ایک بزرگ دوست اور مشہور شاعر جناب عبدالرحمن بزمی مرحوم بھی لاہور سے خوب واقف تھے۔ وہ کوثر نیازی مرحوم کے ہم زلف اور جماعت اسلامی کے معروف رہنما عبدالحمید کھوکھر مرحوم کے بہنوئی تھے۔لندن میں ملاقات ہوئی توبزمی مرحوم کا ایک سوال یہ تھا کہ جہانگیر بدر نے آپ کے مقابلے پر یونیورسٹی میں الیکشن لڑا تھا، ان کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے۔ میں نے کہا وہ بہت اچھے انسان اور مخلص سیاسی ورکر ہیں۔ دورِ طالب علمی میں شروع میں ہم سے اچھا دوستانہ تعلق رہا۔ بعد میں انتخابی طلبہ سیاست میں ہم حریف بن گئے، مگر باہمی احترام اور تعلق کبھی نہ ٹوٹا۔ دورِ طالب علمی کے بعد بھی ہمارے آپس میں بہت اچھے روابط ہیں۔

میں نے بزمی صاحب سے پوچھا کہ جہانگیر بدر صاحب سے ان کی واقفیت کیسے ہوئی تو فرمانے لگے کہ میرے سسرال بھی جہانگیر بدر کے خاندان کی طرح اندرون لاہور مقیم تھے۔ میری خوش دامن مرحومہ اور جہانگیر بدر کی والدہ مرحومہ آپس میں بہت قریبی سہیلیاں تھیں۔ جہانگیر بدر مجھ سے ایک سال بڑے تھے، مگر دیکھنے میں ہمیشہ وہ مجھ سے چھوٹے لگتے تھے۔

جہانگیر بدر آخر دم تک چاق و چوبند اور مستعد رہے۔ وہ ایک ایسے مہم جو تھے، جس نے بچپن سے لے کر زندگی کے آخری لمحات تک جدوجہد کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا۔ ایف اے کے بعد ہیلی کالج میں بی کام میں داخلہ لے لیا۔ یہاں 1968-69ء میں ہیلی کالج سٹوڈنٹس یونین کے صدر منتخب ہوئے۔ میں نے بطور ناظم لاہور انہیں اس موقع پر خاص طور پر مبارک باد پیش کی اور جمعیت کے دفتر سعید منزل انارکلی میں انہیں چائے پر مدعو کیا۔یونین کی پوری کابینہ ہمارے دفتر میں آئی اور جمعیت کے سب ساتھیوں نے انہیں مبارک باد دی۔ بعد میں ہمارے مخالف کیسے بنے، یہ دلچسپ کہانی ہے۔ جناب ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے جب صدر ایوب خاں سے الگ ہو کر اپنی آزاد سیاسی زندگی کا آغاز کیا اور پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی تو جہانگیر بدر کو بھی بھٹو صاحب کی شخصیت نے بے پناہ متاثر کیا۔ وہ پیپلز پارٹی کے سٹوڈنٹس ونگ میں فعال کردار ادا کرنے لگے۔ اسی عرصے میں جامعہ پنجاب کی یونین جو چند برسوں سے معطل تھی، بحال ہوگئی۔ جامعہ پنجاب انتظامیہ کی طرف سے یونین کے الیکشن جنوری 1970ء میں منعقد کرنے کا اعلان ہوا۔ جمعیت کی طرف سے راقم کو صدارتی امیدوار نامزد کیا گیا۔ مقابلے پر کئی امیدوار تھے، ان سب کوپیپلز پارٹی کی قیادت نے جہانگیر بدر مرحوم کے حق میں دستبردار ہونے پر آمادہ کرلیا۔ عملاً جامعہ پنجاب کا یہ پہلا انتخاب تھا، جو جمعیت اور اینٹی جمعیت دھڑوں کے درمیان ون ٹو ون مقابلے کی صورت اختیار کر گیا۔ اس انتخاب میں جہانگیر بدر صاحب بہت مضبوط امیدوار تھے۔ جہانگیر بدر کم و بیش دو ہزار ووٹ لینے میں کامیاب ہوئے، جبکہ جمعیت کو 2100 سے کچھ زائد ووٹ ملے۔

اگلے سال پھر جہانگیر بدر صدارتی انتخاب میں کھڑے ہوئے، مگر اس بار بہت بڑے مارجن سے ہمارے امیدوار حفیظ خان کے مقابلے پر انتخاب ہار گئے۔ بعد کے ادوارمیں ہمارے آپس میں مسلسل رابطے رہے، مگر میں کینیا چلا گیا اور جہانگیر بدر پیپلز پارٹی میں قیادت کی منزلیں طے کرتے کرتے پارٹی کے صوبائی صدر، پھر جنرل سیکرٹری، ایم این اے، سینیٹر اور مرکزی وزیر کے عہدوں پر فائز ہوئے۔ میں بیرون ملک سے واپس آیا تو جہانگیر بدر پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر تھے۔ اس عرصے میں وہ جناب قاضی حسین احمد صاحب سے ملنے کے لئے منصورہ تشریف لاتے تو مجھے فون کر دیتے کہ میں بھی اس ملاقات میں شریک رہوں۔ جب مجھے جماعت اسلامی صوبہ پنجاب کا امیر بنایا گیا تو جہانگیر بدر صاحب نے خصوصی طور پر مبارک باد بھیجی۔ میں نے عرض کیا جہانگیر بھائی آپ کا شکریہ۔ آپ جانتے ہیں جماعت میں کسی پر کوئی ذمہ داری آن پڑے تو لوگ حلف اٹھاتے ہوئے روتے ہیں، اس لئے ہمارے ہاں ایسے مواقع پر مبارک باد کی بجائے احباب اظہار ہمدردی اور دعائیں کرتے ہیں کہ یہ بوجھ اٹھانے کا حق ادا کیا جاسکے۔ اس پر انہوں نے قہقہہ لگایا اور اپنے لاہوری انداز میں کہا ’’حافظ صاحب اسی وجہ سے جماعت اسلامی سیاسی میدان میں آگے نہیں بڑھ رہی کہ آپ لوگوں میں قیادت کا شوق، جذبہ اور ambitionمفقود ہوتا ہے‘‘۔ میں نے کہا یہ آپ کی رائے ہے مگر ہمارے آگے نہ بڑھنے کی وجوہات دیگر ہیں۔

جہانگیر بدر حقیقی معنوں میں اپنی پارٹی کے جیالے تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو مرحوم سے ان کو بے پناہ عقیدت تھی اور پھر بے نظیر بھٹو کے ساتھ تو انہوں نے سیاسی میدان میں بطور سیکرٹری جنرل اور وفاقی وزیر بہت قریب رہ کر کام کیا۔ جہانگیر بدر نے بے نظیر بھٹو پر ایک کتاب بھی لکھی، جس میں مرحومہ کی عقیدت اور محبت میں ڈوب کر انہوں نے خونِ جگر سینۂ قرطاس پر منتقل کیا ہے۔کچھ عرصہ قبل جہانگیر بدرکے گردے متاثر ہوگئے تھے اور قلبی مرض بھی لاحق تھا۔ کچھ عرصہ قبل رہایش علی ٹاؤن میں منتقل کرلی۔ اب ٹیلی فون پر تو رابطہ رہتا تھا، مگر افسوس کہ آخری دنوں میں ملاقات نہ ہوسکی۔ میں نے جب بھی ان کا حال معلوم کرنے کے لئے فون کیا تو انہوں نے بڑے اطمینان کے ساتھ کہا آپ دعا کیجیے میں ان شاء اللہ ٹھیک ہوجاؤں گا۔ میں نے ایک دن عرض کیا کہ میں چاہتا ہوں آپ سے ملاقات کروں، پھر اس خیال سے حاضری نہیں دیتا کہ آپ ڈائیلسز کی وجہ سے معلوم نہیں کس کیفیت میں ہوں گے۔ وہ یہی کہتے کہ اصل چیز تو دعا ہے، جو بندے کے حق میں نفع بخش ہوتی ہے، میں آپ کی دعاؤں کا محتاج ہوں۔

مرحوم کا بہت وسیع حلقۂ تعارف تھا، دورِ طالب علمی سے لے کر آخر دم تک وہ سرگرمِ عمل رہے۔ زندگی کے آخری دو سال ان کی نقل و حرکت محدود ہوگئی تھی۔ اپنی وزارت کے دوران انہوں نے اپنے حلقے میں جو کام کروائے،لوگ اب تک ان کویاد کرتے ہیں۔ ان کے جنازے کے موقع پر کچھ احباب نے بالخصوص تذکرہ کیا کہ اندرون شہر سوئی گیس پہنچانے کا مطالبہ جب بھی کیا گیا حکمرانوں نے یہی کہا کہ تنگ گلیوں کی وجہ سے یہ ممکن نہیں ہے، مگر جہانگیر بدر کی کاوشوں سے یہ اہم عوامی مسئلہ حل ہوا تو اندرون شہر کے لوگوں نے چین کا سانس لیا۔اللہ تعالیٰ مرحوم کی انسانی لغزشوں سے درگزر فرمائے اور ان کی اگلی منزلیں آسان فرمائے۔ جنازہ بہت بڑا تھا، مرحوم کے ورثا سے ملاقات کا موقع نہ مل سکا۔ میں تعزیت کے لئے گھر حاضر ہوا تو برادرم تنویر صادق، عزیزان علی بدر اور جہانزیب بدر نے اسی اپنائیت اور محبت سے استقبال کیا جو مرحوم دوست کاخاصا تھا۔ علی بدر کو دیکھیں بالکل یہی لگتا ہے کہ جہانگیر بدر سامنے آگئے ہیں۔ اللہ مرحوم کے گلستان کو آباد رکھے۔

مزید : کالم