نمائشی صدقے کا گوشت

نمائشی صدقے کا گوشت
نمائشی صدقے کا گوشت

  

خواتین و حضرات! صدقہ بلاوں کو ٹالتا ہے اس میں کوئی شک کی گنجائش نہیں۔ تاہم لاہور کی مصروف سڑکوں پر فروخت کیا جانے والا صدقے کا گوشت بلاؤں کو دعوت دیتا ہے، اس میں بھی کوئی شک کی گنجائش نہیں۔ آپ نے یہ منظر ہر روز ملاحظہ کیا ہوگا اور بالخصوص منگل اور جمعرات کے روز تو سڑکوں پر کھڑے صدقے کا گوشت فروخت کرنے والوں کا رش ہوتا ہے اور اسی مناسبت سے اس گوشت کے خریدنے والوں اور اپنے سروں سے اس گوشت کو و ارنے والوں کا بھی رش ہوتا ہے۔ اس سے کیا کیا مسائل پیدا ہوتے ہیں وہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں۔ ہمیں حیرت ہے کہ اس ’’نمائشی صدقے‘‘ کی ابتداء کس نے کی۔ کیا یہ گوشت دوکانوں پر فروخت نہیں ہوسکتا اور کیا یہ گوشت وہاں سے خرید کر صدقہ نہیں دیا جاسکتا؟کیا اس کے لئے ایک مصروف سڑک کو بلاک کرنا ضروری ہے؟

صدقے کا گوشت فروخت کرنے والے بچے، نوجوان اور بوڑھے بہت سیانے ہیں۔ وہ انسانی جذبات اور کمزوریوں سے کھیلنے کا فن خوب جانتے ہیں۔ بالخصوص لاہور شہر سے باہر نکلنے والے راستے ان کے من پسند مقامات ہیں، یہاں وہ ’’خیری جانویں۔ خیری آنویں‘‘ کا نعرہ بلند کر کے مسافروں کی جیب بآسانی ہلکی کروالیتے ہیں۔ تاہم ہمیں اس پر بھی غور کرنا ہوگا کہ یہ لوگ صرف انسانی جذبات سے نہیں کھیل رہے بلکہ انسانی جانوں سے بھی کھیل رہے ہیں۔ گاڑیوں کے پیچھے بھاگتے بچے کسی روز کسی حادثے کا شکار ہو سکتے ہیں۔ صدقے کا گوشت فروخت کرنے اور ان کیخریدنے والوں کی وجہ سے ٹریفک بلاک رہتی ہے، لوگ تاخیر کا شکار ہوتے ہیں اور یہ سارا عمل کسی حادثے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ کیا ہم کسی بڑے حادثے کا انتظار کر رہے ہیں، اور اس کے بعد ان کے خلاف کارروائی کریں گے، جو سڑکوں پر ایک طرح کی ناجائزتجاوزات کی شکل پھیلے ہوئے ہیں۔مزے کی بات ہے کہ ان کا ڈیرہ مصروف ترین سڑکوں اور شاہراہوں پر ہوتا ہے جن میں نہر کے کنارے، راوی کے پل پر، پنجاب یونیورسٹی کی سڑک پر، شادمان کی مین روڈ پر اور ہسپتالوں کے اردگرد، جہاں پہلے ہی ٹریفک بلاک رہتی ہے۔یہ کاروبار اس پریشانی میں مزید اضافہ کرتا ہے، اس کے علاوہ ایک بڑا مسئلہ گند پھیلانے اور پلاسٹک کے شوپر بیگ کے ڈھیر لگانا بھی ہے۔ یہ شوپر بیگ جو پلاسٹک کے بنے ہوتے ہیں، کبھی بھی ضائع یا ختم نہیں ہوتے۔ یہ کوڑے کا ایک اہم جزو بنتے ہیں۔ان کی غیر موجودگی سے پہلے شہر بھر کا کوڑا کرکٹ ایک بہتری قدرتی کھاد کے طور پر استعمال ہوتا تھا،اب ان شوپر بیگز کی موجودگی سے یہ زمین کی ذرخیزی کو تباہ کرنے کا باعث بن گیا ہے۔

راوی دریا کے پل پر ان گوشت فروخت کرنے والوں کاوجود ہماری زراعت، معیشت اور ماحولیات کی تباہی کا باعث ہے۔ راوی کا پانی ان کے استعمال شدہ شوپر کی وجہ سے آلودہ تر ہو جاتا ہے اور جہاں جہاں یہ پانی جاتا ہے، شوپر بیگز کا تحفہ بھی ساتھ جاتا ہے۔ اس صدقے کے گوشت کی یوں سڑکوں پر فروخت کے باعث لاتعداد پرندے کوئے اور چیلیں منڈلاتے رہتے ہیں۔ یہ صدقے کا گوشت فروخت کرنے والوں کا یوں مصروف شاہروں پر دندناتے پھرنا اور کاروبار کرنا اس حوالے سے بھی باعثِ حیرت ہے کہ اب تک کسی پولیس والے، شہرکی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والوں کی نظر ان پر نہیں پڑی۔ ہماری دانست میں یہ تمام لوگ بھی اس جرم اور تکلیف دہ صورت حال کا حصہ ہیں۔ یوں تو ہماری پولیس ہر ایسی جگہ پہنچ جاتی ہے۔جہاں چڑیا پر نہیں مار سکتی لیکن یہ سڑکوں فٹ پاتھوں اور پلوں پر ہوتا خطر ناک کام ان کی نظروں کے سامنے کس ڈھٹائی سے جاری ہے،اس پر ان کی کوئی نظر، کوئی توجہ نہیں۔ کیا عجب کل کو یہی لوگ انہی مقامات پر اپنے مستقل کاروبار کے لئے اڈے اور دکانیں سجالیں۔ ہماری پولیس کبھی اتنی بے بس تو نہ تھی۔ہمیں یہ بھی گمان ہوتا ہے کہ اورنج ٹرین کے چلتے یہیصدقہ کا گوشت فروخت کرنے والے اورنج ٹرین کے پلیٹ فارم پر،اس کے افتتاح سے پہلے، ٹرین کا صدقہ اتارنے پہنچ چکے ہوں گے۔

آپ سوچ سکتے ہیں کہ اس گوشت کے فروخت کرنے والے غریب لوگ ہیں، مجبور اور بے بس۔لیکن اتنے سارے اندیشوں، خطرات اور رسک کے ساتھ یہ کام کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، جس سے شہر کے لاکھوں لوگوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑے۔یہ کاروبار کسی اور جگہ، گلی محلوں یار مارکیٹ میں دکانوں پر کیا جاسکتا ہے،خدا نہ کرے کہ اس خطر ناک کاروبار سے کوئی سنگین واقعہ یا حادثہ پیش آئے۔ انتظامیہ اس معاملے کا سنجیدگی سے نوٹس لے، ایسا نہ ہو کہ کہیں دیر ہو جائے اور کسی کی زندگی اندھیر ہو جائے۔ خدا محفوظ رکھے ہر بلا سے۔ ایک جانب ہماری پولیس اس قدر چاق و چوبند ہوتی ہے کہ کسی وی آئی پی کے گزرنے سے بہت پہلے سڑکوں کو بند کرنا شروع کردیتی ہے قطع نظر اس کے ، کہ کوئی مریض ایمبولینس میں بے ہوش پڑا ہے یا کوئی خاتون رکشہ میں ایک بچے کو جنم دے رہی ہے، لیکن صدقے کے گوشت کی سڑکوں چوراہوں پر کھلے عام فروخت اور چیل کوؤں کی ’’دعوت‘‘ ان کی نظروں سے کیوں اُوجھل ہے۔یہ مسئلہ کارپوریشن والوں کا یعنی سٹی گورنمنٹ یا ٹی ایم اے کی شکل میں اتنا ہی متعلقہ ہے جتنا ضلعی اور شہری انتظامیہ کا۔ خواتین و حضرات! آپ کے علم میں ہے کہ اب کچھ جدید طرز کے خود مختار ادارے بھی بن گئے ہیں جن میں خاص طور پر اربن یونٹ، صاف لاہور وغیرہ قسم کے ادارے شامل ہیں، جن کی گاڑیاں شاں شاں کرتی نظر آتی ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ لاہور کی صفائی میں ان کا اہم کردار ہے۔ان اداروں کو بھی صدقے کے گوشت فروخت کرنے والوں پر نظر رکھنا ہوگی۔یہ صفائی اور ماحولیات کا مسئلہ بھی ہے۔

مزید : کالم