ڈاکٹر زاہد منیر عامر: طلبِ علم سے طلبِ شہرت تک!

ڈاکٹر زاہد منیر عامر: طلبِ علم سے طلبِ شہرت تک!
 ڈاکٹر زاہد منیر عامر: طلبِ علم سے طلبِ شہرت تک!

  

کوئی 32,30 برس ادھر کی بات ہے میری نظر سے دو کتابیں گزریں: ’’مکاتیب ظفر علی خاںؒ ‘‘ اور ’’سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ اور پاکستان‘‘۔ جب مصنف محترم زاہد منیر عامر سے ملاقات ہوئی تو ان کی کم عمری کو دیکھتے ہوئے باور نہیں آیا کہ ان دو اچھی کتابوں کے وہی مصنف ہیں، لیکن جب مکالمہ ہوا اور ان کے علمی منصوبوں پر بات چیت ہوئی تو ماننا پڑا کہ واقعی انہیں قدرت کی طرف سے علم کی سچی لگن عطا ہوئی ہے۔ اس وقت وہ بی اے کے طالب علم تھے ۔

گریجوایشن کے بعد ایم اے کرنے کے لئے اورینٹل کالج کے شعبہ اُردو میں آ گئے، یوں میری ان سے اکثر ملاقات رہنے لگی (میں اس وقت وہاں شعبہ پنجابی میں لیکچرار تھا) وہ ایم اے کرنے کے بعد تدریس سے وابستہ ہوگئے۔ 1999ء میں انہوں نے پی ایچ ڈی کی ڈگری لے لی۔ تحقیقی مراحل میں انہیں ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا ایسے ادبیات کے نامور اُستاد کی سرپرستی حاصل رہی۔ ایچی سن کالج میں ایک سال استاد رہے تو کالج کا ایک صدی پرانا ریکارڈ کھنگال ڈالا جس کی بنیاد پر چار قسطوں پر مبنی ایک سلسلۂ تحریر قومی ڈائجسٹ کی نذر کیا، جس میں کئی انکشافات تھے۔

وقت گزرتا گیا، ڈاکٹر زاہد یونیورسٹی اورینٹل کالج میں لیکچرار مقرر ہوگئے اور آج وہ ماشاء اللہ پروفیسر ہیں۔ اس دوران وہ مصر کی اقبال چیئر پر بھی تین سال گزار آئے۔ اردگرد کے دو چار ملکوں کی سیر و سیاحت بھی کرلی۔ علم کا شوق تھا تو قدرت نے ترقی کے مواقع بھی خوب عطا کئے۔ کوئی سال بھر یونیورسٹی کی ظفر علی خان چیئر پر بھی فائز رہے۔ جنرل ارشد محمود کی وائس چانسلری کے دور میں انہوں نے پنجاب یونیورسٹی کی تاریخ (جلد دوم) بھی لکھ ماری۔ ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر بھی بے شمار پروگرام کرچکے ہیں ۔اب ان کے علمی و ادبی ’’کارناموں‘‘ کے بارے میں 800 صفحات پر مشتمل ایک خاصی وزنی کتاب بعنوان ’’ڈاکٹر زاہد منیر عامر، مفکر و اقبال شناس‘‘ منظر عام پر آئی ہے۔ (وزنی ان معنوں میں کہ کاغذ کافی دبیز برتا گیا ہے) کتاب کے مرتب جناب ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم ہیں جو ان کے ہم وطن ہیں اور اُردو کی تدریس ہی سے وابستہ رہے ہیں۔قارئین کی خدمت میں یہ بھی عرض کر دوں کہ کتاب کی قیمت4500روپے رکھی گئی ہے، حالانکہ اِس ضخامت کی کتاب کی اتنی قیمت تو لاہور کا کوئی بڑے سے بڑا اشاعتی ادارہ بھی نہیں رکھتا۔ممکن ہے اتنی بڑی قیمت رکھنے سے انہیں بہت بڑی رائلٹی ملنے کی توقع ہو یا ممکن ہے ان کی مالی معاونت ہی سے کتاب چھپی ہو۔ زیادہ امکان یہی ہے،جہاں تک کتاب کے مندرجات کا تعلق ہے تو اسی پر کلام کرنے کیلئے میں نے قلم اُٹھانے کی ضرورت محسوس کی ہے۔

ڈاکٹر زاہد صاحب اپنی ذات میں بلاشبہ ایک علمی اورادبی شخصیت ہیں۔ انہوں نے جو کچھ لکھا محنت اور تحقیقی ذوق کے ساتھ لکھا۔ ان کی قدر افزائی بھی ہوئی ہے۔ معاصر سینئر مشاہیر ادب نے ان کی کاوشوں کو جس طرح سراہا اس کی مذکورہ کتاب سے بخوبی شہادت مل سکتی ہے، لیکن یہی کتاب اس بات کی بھی کھلی گواہی دیتی ہے کہ موصوف کو خود نمائی کا بھی بہت شوق ہے۔ ظاہر ہے یہ کتاب ان کے تعاون، رضامندی بلکہ رہنمائی کے بغیر مرتب نہیں ہوسکتی تھی۔ ان کی ایک کتاب ’’آئینہ کردار‘‘ ہے، جس پر وائس چانسلر صاحب نے یونیورسٹی اساتذہ اور ملازمین سے رائے مانگی تو لوگوں نے جو تاثرات پیش کیے وہ سب اس کتاب کی زینت بنے ہیں۔ لکھنے والے اپنے سربراہ ادارہ کو ناراض تو نہیں کرنا چاہتے ہوں گے۔ یوں یہ کتاب رطب و یابس کا مجموعہ بن گئی ہے۔ تکرار نے تو اور ہی ستم ڈھایا ہے۔ انہوں نے اپنی کتابوں پر لکھے گئے سارے چھوٹے موٹے تبصروں کو بھی شامل کرنا ضروری سمجھا ہے، حالانکہ کتابوں پر ایک تو سرسری سے تاثرات لکھے جاتے ہیں، مقصد لکھاری کا حوصلہ بڑھانا ہوتا ہے، ان کی علمی اور ادبی طور پر کچھ وقعت نہیں ہوتی۔ دوسرے تبصرے یا مضامین وہ ہوتے ہیں جن پر کتاب کے حسن و قبح پر کھل کر بحث کی جاتی ہے۔ وہی اس لائق ہوتے ہیں کہ جو ایسی کسی کتاب میں شامل کیے جاتے ہیں لیکن ایسی وقیع کوئی ایک تحریر بھی اس ضخیم کتاب میں نہیں ملتی۔ مشاہیر ادب کی تحریریں اُس وقت کی ہیں جب ابھی ڈاکٹر زاہد کی لکھا پڑھی شروع ہوئی تھی اور اہل کمال اُن کی حوصلہ افزائی کرنا چاہتے تھے۔

کتاب کا ٹائٹل قاری کو چونکا دیتا ہے کہ یہ کون ہے جسے اپنے مفکر اور اقبال شناس ہونے کا بہت زعم ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ فاضل مرتب اور خود ڈاکٹر صاحب ’’مفکر‘‘ اور ’’اقبال شناس‘‘ ہونے کے مفہوم سے سرے سے آگاہ ہی نہیں۔ وہ شاید نہیں جانتے کہ دنیا کن لوگوں کو مفکر اور اقبال شناس سمجھتی ہے۔ کیا ایسے لوگ بھی مفکر ہوسکتے ہیں جو اپنے بائیو ڈیٹا میں خصوصیت سے ذکر کرنا نہیں بھولتے کہ وہ رکن بورڈ آف سٹڈیز ہیں، رکن سالانہ رپورٹ کمیٹی، رکن ہاؤس الاٹمنٹ کمیٹی، ڈائریکٹر سٹوڈنٹ افیئرز، کنٹرولر امتحانات ایسے مناصب پر بھی آج فائز ہیں یا ماضی میں رہے ہیں لیکن نہیں، ایسے تفصیلی کوائف تو اونچے مناصب تک پہنچنے کے لئے سیڑھی کا کام دیتے ہیں۔

زیر نظر کتاب سے پہلے انہوں نے ’’ارمغان ڈاکٹر خورشید رضوی‘‘ ترتیب دی تھی۔ اہل علم حیران و پریشان ہوئے کہ یہ کیسا ارمغان ترتیب دیا گیا ہے۔ یہ تو وہ سب تحریریں ہیں جو ڈاکٹر صاحب کے فن اور شخصیت پر ان کے معاصرین نے قلمبند کی تھیں۔ ارمغان کی روایت تو یہ ہے کہ اہل علم و تحقیق سے نہایت اعلیٰ پایہ کے مضامین و مقالات لکھوا کر کسی بڑی شخصیت کے حضور پیش کیے جاتے ہیں لیکن زاہد منیر عامر صاحب نے ارمغان کی ایک عجیب سی طرح ڈال دی ہے۔ یوں لگتا ہے وہ اورینٹل کالج کے بعض ان اساتذہ کے نقوشِ پا پر چل پڑے ہیں جن کے دماغوں پر کتابوں کی تعداد بڑھانے اور اہلِ زمانہ کو اپنے علم و فضل سے مرعوب کرنے کا خبط سوار ہوتا ہے۔ ان کی تحقیق کے اس انداز کو کیا نام دیا جائے کہ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی کی جو تاریخ لکھی ہے اس میں میرے بارے میں لکھا ہے:

’’ شعبے کے ایک اور نمایاں اُستاد خالد ہمایوں ہیں جو یکم ستمبر1982ء کو شعبے سے لیکچرر کے طور پر وابستہ ہوئے اور 16جنوری1992ء کو اسسٹنٹ پروفیسر مقرر کئے گئے، ان کے مضامین و مقالات وقتاً فوقتاً قومی پریس میں شائع ہوتے رہتے ہیں اور بعض کتابیں بھی شائع ہو کر مقبول ہو چکی ہیں‘‘۔(تاریخ جامعہ پنجاب2004ء ص357:) حالانکہ میری صرف ایک ہی کتاب ہے جو شریف کنجاہی مرحوم کے طویل انٹرویو پر مشتمل ہے اور وہ کوئی ایسی مقبول بھی نہیں۔اس کے علاوہ جو کچھ لکھا ہے اس کو مرتب کرنے کی راقم الحروف کو آج تک فرصت نہیں ملی۔ قارئین ہی فیصلہ کریں کہ جو محقق محض سنی سنائی یا اپنے ہی اندازے سے کام لینے لگے اس کی تحقیق و تنقید کا معیار اور اعتبار کیا ہو گا!

مزید : کالم