سیاسیات، جنگ و جدال اور چھٹی حِس!(2)

سیاسیات، جنگ و جدال اور چھٹی حِس!(2)
سیاسیات، جنگ و جدال اور چھٹی حِس!(2)

  

پہلی مثال

بعض کمانڈر بغیر کسی سابقہ عسکری تجربے کے محض وجدان کے سہارے ایک ایسا کمانڈ فیصلہ کرنے پر قادر ہوئے جس کا نتیجہ حیرت انگیز کامیابی کی صورت میں نکلا۔ انہوں نے نہ تو عام معلومات کی فراہمی کی پرواہ کی۔ نہ اعدادوشمار کی کمی بیشی سے خائف ہوئے اور نہ کوئی عرصہ ء دراز غوروخوض میں صرف کیا بلکہ بے خطر اور جھٹ پٹ آتشِ نمرود میں کود گئے۔ یہ وجدان کی اعلیٰ ترین قسم تھی۔ مجاہد اعظم نبی مکرمؐ کی ذات میں اس مثال کی بین جھلک اور ثبوت موجود ہے۔ ایک ایسی ہستی جس نے پہلے کبھی جنگ و جدل کی کوئی ٹریننگ ہی حاصل نہ کی ہو، جو ساری دنیا کے لئے رحمت بن کر آیا ہو اور جو سرتاپا عفو و کرم ہو اس کو بارگاہ خداوندی سے حکم ملے کہ اپنے پہلے تبلیغی رویئے کو چھوڑ کر کافروں کے لئے تادیبی رویہ اپنایئے، وہ اگر باتوں سے نہ مانیں تو لاتیں استعمال کیجئے اور پوری مسلمان قوم کو میدان جنگ میں اتارنے کیلئے کمر باندھ لیجئے تو کیا یہ ایک انتہائی مشکل چیلنج نہیں ہوگا؟ لیکن سرکار دوعالم مجاہداعظم ؐ کو اپنی اشاعت اسلام کی حکمت عملی کو 180ڈگری تبدیل کرنا پڑا۔ سن 2ہجری سے لے کر آنحضورؐ کی وفات تک درجنوں غزوات اور سریات لڑے گئے۔ ان میں تمام عسکری چالوں کو آزمایا اور برتا گیا۔ خندقی جنگ و جدل کی ابتداء، میدان جنگ کا انتخاب، انصرامی (Logistic) پہلوؤں کی دیکھ بھال، ٹیکٹکس کا استعمال، ہتھیاروں اور سازوسامان کا چناؤ، وقت اور فاصلہ کا درست تعین، ٹروپس کی صف بندی، حساس مقامات اور عقبی علاقوں کی حفاظت، شہری سیکیورٹی کے نظام کی ابتداء، جنگی قیدیوں سے سلوک کی حکمت عملی، مالِ غنیمت کی تقسیم، ڈسپلن، شہیدوں کی تدفین، عسکری مجلس شوری کا قیام، مورال کے تمام تقاضوں کی تکمیل اور لام بندی کے انتظامات۔ الغرض وہ کون سا عسکری شعبہ اورپہلو تھا جس میں آپؐ نے تخلیق کاری اور وجدان سے بدرجہ اتم کام نہ لیا۔

دوسری مثال

ایک عرصہ تک غوروفکر اور تفکر و استغراق کے بعد وجدانی فیصلے کرنا بعض معروف کمانڈروں کا خاصہ رہا ہے۔۔۔ سکندراعظم نے ہندوستان میں اپنا آخری معرکہ دریائے جہلم کے کنارے لڑا۔ دوسرے کنارے پر راجہ پورس کی ٹڈی دل فوج موجود تھی۔ اِدھر یونانیوں کے سامنے دریائے جہلم ٹھاٹھیں مار رہا تھا اور اُدھر دوسرے کنارے پر پورس کے ہاتھی قطار اندر قطار کھڑے تھے۔ ان کے پیچھے رسالے کی یونٹیں تھیں اور پھر انفنٹری کے ڈویژن تھے۔ خود راجہ پورس قلب لشکر میں ایک نہایت مضبوط فورس کے ساتھ موجود تھلہ سکندر کئی روز تک دریا کے گھریلو کنارے پر خیمہ زن رہا اور عبورِ آب کی تدابیر پر غور و خوض کرتا رہا۔ کنارے کے ساتھ ساتھ کئی کئی فرلانگ آگے پیچھے جا کر ریکی کرتا رہا اور آخر کار ایک ایسا مقام دریافت کرلیا جو اگرچہ عبور کے لئے مشکل تھا لیکن اس سے ناگہانیت کا عنصر ضرور حاصل ہوسکتا تھا۔ سکندر کے وجدان نے فیصلہ کیا کہ اگر اس مشکل مقام سے دریا عبور کیا جائے تو پورس کے دیکھا بھال کرنے والے دستے شاید وہاں زیادہ چوکس اور مستعد نہ ہوں۔ سکندر کے عسکری مشیر اور ماتحت کمانڈر اسے یہی مشورہ دیتے رہے کہ یہ مقام عبورِ دریا کے لئے مناسب نہیں۔ سکندر گومگو کی کیفیت میں گرفتار رہا۔ آخر کار اس کے وجدان نے فیصلہ کیا کہ دریائے جہلم کو اگر اس مقام سے عبور کرکے پورس کی فوج پر شب خون مارا جائے تو کامیابی کے امکانات بہت روشن ہیں۔ چنانچہ اس نے عام روش سے ہٹ کر ، اپنے ماتحت کمانڈروں کی رائے کے برعکس اور پورس کے کمانڈروں کی توقعات کے برخلاف جس جگہ سے دریا کو پار کرکے ناگہانی شبانہ حملہ کیا اس نے اسے ایک تاریخی کامیابی سے ہمکنار کر دیا۔ یہ کمانڈ فیصلہ سراسر سکندر کے وجدان کاربین منت تھا۔

تیسری مثال

تیسری کیٹیگری میں وہ کمانڈر شامل ہیں جو انتہائی غوروخوض کے بعد ایک دم وجدان سے رہنمائی مانگتے ہیں اور پھر فیصلہ کر دیتے ہیں۔۔۔۔ یہ اگست 1950ء کی بات ہے۔ کوریا کی جنگ شدت اختیار کر چکی تھی۔ امریکی آٹھویں فوج (Eighth Army)کو چین اور شمالی کوریا کی افواج سے تقریباً شکست کا سامنا تھا۔ اگر فی الفور اس کی مدد نہ کی جاتی تو عین ممکن تھاکہ اس امریکی فوج کو شکست فاش ہو جاتی۔ اس لئے کوریائی ٹروپس پر دباؤ ڈالنے کے لئے شمالی کوریا میں سمندر کے راستے امریکی فوج اتارنے کا فیصلہ کیا گیا۔ شمالی کوریا کی دو ہی بندرگاہیں ایسی تھیں جن پر یہ افواج اتاری جا سکتی تھیں۔ ایک کا نام انچن (Inchin) تھا اور دوسری کا کن سان (Kunsan) تھا۔ انچن پر لینڈنگ انتہائی مشکل تھی۔ اس مقام پر مدو جزر بھی ناقابل اعتبار تھا۔ پورے مہینے میں صرف دو دن ایسے آتے تھے جن میں سمندر کی لہریں انچن کی طرف رخ کرکے اس کو کسی وسیع پیمانے کی لینڈنگ کے قابل بناتی تھیں۔ پھر یہ بھی تھا کہ یہ لینڈنگ زیادہ سے زیادہ 15ستمبر تک ممکن ہو سکتی تھی۔ چنانچہ امریکی بحریہ اور میرین کے سینئر افسروں نے انچن لینڈنگ کو خطرناک قرار دیا اور اس کی بھرپور مخالفت کی۔ ان کی مخالفت مختلف معلومات، اعدادوشمار اور واقعات و صورت احوال پرمبنی تھی۔ عقل کہتی تھی کہ یہ لینڈنگ نہ کی جائے، یہ ایک جواء ہے اور امریکہ کو یہ جواء نہیں کھیلنا چاہیے۔ لیکن کلاسیوٹز کا تو کہنا ہی یہ ہے کہ کاروبارِ حرب و ضرب’’ بے یقینی اور ممکنات کی سلطنت‘‘ کا ایک صوبہ ہے اور ناگہانیت (SURPRISE) کی افادیت و اہمیت بھی جو عسکری آپریشنوں کے لئے تقویت کا باعث بنتی ہے وہ کسی وضاحت کی محتاج نہیں۔

23اگست1950ء کو بحرالکاہل کو تھیٹر آف وار میں امریکی افواج کے سپریم کمانڈر جنرل ڈگلس میکارتھر نے تقریباً70منٹ تک اپنی بحریہ اور میرین فورس کے اعلیٰ افسروں کی بریفنگ سنی۔ ان تمام کا استدلال یہ تھا کہ اس خطرناک لینڈنگ سے احتراز کیا جائے ۔لیکن یہ تمام کچھ سننے کے باوجود میکارتھر کا وجدان کہہ رہا تھا کہ لینڈنگ کامیاب ہو گی۔ چنانچہ وہ اٹھا اور فیصلہ سنایا کہ ’’لینڈنگ 13اور 15 ستمبر 1950ء کے درمیان کسی بھی دن کرنے کی تیاریاں کی جائیں‘‘۔۔۔ لوگ دم بخود رہ گئے۔ ماحول پر خاموشی چھا گئی۔ بہت سے ایڈمرل اور چار ستاروں والے جنرل اس فیصلے پر حیران ہوئے۔لیکن تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ 15 ستمبر 1950ء کو یہ لینڈنگ انچن کی بندرگاہ پر ہوئی۔ پانی کی لہریں امریکی افواج کا ساتھ دے رہی تھیں۔ کوریا والے حیران رہ گئے۔ یہ ان کے لئے شدید ناگہانیت تھی۔ اب ان کو اپنی سرزمین ہی پر امریکی فوج سے نمٹنے کی مشکل درپیش تھی۔ آٹھویں فوج پر دباؤ کم ہو گیا اور نتیجہ یہ نکلا کہ میکارتھر کے اس وجدانی فیصلے نے امریکہ کو ایک خطرناک شکست سے بچا لیا۔

وجدان کی اہمیت

امریکہ، برطانیہ، روس، فرانس اور جرمنی دوسری جنگِ عظیم کے بڑے بڑے فریقوں میں سے تھے۔ ان کی بیشتر افواج میں وجدان کی اہمیت کو تسلیم تو کیا جاتا تھا،لیکن اس صفت یا اس خصوصیت کو سیکھنے اور حاصل کرنے کی طرف بہت کم توجہ دی جاتی تھی، جہاں تک سوویت یونین کا تعلق ہے تو روسی افواج تو وجدان کی افادیت اور اس کی موجودگی کو سرے سے تسلیم ہی نہیں کرتی تھیں۔ ان کا فلسفہ زندگی جن بنیادوں پر استوار تھا اس میں غیر مادی پہلوؤں پر کم ہی توجہ دی جاتی تھی۔ خرو شچیف کے زمانے جب روس نے اپنا پہلا خلائی سیارہ زمین کے مدار میں بھیجا تھا تو نکتیا نے ازراہِ تمسخر عالمی پریس کو یہ بتایا تھا کہ ہمارے خلا نوردوں نے خلا میں دور دور تک دیکھا لیکن ان کو تو (نعوذ بااللہ) خدا کہیں نظر نہیں آیا۔ مار کسی نظریہء حیات کی حامل سوسائٹی میں وجدان جیسی ماورائی اور وہبی ودیعتوں کا تصور جس قسم کا ہو سکتا ہے وہ ظاہر و باہر ہے۔چنانچہ سوشلسٹ یا کمیونسٹ افواج میں وجدان کی اہمیت کی طرف کچھ توجہ نہ دی گئی۔ ان کے کمانڈ فیصلے تمام کے تمام سائنسی، منطقی اور مادی وجوہات و اسباب پراستوار سمجھے اور کئے جاتے تھے۔

فرانسیسی افواج کا بھی کچھ یہی حال تھا۔ جرمن افواج نے اگرچہ حیرت انگیز کامیابیاں حاصل کیں۔لیکن ان کامیابیوں کے اسباب پر غور کیا جائے تو بظاہر یہ بڑی پُراسرار نظر آتی ہیں۔لیکن پُراسراریت کی اس دھند کے باوجود لوگ ہٹلر کی قوت فیصلہ کو کسی وجدان کا مرہون احسان نہیں گردانتے تھے بلکہ اسے صرف ایک شخصی یا انفرادی خصوصیت سمجھتے تھے اور ہٹلر کو ایک مافوق الفطرت ہستی کے طور نمایاں کرنے میں فخر محسوس کرتے تھے۔ ہٹلر نے جو عجیب غریب فیصلے کئے اور اس سے بھی زیادہ عجیب و غریب کامیابیاں اور فتوحات حاصل کیں، وہ جرمن افواج کے کھاتے میں نہیں صرف ہٹلر کے ذاتی کھاتے میں ڈالی جاتی ہیں۔ جرمن فوج میں ’’آفٹر آگس ٹیکٹیک‘‘ کا تصور بھی وجدانی نہیں بلکہ سائنسی خطوط پر مبنی سمجھا جاتا ہے، جس میں کم سے کم معلومات کی روشنی میں جلد سے جلد کمانڈ فیصلے کرنے کی گنجائش موجود ہے۔

یہ عجیب بات ہے کہ وجدان کی سب سے زیادہ پذیرائی امریکی افواج نے کی۔ انہوں نے اسے باقاعدہ ایک ایسی مہارت کے طور پر متعارف کروایا جو تمام سینئر کمانڈروں کیلئے لازمی سمجھی گئی۔ امریکی فیلڈ مینول(FM 105) میں کمانڈ فیصلوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’’ہائر کمانڈ سائنس سے زیادہ ایک آرٹ ہے جو وجدان سے رہنمائی حاصل کرتی ہے‘‘ امریکہ کے عسکری مورخوں نے اس موضوع پر بہت سے آرٹیکل تحریر کئے ہیں اور ان کے عسکری ادب میں اس پر خاطر خواہ مواد موجود ہے۔ وہ سینئر کمانڈروں کو مستقبل میں جھانکنے اور نادیدہ امکانات کی تہہ میں اُتر جانے کی باقاعدہ تربیت کو ضروری خیال کرتے ہیں۔ برطانوی فوج کا بھی یہی حال ہے۔ اگرچہ برطانوی عسکری ڈاکٹرین میں بعض جگہ وجدان کی بجائے وجدانی صفت (Intuitive Quality) کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں،لیکن دونوں کا مطلب تقریباً ایک ہی ہے۔ ان کے عسکری مینوئل کے الفاظ یہ ہیں:’’ بعض حالات میں کمانڈر کو اپنی جبلی حس کی بنیاد پر فیصلے کرنے پڑتے ہیں‘‘۔لیکن بعض جگہ نہایت وضاحت و صراحت سے لفظ ’’وجدان‘‘ کو استعمال کیا گیا ہے۔ آرٹلری ڈاکٹرین پبلی کیشن جلد دوم کے صفحہ4پر یہ الفاظ قابلِ غور ہیں: ’’کوئی بڑا فیصلہ کرتے ہوئے کمانڈر اگر چاہے تو اپنے وجدان کو استعمال میں لا سکتا ہے۔ یعنی اگرچہ اس کو مشن اور مقصود کے حصول کے لئے بعض باتوں کا پابند کر دیا گیا ہے،لیکن وہ ان سے قطع نظر اپنی ذاتی اور وجدانی حس کو بروئے عمل لا سکتا ہے‘‘۔ آگے چل کر اسی ’’پبلی کیشن‘‘ میں مرقوم ہے: ’’ وجدان ایک ایسی صفت ہے جو تخیل اور قوتِ تخلیق سے گہرا ربطہ رکھتی ہے، لیکن عسکری حوالے سے اسے معلومات اور تجربات پر استوار کیا جانا چاہئے۔۔۔ یہ ایک نہایت نازک الوجود صفت ہے جو دباؤ، ناقابلِ اعتماد معلومات اور ہیجان انگیز صورت حال کی موجودگی میں بڑی آسانی سے متاثر ہو جانے کا رجحان رکھتی ہے‘‘۔

وجدان کی ٹریننگ

لیکن ان تمام تحریروں اور ڈاکٹرین کی موجودگی کے باوجود کوئی ایسا طریقہء تدریس وضع نہیں کیا گیا جو وجدان کی سکھلائی دے سکے۔ کمانڈ کی مختلف سطحیں ہوتی ہیں اور جوں جوں اوپر جائیں کمانڈ کے فیصلے زیادہ سے زیادہ دور رس اہمیت کے حامل ہوتے جاتے ہیں۔ ایک آرمی کمانڈر کا فیصلہ جو وقعت و حیثیت رکھتا ہے وہ ڈویژن یا بریگیڈ کمانڈر کا فیصلہ نہیں رکھتا اور بریگیڈ کمانڈر کا فیصلہ جو اہمیت رکھتا ہے وہ کمپنی کمانڈر یا پلاٹون کمانڈر کے فیصلوں کی اہمیت سے کہیں زیادہ وقیع ہو گا۔ سینئر کمانڈر جب ایک بار اپنے وجدان کے بل بوتے پر کوئی فیصلہ کر دیتا ہے تو پھر اس کا نتیجہ اس کے ہاتھ میں نہیں رہتا بلکہ اس کی سپاہ کے ہاتھ میں چلا جاتا ہے۔ یعنی آپریشن کو تصور (Conceive) کرنا تو سینئر کمانڈر کی ذمہ داری ہے، لیکن اس کی تکمیل (Execution) جونیئر لیڈروں، این سی اوز اور جوانوں پر آن پڑتی ہے۔ یہی وہ تعامل (Interaction) ہے جو وجدان کے سہارے کئے گئے فیصلوں اور ان کو روبہ عمل لانے میں حائل ہوتا ہے اور جہاں وجدانی پراسراریت حقیقی ٹریننگ کے ساتھ گُھل مل جاتی ہے۔ جب تک کسی کمانڈر کی سپاہ اپنے کمانڈر کے تخیل کو حقیقت کا روپ دینے کے لئے مطلوبہ ٹریننگ کی حامل نہیں ہو گی، اس کا وجود اسے ناکامیوں اور شکستوں کی طرف لے جائے گا۔ اس لئے اچھی کمانڈ اپنی سپاہ کو تربیت دیتے وقت سخت سے سخت اور کڑے سے کڑے معیاروں کو مدنظر رکھتی ہے اور پھر جب اس معیار کو آزمانے کی گھڑی آتی ہے تو کمانڈر کا وجدان ایک ایسے اعتماد و یقین پر استوار ہوتا ہے، جس میں فتح کی ضمانت دی جا سکتی ہے۔ (جاری ہے)

تیسری قسط

فیلڈ مارشل ولیم سلم مشہور برطانوی عسکری ہیرو تھا جس نے برما میں جاپانیوں کو شکست دی۔ اس نے اپنی مشہور کتاب شکست سے فتح تک (Defeat Into Victory) کے اختتامی پیرا گراف میں اس موضوع پر جو اظہار خیال کیا ہے دیکھئے وہ کتنا سبق آموز ہے۔ وہ لکھتا ہے:

’’ان صفحات میں مَیں نے جرنیلوں اور ان کے سٹاف افسروں کا بہت ذکر کیا ہے۔ ان کے مسائل، ان کی مشکلات، ان کے حل، ان کی فتوحات اور ان کی کامیابیاں! ۔۔۔لیکن ایسا خیال کہ جو مَیں سمجھتا ہوں کہ اس تمام کتاب کانچوڑ تصور کیا جائے وہ یہ ہے کہ برما کی جنگ ایک سپاہی کی جنگ تھی۔۔۔ ہر لڑائی میں ایک ایسا لمحہ ضرور آتا ہے کہ جب خون آشام دشمن کا مقابلہ کرتے ہوئے لڑائی کا نتیجہ درمیان میں لٹک رہا ہوتا ہے۔ اگر ایسا لمحہ آئے تو جرنیل خواہ کتنا ہی صاحبِ بصیرت کیوں نہ ہو اس کا فرض ہے کہ وہ لڑائی کو اپنے سپاہیوں کے ہاتھوں میں سونپ دے اور ان جوانوں اور رجمنٹل افسروں کو دے ڈالے جو اسے اختتام تک پہنچا دیں۔ تب یہ ان کا مسئلہ بن جاتا ہے۔ تب ان کی جرأت، ان کی پامردی، ان کا فطری یا انسانی مشکلات اور کٹھنائیوں پر غالب آنا اور دشمن کو مات دینا ان کا کام ہے۔۔۔ اس قسم کا لمحہ برما کی جنگ میں اول اول ہی آ گیا تھا اور پھر کئی بار آیا۔ بعض اوقات اس وقت آیا کہ جب تھکے ماندے اور بیمار سپاہیوں نے اپنے آپ کو تنہا محسوس کیا اور جب ہمت ہار دینا ان کے لئے بہت آسان سی بات تھی اور جب صرف عزم، قوت ارادی یقین اور نظم و ضبط نے ان کو کاروبارِ جنگ جاری رکھنے پر اکسائے رکھا۔ یہ میری چودھویں فوج کے مختلف نسلوں اور قوموں کے وہ لوگ تھے جو آگے بڑھتے رہے اور وہ ہوا باز تھے جنہوں نے ان سپاہیوں کے شانہ بشانہ جنگ لڑی۔ دراصل اس فتح کا سنہرا انہی لوگوں کے سر ہے۔ یہی وہ لوگ تھے جنہوں نے شکست کو فتح میں تبدیل کر دیا۔‘‘

اسلامی جنگوں سے وجدان کی مثالیں

جیسا کہ ہم اوپر کہیں ذکر کر آئے ہیں،ا سلام کی عسکری تاریخ پر نظر دوڑائیں تو ایسے وجدانی فیصلوں کی بے شمار مثالیں ملیں گی، جن کی بنیاد پر مسلم سپہ سالاروں نے ناقابلِ یقین کامیابیاں حاصل کیں۔ خود مجاہد اعظم سید کائناتؐ نے اسلامی فوج کے سالار اعظم کے طور پر کمانڈ کے جو وجدانی فیصلے کئے وہ بعد میں آنے والے ان کے غلاموں اور ان کے نام لیواؤں کے لئے ایک مینارۂ نور ثابت ہوئے۔حضرت خالدؓ بن ولید سے لے کر مصطفی کمال پاشا تک سینکڑوں برسوں پر پھیلی ہوئی درجنوں اسلامی لڑائیوں میں وجدان کی اساس پر جو فتوحات حاصل کی گئیں ان کا تذکرہ کرنے بیٹھیں تو ایک ضخیم کتاب کا مواد بن جائے گا۔ اس مختصر آرٹیکل میں ہم حضرت خالدؓ بن ولید کے ایک وجدانی فیصلے کے ذکر پر اکتفا کریں گے۔

جنگ اجنا دین اسلام کی مشہور و معروف جنگوں میں شمار کی جاتی ہے جو جولائی634ء میں مسلمانوں(عربوں) اور رومیوں کے درمیان لڑی گئی۔ یہ وہ وقت تھا جب حضرت ابو بکر صدیقؓ مسلمانوں کے خلیفہ اور اسلامی افواج کے سپریم کمانڈر تھے۔ عرب افواج مختلف ممالک میں بکھری ہوئی تھیں۔ مثنیٰ بن حارث ایران میں، خالد بن ولید عراق میں، ابو عبیدہ اور شرجیل بن حسنہ اردن میں اور یزین بن ابو سفیان اور عمر وبن العاص فلسطین میں مصروفِ جہاد تھے۔ رومیوں نے ان تمام اسلامی لشکروں کو شکت دینے کا ایک منصوبہ تیار کیا۔ انہوں نے مختلف اسلامی افواج کو مزید بکھرنے (DISPERSE)پر مجبور کرنے کی حکمت عملی تیار کی تاکہ وہ کسی ایک مقام پر اجتماع کر کے انہیں زیادہ نقصان نہ پہنچا سکیں۔ مسلمانوں کو اجنادین کے مقام پر گھیر کر ان کو تباہ کرنے کی سکیم تیار کی گئی تو حضرت ابو بکرؓ نے حضرت خالد بن ولید کو حکم دیا کہ وہ عراق سے نکل کر فی الفور اجنادین(شام) پہنچیں۔ خلیفہ اول کا یہ حکم جب خالدبن ولید کو ملا تو وہ حیرہ میں پڑاؤ ڈالے ہوئے تھے۔ وہاں سے اجنادین کا فاصلہ 1200میل تھا۔ راستے میں جگہ جگہ رومی حائل تھے۔ علاقہ ریگستانی تھا اور گرمی کا زور بڑھ رہا تھا۔ سب سے بڑی بات یہ تھی کہ پانی کمیاب تھا۔ ذرایع آمدورفت محدود اور سڑکیں نہ ہونے کے برابر تھیں۔

حضرت خالد کے ہمراہ تقریباً9 ہزار ٹروپس تھے۔ وقت کم تھا اور فاصلہ طویل۔۔۔ حضرت خالد نے اہل لشکر سے پوچھا کہ آیا کوئی اور مختصر راستہ بھی اجنادین کو جاتا ہے۔ ایک سپاہی رافع بن عمیرہ نے جن کی بینائی کمزور ہو چکی تھی کہا کہ انہیں ایک مختصر راستے کا علم ہے جسے انہوں نے 30سال قبل اپنے والد کے ہمراہ لڑکپن میں دیکھا تھا۔ اس راستے میں پانی کا ایک چشمہ ہے جس سے کافی پانی حاصل کیا جاسکتا ہے۔ لیکن حضرت خالد کے دوسرے مشیروں نے انہیں صلاح دی کہ یہ راستہ خطر ناک اور دشوار گزار ہے۔ پانچ دن تک مسلسل سفر کرنے کے بعد اس چشمے تک رسائی ممکن نہیں اور پھر کیا پتہ وہ چشمہ خشک ہو گیا ہو!تیس سال پہلے جہاں چشمہ تھا ضروری نہیں کہ وہ چشمہ اب بھی وہاں ہو۔ رافع کا حافظہ اگرچہ تیز تھا لیکن تیس سال کی مدت بھی کچھ کم نہ تھی۔ صحراؤں میں راستے ویسے بھی بے نام و نشان ہوتے ہیں۔ جولائی کے مہینے میں صحرا کی گرمی کا اندازہ کچھ وہی لوگ کرسکتے ہیں جنہوں نے ان علاقوں کو بچشم خود دیکھا اور ان میں سفر کیاہو۔۔۔۔

حضرت خالد ان تمام حالات سے بے خبر نہ تھے۔ لیکن دوسری طرف اگر اس مختصر اور مشکل راستے کو عبور کر کے دشمن کے سامنے جا نکلنے میں کامیاب ہو جاتے تو دشمن پر ناگہانیت کا جو اثر ہوتا وہ اسے مفلوج کر کے رکھ دیتا۔ اور یہی وجہ تھی کہ حضرت خالد نے وجدانی فیصلہ کیا اور فرمایا : ’’ہم اسی راستے سے جائیں گے اور رافع بن عمیرہ ہماری رہنمائی کریں گے‘‘ چنانچہ روانگی سے قبل کافی پانی جمع کرلیا گیا۔ جانوروں نے بھی خوب سیر ہو کر پانی پیا۔ پانی کا ایک بڑا ذخیرہ ساتھ لے لیا گیا۔ بہت سے اونٹوں کو خوب پانی پلایا گیا اور اس کے بعد یہ لشکر روانہ ہوا۔ تین دن کی مسلسل مسافت کے بعد پانی ختم ہوگیا۔ چوتھے دن اونٹوں کو ذبح کیا گیا اور ان کے شکم سے پانی نکال کر استعمال کیا گیا۔ پانچویں دن کا سورج طلوع ہوا تو سب کو چشمے کی تلاش تھی۔ سب کی نگاہیں رافع پر گڑی ہوئی تھیں یا پھر آسمان کی جانب دعا کے لئے اُٹھ جاتی تھیں۔ جانور اور ٹروپس بے حال تھے۔ پیاس اور تھکن سے جب لوگ جاں بلب ہوگئے اور چشمہ نظر نہ آیا تو حضرت خالد نے رافع کی طرف دیکھ کر پوچھا: ’’ چشمہ کتنی دور ہے؟‘‘ رافع نے جواب دیا ’’ عورت کے پستانوں کی شکل کے دو ٹیلے ہیں، ان کو تلاش کیا جائے‘‘۔ مجاہدین بے تاب ہو کر ادھر ادھر بھاگے اور آخر کار ان دو ٹیلوں کو تلاش کرلیا گیا۔ پھر رافع نے کہا کہ ایک خار دار درخت ہے جس کی شکل بیٹھے ہوئے مرد سے ملتی ہے۔ یہ درخت ان ٹیلوں کے آس پاس ہوگا۔ اس کی جڑوں کو کھودا جائے۔ جب اس درخت کی جڑوں پر گینتی چلائی گئی تو پانی کا ایک فوارہ اُبل پڑا۔ تمام لشکر نے خدا کا شکر ادا کیا اور خوب سیر ہو کر پانی پیا۔ مشکیزے بھرے گئے۔ عقب میں بچھڑے ہوئے اور تھکے ہوئے ساتھیوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر یہاں لایا گیا۔ جب حضرت خالد اجنادین پہنچے تو واقعی رومی لشکر حیرت زدہ رہ گیا۔ اس جنگ میں مسلمانوں کی فتح میں حضرت خالد کے اس طرح اچانک نمودار ہو نے نے بہت اہم رول ادا کیا۔

حرف اختتام

وجدان ایک گریز پا صلاحیت ہے جو اللہ کریم کی طرف سے کئی انسانوں کو ودیعت کی جاتی ہے۔ اس کی مقدار البتہ کم و بیش ہو سکتی ہے۔ اسے آپ پیدائشی یا وہبی صفت بھی کہہ سکتے ہیں لیکن یہ زیادہ تر اس تجربے پر مبنی ہوتی ہے جو انسان کے تحت الشعور میں ذخیرہ ہو چکا ہوتا ہے۔ تجربات کی یہ ذخیرہ اندوزی شرط اول ہے۔ بوقت ضرورت یہ و جدان تحت الشعور سے نکل کر شعور میں چلا جاتا ہے۔ عام فیصلے تو شعور کی طرف سے تحت الشعور کی طرف کا سفر کرتے ہیں لیکن وجدان کا معاملہ اس کے الٹ ہے۔ یہ گویا ایک تخلیقی اور تخئیلی صفت ہے جو عقلی یا منطقی صفت کے بالکل الٹ ہے۔ بیشتر سینئر کمانڈر اپنے تجربات کی بناء پر وجدان کی صفت سے متصف ہوتے ہیں اور وہ اگر چاہیں تو اس صلاحیت اور مہارت کو مسلسل مشق و ریاضت سے ڈویلپ بھی کرسکتے ہیں۔

عسکری حوالے سے کہا جاسکتا ہے کہ وجدان پر مبنی کمانڈ فیصلوں کے تین بڑے پہلو ہوتے ہیں۔۔۔۔ ایک تیزی یا سپیڈ، دوسرا آفاقیت یا وسعت۔۔۔ اور تیسرا تخلیقی عمل۔۔۔۔ یہ تینوں عناصر ناگہانیت(SURPRISE)کے حصول میں مددگار بنتے ہیں۔ اور کون کافر ہے جو ملٹری آپریشنوں میں ناگہانیت کی تاثیرکا منکر ہو۔ بلکہ کمانڈ کا لیول جوں جوں اُوپر جاتا ہے اس پر ہر طرف سے پریشر بڑھ جاتا ہے۔ زمان و مکاں، سیاسیات، ٹیکٹکس،سٹرٹیجی اور معلومات کا ایک بے کراں سمندر ہوتا ہے جو کمانڈر کے سامنے پھیلا پڑا ہوتاہے۔اس نے ان تمام پہلوؤں کو نگا ہ میں رکھ کر فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔ جہاں یہ باور کرلینا خطر ناک ہوگا کہ کمانڈر کو اندھا دھند و جدان پر انحصار کرنا چاہیے وہا ں اس امر کی سفارش بھی نہیں کی جانی چاہیے کہ اس کا فیصلہ سو فیصد مادی امکانات، منطق، دلیل اور سائنس پر استوار ہونا چاہیے۔ اگر ایسا ہوتا تو عسکری تاریخ میں فیلڈ مارشل منٹگمری کو فیلڈ مارش رومیل پر فوقیت حاصل ہوتی۔ہم سب جانتے ہیں کہ منٹگمری نے اپنے تمام فیصلے ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ اور نہایت سوچ بچار کے بعد اس وقت کئے جب اس کے پاس نفری، سازوسامان اور وسائل کی وہ فراوانی ہوگئی جس کی بناء پر کوئی بھی کمانڈر عزم و یقین کے ساتھ میدان جنگ میں کود سکتا تھا، اور ہم سب یہ بھی جانتے ہیں کہ اس اتحادی کمانڈر کا دشمن جرمن کمانڈررومیل اپنے فیصلوں میں وجدان کا بار بار سہارا لیتا رہا۔ اور بار بار اتحادی سپاہ کو شکست دیتا رہا تاآنکہ ہٹلر نے اسے مادی وسائل سے بالکل عاری کر کے پسپائی پر مجبور کردیاتھا۔ اگر رومیل کے پاس منٹگمری سے نصف وسائل بھی ہوتے تو اس جنگ کی تاریخ آج مختلف ہوتی۔

عسکری کلچر ایک ایسا کلچر ہے جس میں وجدان کی ٹریننگ کا کوئی باقاعدہ بندوبست نہیں کیا جاتا۔ یہ اگرچہ بعض افواج کے ڈاکٹر ین کا حصہ بن چکا ہے تاہم اس کی سکھلائی کی بنیادیں سائنسی خطوط پر استوار نہیں البتہ غیر سائنسی، غیر منطقی بلکہ روحانی خطوط پر استوار ہیں۔ اگر جنگ ٹیکٹیکل لیول پر ایک سائنس اور سٹرٹیجک لیول پر ایک آرٹ ہے تو پھر ٹیکٹیکل کمانڈر کو غیر جدانی اور سٹرٹیجک کمانڈر کو وجدانی بنیادوں پر مبنی فیصلے کرنے میں دریغ نہیں برتنا چاہیے۔ اقبال نے سینئر کمانڈ کو درویشی اور فقر کہا ہے اور اس حوالے سے ان کا یہ شعر اس موضوع پر کتنا برمحل ہے!

نہیں فقرو سلطنت میں کوئی امتیاز ایسا

یہ نگاہ کی تیغ بازی، وہ سپاہ کی تیغ بازی

الحمد اللہ پاک فوج کا ثقافتی، تہذیبی اور دینی ورثہ وہ لازوال سرمایہ ہے جس کی بنیادوں پر وجدانی فیصلوں کے کلچر کی تعمیر کی جاسکتی ہے۔ ہمارے نامور مسلم کمانڈر یہی کچھ کرتے آئے ہیں۔ افسوس ہے کہ ہم نے اپنے اسلاف کی یہ میراث گنوادی۔ وجدان کی اساس، طرز کہن پر اڑنا نہیں بلکہ آئین نو سے فیض یاب ہونے پر ہے۔ اگر ہم سینئر لیول کے کمانڈروں میں وجدانی اہلیت پیدا کرنے کی تمنا رکھتے ہوں تو ہمیں چاہیے کہ اپنے جونیئر لیول کے کمانڈروں کی ’’ پرورش اور تربیت‘‘ میں اسلامی اقدار اور روحانی کلچر کو فروغ دیں۔

علاج آتشِ رومی کے سوز میں ہے ترا

تری خردپہ ہے غالب فرنگیوں کا فسوں

(ختم شد)

مزید : کالم