لاپتہ شخص کی بیوی4 سال انتظار کے بعد دوسرا نکاح کر سکتی ہے

لاپتہ شخص کی بیوی4 سال انتظار کے بعد دوسرا نکاح کر سکتی ہے

اسلام آباد ( اے این این ) اسلامی نظریاتی کونسل کے ارکان نے کہا ہے کہ لاپتہ ہونے والے شخص کی بیوی چار سال انتظار کے بعد دوسرا نکاح کر سکتی ہے ٗ اس صورت میں وراثت ، اولاد ، نان نفقہ اور مہر جیسے مسائل پر کونسل اگلے اجلاس میں مزید غور کرے گی ۔کونسل کے اکثریتی ارکان کا کہنا تھا کہ چار سال تک کوئی شخص لاپتہ رہے جیل یا جنگ میں چلا جائے تو عورت کو دوسرے نکاح کی شرعی اجازت ہو گی ، دوسرا خاوند واپس آجائے تو وہ پہلے خاوند کے پاس واپس جا سکتی ہے ۔ بہتر ہو گا لاپتہ شخص کی بیوی نیا نکاح اپنے گمشدہ خاوند کی بازیابی سے مشروط طور پر کرے ۔علامہ عارف واحدی نے اختلافی رائے دیتے ہوئے کہا کہ اہل تشیع میں گمشدہ فرد کے ولی کی موجودگی اور گزر بسر جتنا مال ہونے کی صورت میں موت و حیات کے حتمی ہونے تک نکاح منسوخ نہیں ہو سکتا ۔

مزید : صفحہ اول