بھارت کے کنٹرول لائن پر جھڑپوں میں 45فوجی مارے جاچکے!

بھارت کے کنٹرول لائن پر جھڑپوں میں 45فوجی مارے جاچکے!

تجزیہ:چودھری خادم حسین

انہی سطور میں گزارش کی اور پاک فوج کے اس اقدام کو سراہا تھا کہ کنٹرول لائن پر بھارتی توپخانے کی فائرنگ سے شہید ہونے والے ساتوں جوانوں کی نہ صرف خبر نشر ہوئی بلکہ ان کی نماز جنازہ اور تدفین کی فلم دکھائی گئی اس سے پہلے بھی جوان یا شہری شہید اور زخمی ہوتے رہے تو واضح طور پر عوام کو آگاہ کردیا جاتا تھا، اس سلسلہ میں ایک امر ہمیشہ تشویش کا باعث رہا کہ پاکستانی فوج کی طرف سے جوابی کارروائی کا تو ذکر کیا جاتا لیکن کبھی یہ معلوم نہ ہوا کہ بھارتی ’’سورماؤں‘‘ کا کیا بنا اور کیا ان میں سے بھی کوئی موت کے گھاٹ اترایا نہیں اس سلسلے میں بھارتی میڈیا بھی خاموش ہی تھا، یہ بذات خود تشویش کی بات تھی کہ ہم اپنا نقصان بتا رہے تھے اور یہ بتایا جاتا تھا کہ دشمن کو موثر جواب دیا گیا لیکن تفصیل غائب تھی۔

اب چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف نے خیرپور ٹامیوالی میں جذبات سے پر آواز میں یہ بتا ہی دیا کہ پاکستان کو کمزور سمجھنا چھوڑ دیں، انہو ں نے کہا ہم اپنے شہدا کا بدلہ نہیں چھوڑتے، اب مودی کو یقیناًپتہ چل گیا اور عقل آگئی کہ ہم نے سات شہدا کے بدلے گیارہ بھارتی فوجی مارے ہیں کہ ہم اپنے دفاع سے غافل نہیں،اس کے ساتھ ہی اب یہ تفصیل بھی آگئی کہ مختلف سیکٹروں میں بھارتی جارحیت کے مقابلے میں جوابی کارروائی سے بھارت کے 45فوجی مارے جاچکے، جنرل راحیل شریف نے کہا اگر مودی میں جرأت ہے تو پھر بتائے کہ ان کا اتنا نقصان ہوا۔

جنرل راحیل شریف کی یہ بات درست ہے کہ مودی تعصب سے بھرا ہوا ایک ہندو بنیا ہے جو اپنے نقصان کو بھی چھپاتا ہے، اور حیرت تو بھارتی میڈیا پر ہے جو پاکستان کے حوالے سے جھوٹی خبریں اور اطلاعات شائع اور نشر کرتا اور مخالفانہ زہریلا پروپیگنڈہ بھی کرتا ہے، وہ بھی اب تک یہ معلوم نہیں کرسکا کہ بھارت کے کتنے فوجی مارے گئے اور زخمی ہوئے اور کتنی چوکیاں تباہ ہوئیں، پاکستان کی طرف سے شہریوں کو تو نقصان پہنچایا ہی نہیں گیا، میرا اپنے ہم پیشہ بھائیوں سے سوال ہے کہ بھارتی فوج کے مرنے والوں کی لاشیں تو یقیناًورثاء کے حوالے کی گئیں اور ان کی ارتھیاں بھی جلائی گئی ہوں گی تو پھر علاقائی نامہ نگاروں نے یہ خبر اپنے اداروں کو کیوں مہیا نہیں کی، شاید یہ اس لئے کہ ’’سب سے بڑی جمہوریت کی دعویدار حکومت نے فوج کے حوالے سے خبروں پر بھی سنسر شپ عائد کر رکھی ہے دو ٹیلیویژن ایک ایک روز کے لئے بند بھی کئے گئے تھے، یہاں یہ بھی سوال ہے کہ اتنے بڑے بھارتی میڈیا نے اس پابندی کو کیوں اور کیسے قبول کر لیا اور احتجاج صرف بیان تک محدود رہا، آزادی صحافت کے لئے تو مودی حکومت کے خلاف تحریک چلنا چاہیے، لیکن شاید ہمارے ہم پیشہ بھی اس حوالے سے تعصب کا شکار ہو چکے ہیں حالانکہ ورکنگ جرنلسٹوں نے ہمارے ساتھ ملاقاتوں میں ہمیشہ ’’سچ ‘‘ کی حمائت کی اور یہ تک طے کیا گیا کہ اگر سچ نہیں لکھنے اور نشر کرنے دیا جاتا تو ضروری تو نہیں کہ اشرافیہ کا جھوٹ ہی لکھا اور نشر کیا جائے، لیکن عمل کے وقت ایسا نہیں ہوا۔

اسی موقع پر وزیر اعظم محمد نواز شریف نے بھی بھارت کو انتباہ کیا اور بتایا کہ پاکستان جواب کی پوری صلاحیت رکھتا ہے، انہوں نے کہا ہم امن کے حامی اور مذاکرات کے قائل ہیں لیکن یہ مذاکرات تنازعہ کشمیر کے بغیر نہیں ہو سکتے جو بنیادی تنازعہ ہے، وزیر اعظم اور جنرل راحیل شریف اس حوالے سے بہت واضح ہیں، اقوام متحدہ نے بھی تشویش کا اظہار کردیا اور ڈپلو میٹک بات کی کہ دونوں ملک حالات کو سنبھالیں اور مذاکرات سے مسائل حل کریں، لیکن مودی تو باتوں سے ماننے والا نہیں،وہ ’’چوڑا‘‘ ہوتا جارہا ہے، ا س کے سامنے یوپی اور پنجاب کے آنے والے عام انتخابات ہیں جہاں اس کی پوزیشن کمزور ہوتی ہے، وہ اب پھر پاکستان دشمن کا رڈ کھیلنے کی بھرپور کوشش کررہا ہے لیکن یہ جو اس کے فوجی مرے ہیں ان کی ارتھی تو ضرور اٹھی ہوگی کیا چھپانے سے بات چھپ جائے گی یہ ممکن نہیں۔

ہمارے معزز مہمان ترک صدر اردوان آگئے ان کی آؤ بھگت بھی ہوئی، لاہور کے شہری پریشان بھی ہوئے کہ 3بجے سہ پہر سے رات دس بجے تک ائیر پورٹ سے آزادی چوک تک پوری مال روڈپر ٹریفک بند رہی اور نواحی سڑکوں پر بہت دباؤ تھا تاہم عوام نے اس کا برا نہیں منایا کہ طیب اردوان ہمارے بھائی اور پکے دوست ہیں، تاہم عوام نے تحریک انصاف کے عمران خان کی طرف سے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے بائیکاٹ کو اچھا نہیں جانا اور عمران کی ہردلیل کو رد کر دیا، اب تو وہ پوچھتے ہیں اگر یہ پارلیمنٹ اور وزیر اعظم غیر نمائندہ ہیں تو پھر تحریک انصاف وہاں کیا کررہی ہے، استعفےٰ کیوں واپس لئے اور مراعات سے کیوں مستفید ہو رہے ہیں، یہ تو بہت بڑا تضاد ہے، عمران خان کو سوچنا ہوگا کہ عوام ہی فیصلہ ساز قوت ہیں۔

کنٹرول لائن

مزید : تجزیہ