مسلمانوں کو درپیش چیلنجز میں رہی سہی کسر ’’ٹرمپ ‘‘کے انتخاب نے پوری کر دی

مسلمانوں کو درپیش چیلنجز میں رہی سہی کسر ’’ٹرمپ ‘‘کے انتخاب نے پوری کر دی

مکہ مکرمہ سے خصوصی تجزیہ سہیل چوہدری

ایک طرف دنیا میں نئی صف بندیوں کی بدولت عالمی سیاست کی نئی بساط بچھ رہی ہے جس میں مسلمانوں کو پہلے سے زیادہ سنگین نوعیت کے چیلنجز کا سامنا نظر آرہاہے اور رہی سہی کسر ’’ ٹرمپ کارڈ‘‘نے پوری کردی ہے ،ایسا لگتا ہے کہ حالیہ تاریخ میں مسلمانوں کیلئے شائد کڑے امتحانات کا ایک نیا دور شروع ہورہا ہے ، دوسری جانب امت مسلمہ کو خارجی خطرات کے ساتھ ساتھ داخلی طورپر شدید خطرات کا سامنا ہے جبکہ گزشتہ روز او آئی سی کے وزرائے خارجہ کا مکہ مکرمہ میں غیر معمولی اجلاس بھی اسی صورتحال کا شاخسانہ نظر آتا ہے جبکہ مکہ مکرمہ میں عام طورپر ایسے اجلاس منعقد نہیں ہوتے لیکن مکہ مکرمہ میں اس اجلاس کے انعقاد کی ایک اہم علامتی حیثیت بھی ہے کیونکہ یمن میں بر سر پیکار حوثی باغیوں کی جانب سے نہ صرف سعودی عرب کی سرحدوں پر حملوں کے واقعات تو ہوتے رہتے ہیں لیکن حال ہی میں ان کی جانب سے مکہ مکرمہ پر میزائل حملے کا مبینہ سنگین واقعہ سامنے آیا ہے جس نے پوری امہ میں تشویش کی لہر دوڑادی اگرچہ سعودی عرب کے پاس جدید ترین میزائل ڈیفنس نظام موجود ہے جس کی بدولت مکہ مکرمہ کی جانب فائر ہونے والے میزائل کو 65کلو میٹر پہلے ہی فضاء میں نشانہ بنا کر تباہ کردیا گیا لیکن یہ واقعہ ایک سنگین صورتحال کا غماز ہے ۔سعودی عرب سے ملنے والی معلومات کے مطابق یہ روسی ساخت کا سکڈ میزائل تھا جس کی رینج 200سے 300کلو میٹر تک تھی ، اگرچہ سعودی عرب نے 80فیصد تک حوثی باغیوں پر قابو پالیا ہے لیکن یمن کے ساتھ 15سو کلو میٹر طویل بارڈر پر میزائل حملوں کے خطرات موجود ہیں ،اس بناء پر سعودی عرب نے اس غیر معمولی اجلاس کا انعقاد جدہ کے بجائے مکہ میں کیا تاکہ عالمی برادری اور امہ کو مسئلے کی سنگینی کا اندازہ ہوسکے ، پاکستان کی نمائندگی مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کی بالخصوص ایسے وقت میں جب ترک صدر رجب طیب اردوان پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے تھے تو مسئلہ کی حساسیت کے پیش نظر وزیراعظم نوازشریف نے مشیر خارجہ سرتاج عزیز کو سعودی عرب بھجوایا تاہم فکر انگیز بات ایران کا اس اجلاس میں شریک نہ ہونا تھا ، ایران ایک اہم اسلامی ملک ہونے کیساتھ ساتھ پاکستان کا پڑوسی اور تاریخی دوست بھی ہے، ایران کا او آئی سی کے وزرائے خارجہ اجلاس کا بائیکاٹ کرنا امہ کے اتحاد کے حوالے سے کوئی اچھا شگون نہیں ، بدلتے ہوئے عالمی منظر نامے میں جہاں نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یورپ کے ساتھ ایران کو نیوکلیئر ڈیل کو ختم کرنے کے اشارے دے چکے ہوں جبکہ امہ کا باہمی نفاق مشرق وسطیٰ میں کسی نئے بحران کو جنم دے سکتا ہے اس لئے ایران کو بدلتے ہوئے عالمی تقاضوں کے تناظر میں اس اجلاس میں شرکت کرنا چاہئے تھی اور پاکستان سمیت دیگر مسلمان ممالک ایران پر اس ضمن میں اپنا اثر و رسوخ ڈالتے تو یہ اجلاس زیادہ با معنی ہوسکتا تھا تاہم مسلم دنیاکا یہ ایک مشترکہ چیلنج ہے اس لئے سب ممالک کو مل کر اس مسئلہ کا حل ڈھونڈنا چاہئے ، حالات کی سنگینی کے تناظر کا ادراک اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ سعودی عرب کے فرماں رواء نے یہ اجلاس قصر صنعا میں منعقد کیا اور خود اس اجلاس کی میزبانی کی ، او آئی سی کے اس اجلاس میں قراردادیں متفقہ طورپر منظور ہوئیں اور مقامات مقدسہ کی حامل سر زمین سعودی عرب کے خلاف کارروائیوں کو روکنے کیلئے عملی اقدامات پر اتفاق کیا گیا ،یہاں پر بعض حلقوں کا خیال ہے کہ روس اور چین بھی اس صورتحال میں کوئی مثبت کردار ادا کرسکتے ہیں۔

تجزیہ سہیل چوہدری

مزید : تجزیہ