افغان باشندے کی پراسرار گمشدگی پروزارت دفاع اورداخلہ سے جوابطلب

افغان باشندے کی پراسرار گمشدگی پروزارت دفاع اورداخلہ سے جوابطلب

پشاور(نیوزرپورٹر)پشاورہائی کورٹ کے جسٹس یحیی آفریدی اور جسٹس ا کرام اللہ پرمشتمل دورکنی بنچ نے افغان باشندے کی پراسرار گمشدگی پروزارت دفاع اورداخلہ سے جواب مانگ لیاہے جبکہ جسٹس یحیی آفریدی نے اپنے ریمارکس میں کہاہے کہ پاکستان میں مقیم غیرملکیوں کو بھی برابربنیادی حقوق حاصل ہیں اورانہیں ہرقسم کاتحفظ فراہم کرناحکومتی ذمہ داری ہے فاضل بنچ نے گذشتہ روز عبدالنبی کی جانب سے دائررٹ کی سماعت کی اس موقع پرعدالت کو بتایاگیاکہ جانان ولد حاجی طالب جو عرصہ دراز سے لاپتہ ہے اوراسے مبینہ طورپر حساس اداروں نے حراست میں رکھاہواہے تاہم اس کے بارے میں کوئی علم نہیں لہذاعدالت عالیہ کادورکنی بنچ اس کی بازیابی کے احکامات جاری کرے اس موقع پر ڈپٹی اٹارنی جنرل مسرت اللہ نے عدالت کو بتایا کہ لاپتہ شہری افغان باشندہ ہے اورقانون نافذ کرنے والے ادارے اب اس کاکھوج لگائیں گے جس پرجسٹس یحیی آفریدی نے اپنے ریمارکس میں کہاکہ پاکستان میں مقیم غیرملکیوں کوبھی برابربنیادی حقوق حاصل ہیں لاپتہ افراد بارے دوسری رٹ میں شاہ نواز خان ایڈوکیٹ نے عدالت کوبتایا کہ لاپتہ شہری وقار کے گراؤنڈچیک کے لئے ہائی کورٹ نے احکامات جاری کئے تھے تاہم عدالت عالیہ میں وقار کی بجائے شیرزمان سے متعلق رپورٹ پیش کی گئی ہے جس پرعدالت نے کمشنرملاکنڈ اوروزارت داخلہ اوردفاع کو احکامات جاری کئے کہ ان کی دوبارہ ویری فکیشن کی جائے جبکہ فاضل بنچ نے ا سی نوعیت کی ایک اوررٹ میں عدالت کو بتایاگیاکہ پراسرار طور پر لاپتہ ہونے والاایک شہری کے متعلق معلومات حاصل ہوئی ہیں کہ وہ پیتھام ا نٹرنمنٹ سینٹرمیں موجود ہے جس پر فاضل بنچ نے اوورسائٹ بورڈ کی رپورٹ مانگ لی۔

مزید : کراچی صفحہ اول