اسلام آباد ،بھتہ خوری میں ملوث افغان باشندوں کو پولیس افسران کی مبینہ سرپرستی کا انکشاف

اسلام آباد ،بھتہ خوری میں ملوث افغان باشندوں کو پولیس افسران کی مبینہ ...

اسلام آباد(وحید ڈوگر سے )وفاقی دارالحکومت میں سرعام بھتہ خوری میں ملوث افغان باشندوں کیخلاف انسدداد دہشتگردی کی دفعات کے تحت درج مقدمہ نمبر361کے گرفتار ملزمان کے مبینہ طورپر چند پولیس افسران کی جانب سے سرپرستی کرنے کی اطلاعات ہیں، باوثوق ذرائع کے مطابق لیاقت افغانی اوراس کے افغان کارندوں کیخلاف اس سے قبل بھی تھانہ شہزاد ٹاؤن اور تھانہ کھنہ میں کئی مقدمات درج ہوچکے ہیں لیکن اس کے باجود وفاقی پولیس کے چند افسران کی مبینہ پشت پناہی کی وجہ سے ڈیل کی رقم طے کرکے افغانیوں کو چھوڑدیا جاتا ہے اس حوالے سے ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ سرکاری اراضٰ میں قائم غیر قانونی سبزی منڈی سے یومیہ ساڑھے تین لاکھ بھتہ وصول کیا جاتاہے جس میں بھتہ مافیا کے تین گروپس سرگرم ہیں جس میں امجد خٹک گروپ ،لیاقت افغانی گروپ ، اور عادل گروپ شامل ہیں جن کیخلاف تھانہ کھنہ پولیس نے دہشتگردی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا ہے اس حوالے سے ذرائع کا مزید کہنا تھا پولیس روایتی انداز میں ملزمان اور ان کے سفارشیوں سے گٹھ جوڑ کررہی ہے یہی وجہ ہے پولیس کی جانب سے جوائنٹ انوسٹی گیش (جے آئی ٹی)کیلئے ابھی تک درخواست نہیں لکھی گئی اس حوالے سے مدعی مقدمہ ملک ارشد نے روزنامہ پاکستان کے استفسار پر بتایا کہ پولیس کی جانب سے جے آئی ٹی کی تشکیل کے حوالے سے ابھی کچھ نہیں بتایا گیا ان کا مزید کہنا تھا کہ ایک سال سے وہاں پر کام کررہاہے روز روز کی بدمعاشی سے تنگ آکر میں نے بھتہ دینے سے انکار کردیا شروع شروع میں وہ بھتہ دیتے بھی رہے اب کی بار تینوں گروپس کی جانب سے الگ الگ بھتہ مانگنا معمول بن گیا تھا ، اس حوالے سے ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ ڈی ایس پی شہزاد ٹاؤن سرکل عبدالرزاق کی جانب سے مبینہ طورپر جے آئی ٹی کے لئے خط لکھنے کے حوالے سے تاخیری حربے استعمال کئے جارہے ہیں اس حوالے سے ڈی ایس پی شہزاد ٹاؤن سرکل کی معنی خیز خاموشی پولیس افسران کی کاکردگی پر سوالیہ نشان ہے ۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر