کہوٹہ کے پہلو میں پنج پیر کی دلکش پہاڑیاں

کہوٹہ کے پہلو میں پنج پیر کی دلکش پہاڑیاں
کہوٹہ کے پہلو میں پنج پیر کی دلکش پہاڑیاں

  

تحریر: سجاد عزیزخان

میں ایک سیاح ہوں اور الحمد اللہ موٹربائک پر پاکستان کے ایسے مقامات کو دیکھ چکا ہوں جن پر گماں ہوتاہے کہ پاکستان تو درحقیقت یہی ہے۔اپنی تہذیب وتمدن، خوبصورتی انفرادیت کی بدولت یہ علاقے غیر معمولی طور پر منفرد مقامات کا درجہ رکھتے ہیں اور انہیں دیکھ کر پاکستان کی قدروقیمت کا اندازہ کیا جاسکتا اور کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان دنیا کا سب سے حسین اور پرشکوہ ملک ہے۔ پاکستانیوں کی اکثریت اپنے وطن عزیز کی خوابیدہ اور اسرار میں لپٹی وادیوں اور کوہساروں اور ان میں بسنے والی تہذیبوں سے غافل ہے ۔مثلا میں آپ کو پنج پیر کی پہاڑیوں میں لئے چلتا ہوں ۔ خوبصورت آبشار ، پرسکون، سرسبز اور چٹانوں کی فرشی ساختیں، ملنسار اور مہمان نواز لوگوں پر مشتمل یہ خطہ قدرت کا انعام ہے،چونکہ یہ کہوٹہ سے منسلک ہے اس کی وجہ سے یہاں سیکورٹی تھوڑی سے سخت ہے اور غیر ملکیوں کا داخلہ بھی ممنوع ہے، مگر پاکستانیوں کو آنے جانے میں مسئلہ نہیں ہوتا۔

راولپنڈی سے راولاکوٹ کشمیرکی جانب جاتے ہوئے جب ہم کہوٹہ سے گزرتے ہیں تو کہوٹہ سے راولاکوٹ کے درمیان ایک جگہ نرڑ آتی ہے۔ نرڑ سے ہی ایک سڑک انتہائی خوبصورت پہاڑی سلسلے کی طرف جاتی ہے۔اس پہاڑی سلسلے کو پنج پیر کی پہاڑیاں کہا جاتا ہے۔

ضرور پڑھیں: سوچ کے رنگ

پنج پیر دنوئی کوٹلی ستیاں کہوٹہ کا سب سے اونچا پہاڑی مقام ہے۔سردیوں کے موسم میں یہاں ہر سال کئی فٹ تک برف پڑ جاتی ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق اس جگہ کو پنج پیر اس لئے کہا جاتا ہے کیونکہ پنج پیر کے اونچے مقام پر ایک مزار ہے جہاں پانچ بزرگ آ کر رہے تھے۔ اس جگہ پر ایک ریسٹ ہاوس بھی ہے جو کہ 1928 ء میں تعمیرکیا گیاتھا۔ یہ ریسٹ ہاوس محکمہ جنگلات کی زیرسرپرستی ہے اور یہ بہتر ہے کہ رات گزارنے کے لئے پیشگی بکنگ کروالی جائے۔ اس علاقے کی خوبصورتی یہ ہے کہ یہاں پر ایسی پہاڑیاں ہیں جو کہ پاکستان کے کسی اور علاقے میں آپ کو نہیں ملیں گی۔ یہ اپنی بناوٹ اور خوبصورتی کے لحاظ سے دوسرے مقامات سے منفرد ہے۔ یہ پہاڑیاں Rock Climbingکے لئے بہترین ہیں مگر یہ اندازہ نہیں ہے کہ ان کو اس مقصد کے لئے کبھی استعمال کیا گیا ہو۔

کسی صاف دن کی روشنی میں یہاں سے کاغان ویلی کے دوسرے پہاڑوں کے ساتھ ساتھ "مکڑا چوٹی"کو اور مشرق کی جانب دریائے جہلم کو اپنی بھرپور رعنائیوں کے ساتھ بہتا ہوا دیکھا جا سکتا ہے۔ لاہور اور راولپنڈی کے سیاحوں کے لئے یہ قریب ترین خوبصورت سیاحتی مقام ہے۔راولپنڈی سے دو گھنٹے اور لاہور سے تقریباًچھ گھنٹے میں پہنچا جا سکتا ہے۔

انفرادی ، اجتماعی اور حکومتی کوششوں سے ان خوبصورت علاقوں سے دنیا کو متعارف کروایا جا سکتا ہے اور یہاں کی ترقی میں کردار ادا کیا جا سکتا ہے۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

.

مزید : بلاگ