مقدس مقامات کو فریب گاہیں بنانے والے

مقدس مقامات کو فریب گاہیں بنانے والے
مقدس مقامات کو فریب گاہیں بنانے والے

  

تحریر : راحیلہ خالد

سیاست کے ایوانوں سے فقراء کے غریب خانوں تک ہر جگہ نفسا نفسی کا عالم ہے،خوفِ خدا نام کو نہیں ہے اور یہی نفسا نفسی ہی ہے جو انسان کو انسانیت کی حدود سے نکل کر جانور بننے اور ایک دوسرے کی بوٹیاں نوچ کھانے پہ مجبور کرتی ہے۔ جس معاشرے میں مسجد کے چندے کو غیر قانونی سرگرمیوں کیلئے استعمال کیا جائے،جہاں درباروں اور درگاہوں کو مذہبی عقیدت گاہوں کی بجائے عادی مجرموں کی پناہ گاہیں اور اسکولوں اور یونیورسٹیوں کو درسگاہوں کی بجائے جرائم کی آماجگاہیں بنا دیا جائے۔ اس معاشرے کے لوگوں پر جب قدرتی حادثات و آفات کی شکل میں اللہ جل شانہْ کا عذاب نازل ہوتا ہے تو لوگ اپنے گریبانوں میں جھانکنے اور اپنے اعمال درست کرنے کی بجائے مالکِ وحدہْ لا شریک سے گلے شکوے کرنے لگتے ہیں۔ وہ ان عناصر کی جانب جانتے بوجھتے توجہ نہیں دیتے جو اللہ پاک کی ناراضی کا سبب بنتے ہیں۔

اس دنیائے فانی میں ہر ایک انسان اپنے آپ کو عقل کل اور دوسروں کو بیوقوف سمجھتا ہے۔ اور اسی خوش فہمی میں وہ دوسروں کو دھوکہ دینے حتیٰ کہ نقصان پہنچانے سے بھی گریز نہیں کرتا۔ انسانوں کا ایک دوسرے کے ساتھ ایسا رویہ معاشرے میں مختلف قسم کے جرائم کو جنم دیتا ہے۔ اور یہ جرائم زیادہ تر ایسے علاقوں یا جگہوں پر رہ کر انجام دئیے جاتے ہیں جہاں عام لوگوں کو ان پر شک نہیں ہوتا۔ مثلاً زیادہ تر درباروں،درگاہوں،مسجدوں اور ایسے ہی مقامات جو مذہب سے وابستہ ہیں انہیں جرائم کے اڈوں کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ اور وہاں پر آنے والے زائرین اور نمازیوں کو کبھی مذہب کے نام پر اور کبھی انسانیت کے نام پر بلیک میل کیا جاتا ہے۔ چوری چکاری،بدکاری،انسانی سمگلنگ،فریب،دھوکہ،نشہ،اغوا،رشوت ستانی جیسے جرائم انہی جگہوں پر پنپتے ہیں۔ حالانکہ جن صوفی بزرگوں کی درگاہوں اور درباروں پر ایسی منفی سرگرمیاں عمل میں لائی جاتی ہیں۔ ان کی تعلیمات ہرگز ان غیر اخلاقی و غیر قانونی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دیتیں۔

گھر سے بھاگے ہوئے اور حالات سے دلبرداشتہ بچے،جن کے ماں باپ ان پر بچپن سے ہی گھر کی دال روٹی چلانے کا بوجھ لاد دیتے ہیں وہ اس بوجھ سے چھٹکارا پانے اور اپنے والدین کی بے جا ڈانٹ و مار سے بچنے کیلئے گھر سے بھاگ کھڑے ہوتے اور ان کا ٹھکانہ دربار اور درگاہیں ہی ہوتی ہیں۔ جہاں انہیں لنگر کی صورت میں دو وقت پیٹ بھرنے کو بھی ملتا ہے اور رہائش بھی۔ اور یہیں وہ ایسے لوگوں کے ہتھے بھی چڑھ جاتے ہیں جو انہیں بہلا پھسلا کر یا تو نشے کا عادی بنا دیتے ہیں اور ان سے بھیک منگواتے اور دوسرے غیر قانونی کام کرواتے ہیں یا انہیں انسانی سمگلنگ جیسے غیر اخلاقی و غیر قانونی کام کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ بہت کم ایسے ہوتے ہیں جنہیں کوئی مسیحا اپنی شفقت سے راہ راست پر لے آتا ہے۔

گھروں سے بھاگے ہوئے بچے و نوجوان اور حالات سے دلبرداشتہ افراد درباروں یا درگاہوں کو مذہبی عقیدت و وابستگی کی بناء پہ اپنا ٹھکانہ نہیں بناتے بلکہ دراصل وہ وہاں راہِ فرار ڈھونڈتے ہیں۔ جہاں انہیں بناء کسی محنت و مشقت کے کھانا اور رہائش مفت ملتی ہے۔ اور ان کے کسی بھی غیر اخلاقی اور غیر قانونی فعل پہ انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا۔ ایسے ہی گھر سے بھاگے ہوئے ایک نوجوان حفیظ نے بتایا کہ وہ دس سال کا تھا جب اس نے اپنا گھر چھوڑا تھا۔ اور اب اس کی عمر بیس سال ہے۔ وہ شیخوپورہ کے قریب ایک گاؤں کا رہنے والا ہے۔ اس کا باپ نشے کا عادی ہے۔ اس نے اپنے باپ کی مار سے بچنے کیلئے اپنا گھر چھوڑا تھا۔ اور اس تمام عرصے میں وہ کبھی واپس اپنے والدین سے ملنے تک نہیں گیا۔

اس کے علاوہ ایسی پاک و بابرکت جگہوں کو چوری چکاری کیلئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ پھر وہ چاہے مرد ہوں یا عورتیں۔ وہ گروہ کی شکل میں ایسے جرائم کو انجام دیتے ہیں۔ ان کی پوری ایک چین ہوتی ہے جس سے انہیں پکڑنے اور پہچاننے میں مشکل ہوتی ہے۔

نوجوان لڑکیوں کے اغوا کی وارداتیں تو ایسی جگہوں پر روز کا معمول بن گئی ہیں۔ معصوم لڑکیوں کو اغوا کے بعد بیرون ملک سمگل کر دیا جاتا ہے ۔ اور ان کے ماں باپ یہ تک نہیں جان پاتے کہ آخر انکی بچیوں کے ساتھ ہوا کیا۔ انہیں زمین کھا گئی یا آسمان نگل گیا۔

نشے کے عادی افراد بھی اپنا ٹھکانہ انہی درباروں اور درگاہوں کو ہی بناتے ہیں۔ ان کے پورے کے پورے ٹولے دن رات یہیں رہتے ہیں۔ اور انہیں پکڑے جانے کا بھی ڈر و خوف نہیں ہوتا۔ کیونکہ زیادہ تر نشے کے عادی افراد پولیس کی پناہ میں اور ان کی زیر سرپرستی ہی ایسی جگہوں پر جرائم انجام دیتے ہیں۔

غرض یہ کہ درباروں کے باہر جوتے اکٹھے کرنے والوں سے لیکر نیاز کی دیگیں بیچنے والوں تک نے دھوکہ دہی و فریب اور بے ایمانی کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ جس میں معصوم لوگ نا چاہتے ہوئے بھی پھنس جاتے ہیں۔

میڈیا اور عام لوگ ان تمام جرائم کا ذمہ دار پولیس کو سمجھتے ہیں جو جانتے بوجھتے ان جرائم کو پنپنے میں مدد کرتے ہیں۔ کیونکہ ان کی مرضی و منشاء کے بغیر ایسی جگہوں پر جہاں پولیس 24 گھنٹے ڈیوٹی دیتی ہے،ایسے جرائم کو انجام دینا نا ممکن ہے۔ کچھ لوگوں کے مطابق تو پولیس جرائم پیشہ افراد سے اپنا ہفتہ وار حصہ بھی وصول کرتی ہے۔ اور وہ پولیس کی چھپر چھایہ تلے ہی ایسے سنگین جرائم کا ارتکاب کرتے اور انہیں انجام تک پہنچاتے ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومتِ پاکستان اور مذہبی امور کے وزیر ان مقدس مقامات پر انجام دئیے جانے والے اِن تمام غیر اخلاقی و غیر انسانی اور غیر قانونی سرگرمیوں کا نوٹس لیں۔ اور ان کی روک تھام کیلئے خاطر خواہ اقدامات کئے جائیں اور قرار واقعی سزائیں دی جائیں۔ تاکہ آئندہ جرائم پیشہ عناصر ایسے مقدس و مذہبی مقامات کی طرف بری نظر ڈالنے اور انہیں اپنے ناپاک و پلید عزائم کیلئے استعمال کرنے سے پہلے ہزار بار سوچیں۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

۔

مزید : بلاگ