جس بھی علاقے میں انسان یہ کام شروع کرتے ہیں وہاں زلزلے آنا شروع ہوجاتے ہیں، سائنسدانوں نے واضح اعلان کردیا، ثبوت بھی انسانوں کے سامنے رکھ دئیے

جس بھی علاقے میں انسان یہ کام شروع کرتے ہیں وہاں زلزلے آنا شروع ہوجاتے ہیں، ...
جس بھی علاقے میں انسان یہ کام شروع کرتے ہیں وہاں زلزلے آنا شروع ہوجاتے ہیں، سائنسدانوں نے واضح اعلان کردیا، ثبوت بھی انسانوں کے سامنے رکھ دئیے

  

اوٹاوا (نیوز ڈیسک) انسان جوں جوں ترقی کی منازل طے کرتا جارہا ہے، اپنے ہاتھوں سے اپنی تباہی کا سامان بھی تیار کرتا جا رہا ہے۔ گزشتہ چند سالوں کے دوران دنیا کے متعدد علاقوں میں زلزلوں کی شرح میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے، اور اب یہ تشویشناک انکشاف ہوا ہے کہ اس کا تعلق بڑی حد تک انسان کے اپنے اعمال کے ساتھ ہے۔

اخبار دی انڈیپینڈنٹ کی رپورٹ کے مطابق صرف گزشتہ چار ماہ کے دوران کینیڈا کے متعدد علاقوں میں زلزلے کے 900 سے زائد جھٹکے محسوس کئے گئے ہیں۔ اتفاق سے ان تمام علاقوں میں گیس نکالنے کے لئے استعمال ہونے والی متنازع فریکنگ ٹیکنالوجی کا استعمال جاری ہے۔ تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ جن علاقوں میں گیس نکالنے کے لئے فریکنگ کی جاتی ہے وہاں پیدا ہونے والے زلزلے وقفے وقفے سے کئی ماہ تک جاری رہ سکتے ہیں۔

قیامت آنے والی ہے، بارسلونا یونیورسٹی کے ریاضی دان کی پیش گوئی

تحقیقاتی جریدے سائنس میں شائع ہونے والی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کینیڈا کے علاقے البرٹا میں دسمبر 2014ءسے مارچ 2015ءمحسوس ہونے والے زلزلے کے تمام جھٹکوں کی وجہ ہائیڈرالک فریکنگ تھی۔ اگرچہ ان میں سے اکثر کم شدت کے جھٹکے تھے البتہ بعض اتنے شدید تھے کہ انہیں بخوبی محسوس کیا جاسکتا تھا۔

فریکنگ ٹیکنالوجی میں انتہائی شدید دباﺅ پر مائعات زمین میں داخل کرکے زیر زمین چٹانوں کو توڑاجاتا ہے اور ان میں سے گیس نکالی جاتی ہے۔ اس ٹیکنالوجی پر تنقید کرنے والے سائنسدان ایک عرصے سے خبردار کررہے ہیں کہ یہ زلزلوں اور دیگر ماحولیاتی تباہی کا سبب بن سکتی ہے۔ کینیڈا میں تحقیق کرنے والے سائنسدانوں نے یہ وارننگ بھی جاری کی ہے کہ فریکنگ کی وجہ سے البرٹا کے قریب ایک بڑی فالٹ لائن پر دباﺅ پڑا ہے، جس کا نتیجہ کسی بڑے زلزلے کی صورت میں سامنے آسکتا ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس