’’گھنٹی پر ارکان غائب‘‘

’’گھنٹی پر ارکان غائب‘‘
 ’’گھنٹی پر ارکان غائب‘‘

  

’’تم ہی اکلوتی اور چہیتی محبوبہ ہو‘‘اسے یہی یقین دلایا گیا تھا اس بناء پر زندگی بھر ساتھ نبھانے کی قسمیں کھا کر آئندہ اقتدار کی مسند پر براجمان کرنے کے سہانے سپنے دکھائے گئے تھے وعدے وعیدکئے گئے تھے لیکن جب ایم کیو ایم کے ساتھ خفیہ معاشقہ کا بھانڈا بیچ چوراہے پھوٹا تو اس کا دل بھی ٹوٹا، لیکن جب معلوم ہو اکہ ’’یک نہ شد دو شد ‘‘دیگر معاشقے بھی ہیں اور ان معاشقوں کا دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ ہر معاشقہ دوسرے سے خفیہ اور ہر معشوق کو یہی یقین دلایا گیا تھا کہ وہ اکلوتا محبوب ہے، لیکن جب یکے بعد دیگرے تمام معاشقے سر بازار آئے تو تمام محبوباؤں کے ارمانوں پر او س پڑنا فطری تھا ، پی ٹی آئی کا خیال تھا کہ وہ بلاشرکت غیرے مقتدر حلقوں کی محبوب پارٹی کے طورپر آئندہ انتخابی معرکے میں جائیگی اور میدان مارلے گی لیکن پہلے ایم کیو ایم اور پاک سرزمین پارٹی کے قضیے نے ایک دوسرے کے معاشقے کا راز طشت از بام کردیا جبکہ پاکستان پیپلزپارٹی کی کچھ عرصہ سے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر محبوبانہ اداؤں سے شک گزر رہاتھا کہ دال میں کچھ کالا کالا ہے رہی سہی کسر مقتدر حلقوں کی دیرینہ حلیف جماعت ایم ایم اے کی بحالی اور سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے تحت راتوں رات ایک ملغوبہ نما سیاسی اتحاد کی پر اسرار تشکیل نے ان ’’معاشقوں ‘‘کا پردہ بھی چاک کردیا ۔

اگرچہ سیاست کے بے رحم کھیل میں دل نہیں ہوتا تاہم صرف زبان کے مزے کیلئے محبوبوں اور معاشقوں کے استعارے استعمال کررہے ہیں لیکن گزشتہ ایک ہفتے میں سامنے آنے والی سیاسی پیش رفتوں سے یہ اشارے ملتے ہیں کہ پی ٹی آئی اور پاکستان پیپلزپارٹی دوسرے رقیب روسیاؤں کے سامنے آنے سے دل گرفتہ ضرور ہیں ، ان دونوں سیاسی جماعتوں کی دل شکستگی کی بدولت ان کے رویہ میں غیر متوقع تبدیلی دیکھنے میں آئی ، بالخصوص دونوں سیاسی جماعتوں نے بروقت الیکشن کے انعقاد کی راہ میں نئی مردم شماری کے مطابق حلقہ بندیوں کے حوالے سے آئینی ترمیم کی منظوری میں اہم کردار ادا کیا ، قبل ازیں پاکستان پیپلزپارٹی کے بارے میں ایک تاثر قائم ہورہا تھا کہ شائد یہ کسی نئے این آر او کی جانب پیش قدمی کررہی ہے پی پی پی تو اس حد تک جاتی ہوئی نظر آرہی تھی کہ پی ٹی آئی کو بھی شک ہونے لگا تھا کہ شائد ان سے بالا بالا کوئی باریک کھیل ہونے جارہاہے ، لیکن ایم کیو ایم کے معاشقہ کا طشت از بام ہونا پی پی پی کے رویہ میں تبدیلی کی ایک بڑی وجہ قرار دیا جارہاہے ، جبکہ یکے بعد دیگرے سامنے آنے والے ’’معاشقوں ‘‘سے پی ٹی آئی کو بھی لگا کہ شائد ’’سایاں کتھے تے ودھائیاں کتھے ‘‘والا معاملہ نہ ہو ، اس لئے پی ٹی آئی نے بھی اسی میں عافیت جانی کہ اس سے قبل کہ کہیں بے یقینی کے بڑھتے ہوئے سائے آئندہ الیکشن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیں ، ان کی تمام تر محنت پر کوئی دوسرا فریق ڈاکہ ڈال لے ، تو بہتر یہی ہے کہ مردم شماری اور حلقہ بندیوں پر متوقع آئینی بحران سے بر وقت نمٹ لیا جائے ، وگرنہ پی پی پی اور پی ٹی آئی دونوں اس ترمیم پر اپنے ’’عاشق ‘‘سے مل کر حکومت کو ناکوں چنے چبوا سکتی تھیں ۔

جمعرات کی رات قومی اسمبلی میں ترمیم منظور ہوئی تو اس روز سہہ پہر سے ہی پارلیمنٹ کی غلام گردشوں میں غیر معمولی چہل پہل دیکھنے میں آئی ، اگرچہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی بھی بروقت پارلیمنٹ میں مورچہ جما چکے تھے لیکن اس کے باوجو د پی ایم ایل این کے بعض قائدین کے چہروں پر پریشانی نما سنجیدگی عیاں تھی ، اگرچہ وزیراعظم کی قیادت میں پارلیمانی جماعتوں کے اجلاس میں بل پر اتفاق رائے ہو چکا تھا اور آئینی ترمیم کے منظور ہونے میں تو کوئی رکاوٹ نظر نہیں آرہی تھی تاہم اس کے باوجود حکمران جماعت کو تاریخ کے انتہائی سنگین نوعیت کے حامل چیلنجز کے در پیش اپنی پارلیمانی طاقت کو مجتمع رکھنے اور دکھانے کا مرحلہ تھا ، آئینی ترمیم پر اپوزیشن جماعتوں کی حمایت کے بعد قومی اسمبلی سے اس ترمیم کی منظوری بظاہر ایک رسمی کارروائی تھی لیکن بعض سرکردہ حکومتی ارکان کے چہروں کی سنجیدگی سے لگتاتھا کہ درپردہ کچھ نہ کچھ ضرور ہے جس کی پردہ داری کی جارہی ہے۔

ایوان میں طویل اور دھواں دھار تقریریں جاری تھیں ، سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے غیر معمولی رویہ اپناتے ہوئے اس اہم آئینی ترمیم کے موقع پر ارکان کی تقریر وں کو طول دینے پر روکانہ ٹوکا ،اس آئینی ترمیم کیلئے سپیکر ایا ز صادق نے انتہائی متحیر اور قائدانہ کردار ادا کیا ، طویل تقریروں کا یہ فائدہ ہوا کہ وہ ارکان اسمبلی جو کہیں مصروف تھے بالآخر ایوان میں پہنچ گئے اگرچہ 40کے لگ بھگ حکومتی ارکان قومی اسمبلی میں غیرحاضر تھے کچھ کی غیر حاضری کی وجوہات تو حقیقی تھیں لیکن بعض ارکان کی غیر حاضری میں شک و شبہ کا ساماں ضرورتھابالخصوص بغیر نمبر والی فون کالوں کے تناظر میں!

ووٹنگ کیلئے دروازے بند ہونے سے قبل ایک منٹ کی گھنٹیاں بجیں ، یہ باہر گھومنے پھرنے والے اراکین کو ایوان کے اندر بلانے کیلئے بجائی جاتی ہیں ، لیکن یہ کیا ہوا ؟21ارکان اسمبلی گھنٹی بجتے ہی ایوان سے کھسک گئے ، یہ تو غیر حاضر اراکین سے بھی زیادہ مشکوک ثابت ہوسکتے ہیں ، حاضری رجسٹر سے ان کی تلاش تو ہوگئی ہے اور اگر متعلقہ پارلیمانی جماعتوں کے سربراہ چاہیں تو انہیں آرٹیکل 63-Aکے تحت’’ ڈی سیٹ ‘‘ کرواسکتے ہیں ۔

اس تناظر میں اگلے ہفتے سینیٹ کی جانب سے سیاسی جماعت کی سربراہی کیلئے اہلیت کے حوالے سے بھیجوائے جانے والے بل پر ووٹنگ کا رجحان انتہائی اہم ہوگا، کیونکہ وہ اپنے ’’ضمیر‘‘کے مطابق ووٹ ڈال سکتے ہیں ، دیکھتے ہیں کہ ان کا ’’ضمیر ‘‘کس کے ساتھ ہے۔سینٹ میں بھی جمعہ کو آئینی ترمیم کیلئے’’ کورم پورا نہ ہوسکا‘‘یہ اجلاس بھی اب سوموار کو ہوگا،کھیل جاری ہے۔

مزید :

کالم -