آپ بہت یاد آتے ہیں

آپ بہت یاد آتے ہیں
آپ بہت یاد آتے ہیں

  

شیکسپیئر کا کہنا ہے کہ کچھ لوگ پیدا ہی عظیم ہوتے ہیں اور کچھ اپنی جدوجہد اور کارناموں کی بدولت عظمت حاصل کرلیتے ہیں۔بے مثال کردار کی منفرد شخصیت کے حامل پاکستان کے معروف صحافی،شاعروادیب غلام محی الدین نظرؔ مرحوم کے اندریہ دونوں اوصاف موجود تھے۔ وہ اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کی وجہ سے عظیم توتھے ہی اور پھر جب زندگی میں جدوجہد اور محنت کی تو اس عظمت کا معیار مزید بڑھا۔غلام محی الدین نظرؔ صاحب کی زندگی کے مختلف ادوار میں جھانکا جائے تو بچپن سے لے کر لحد تک بلند حوصلے ،سخت محنت،پختہ ایمانداری،مسلسل جدوجہد اور کامیابی کی لگن کی بہت سی ایسی مثالیں ملیں گی جو نہ صرف موجودہ دور کی بلکہ آنیوالی نسل کو ہمیشہ محنت اورایمانداری کا پیغام دیتی رہیں گی۔غلام محی الدین نظرؔ مرحوم کی شخصیت بلند حوصلگی ،کردار کی پختگی اور اُصولوں پر ثابت قدمی کا بہترین نمونہ تھی ۔صحافی،شاعر و ادیب ہونے کے ساتھ ساتھ غلام محی الدین نظرؔ ریڈیو پاکستان اور پاکستان ٹیلی ویژن کے سکرپٹ رائٹر بھی تھے۔نظرؔ اُن کا تخلص تھا جس کی وجہ سے انھیں ’’نظرؔ صاحب‘‘ کے نام سے پکارا جاتا تھا۔

نظرؔ صاحب کے والد گرامی معراجدین بھٹی قیام پاکستان سے قبل ایک انگریزی روزنامہ میں کام کرتے تھے۔اُن کی وفات کے وقت نظرؔ صاحب سکول میں پڑھتے تھے چنانچہ اپنے تعلیمی اخراجات پورے کرنے کیلئے سکول کے اس ننھے طالبعلم نے ہاکر کے طور پر کام کرنا شروع کردیا۔اب ننھا طالب علم سحری کے وقت اُٹھتااور اخبار مارکیٹ سے اخبار لے کر لوگوں کے گھروں میں اخبار پھینکنے کے بعد سکول کو روانہ ہو جاتا۔اخبار مارکیٹ سے جس دن اخبار لیٹ ملتے تو سکول سے بھی لیٹ ہوجاتا جس پر اُسے ماسٹر صاحب سے ہاتھوں پر ڈنڈے کھانا پڑتے لیکن ننھے طالب علم نے کبھی بھی ماسٹر صاحب کو لیٹ آنے کی وجہ نہ بتائی کیونکہ اُسے ڈر تھا کہ کہیں سکول آنے سے روک نہ دیا جائے۔اب اسے حسن اتفاق ہی کہا جائے گا کہ ننھے طالب علم کو ماسٹر صاحب کے گھر بھی اخبار دینا ہوتا تھا چنانچہ وہ اپنے منہ پر کپڑا لپیٹ کر ماسٹر صاحب کے گھر اخبار پھینکتا۔ایک دن اخبار لیٹ ہوگیا۔جب ماسٹر صاحب کے گھر اخبار پھینکا تو وہ شکایت کیلئے باہر آگئے، ننھا طالب علم گھبرا گیا اورجلدی میں واپس مڑنے لگا تو منہ سے کپڑا سرک گیا۔وہ جلدی سے بھاگا اور چلا گیا لیکن ماسٹر کو ساری صورتحال سمجھ آگئی تھی۔ننھا طالب علم اُس دن سکول سے بھی لیٹ ہوگیا کیونکہ اخبار لیٹ آنے کی وجہ سے وہ لیٹ ہوجاتا ۔سکول لیٹ پہنچنے پر ننھے طالب علم نے چھڑی کھانے کیلئے اپنے ہاتھ ماسٹر صاحب کے آگے کردیئے۔ماسٹر صاحب کی آنکھوں میں آنسو بھر گئے ‘ ننھے طالب علم کے ہاتھوں کو چوم لیا اور کہا جو بچہ پڑھائی کے لئے محنت کرے وہ پٹائی نہیں بلکہ پیار کا حقدار ہے۔اُس دن کے بعد سے ماسٹر صاحب نے کبھی بھی اس طالب علم کو نہ مارا اور نہ ڈانٹا بلکہ دیر سے آنے پر پچھلا سبق بھی یاد کروا دیتے تھے۔وہ ننھا طالب علم بڑا ہو کر نظرؔ صاحب بنا۔ کسے پتہ تھا جو بچہ آج گھر گھر اخبار پھینک رہا ہے کل وہ اسی اخبار پر راج کرے گا۔پڑھائی کے ساتھ ساتھ نظرؔ صاحب نے سکول کے تعلیمی میگزین میں نثر اور شاعری شروع کردی تھی اور ایک وقت آیاکہ سکول کے پرنسپل نے نظرؔ صاحب کی تحریروں سے متاثر ہوتے ہوئے اُنھیں میگزین کا انچارج مقرر کردیااوریوں نظرؔ صاحب کی ادبی زندگی کا آغاز ہوا۔

تعلیمی اخراجات کو پورا کرنے کیلئے نظر صاحب محنت مشقت اور لکھنے لکھانے کا شوق میگزین سے پورا کرنے لگے اس کے علاوہ ان کا کوئی مشغلہ نہ تھا ۔بسنت کے موقع پر جہاں ان کے ہم عصر پتنگیں اُڑانے میں مصروف ہوتے وہاں وہ پڑھائی میں مگن رہتے۔سکول کے میگزین سے پذیرائی اور ابتدائی شہرت ملی تو معروف جریدوں میں کام کرنے کی پیشکش ہونے لگی۔’’بچوں کی دنیا،ہونہار،بچوں کا باغ،شمع،مالا،سکھی گھر،اخبار خواتین ،قومی ڈائجسٹ ‘‘سمیت متعدد جریدوں میں باقاعدہ لکھنا شروع کردیابعد ازاں مختلف روزناموں ’’امروز،جرأت ‘‘کے بعد روزنامہ مشرق میں کام کرنے لگے۔اُردو بازار لاہور کے تقریباً ہر پبلشر کے ہاں اُن کی مختلف موضوعات پر جن میں بچوں کی کہانیاں،نثر و شاعری کی کتابیں شائع ہونے لگیں۔پبلشرزاور ریڈرز کو اُن کی تحریروں کا انتظار رہتا۔نظرصاحب نے پہلی مرتبہ روزنامے میں بچوں کاایڈیشن متعارف کرایایوں وہ بچوں کے صفحے کے انچارج بن گئے ۔نظرصاحب نے ’’بچوں کا مشرق ‘‘ کیلئے اس قدر محنت کی کہ اُسے نہ صرف بچے بلکہ بڑے بھی پڑھنے لگے جس کا برملا اظہار سابق صدر ضیاء الحق کی اہلیہ نے الحمراء آرٹ سنٹر میں ایک تقریب کے دوران کیا کہ انھیں بھی ’’بچوں کا مشرق ‘‘کا انتظار رہتا ہے کیونکہ اُس میں بچوں کے ساتھ بڑوں کو بھی بہت کچھ سیکھنے کو ملتا تھا۔

’’بچوں کا مشرق ‘‘کی مقبولیت بڑھنے لگی تو ملک بھر سے بچوں اور ان کے والدین کے پسندیدگی کے ہزاروں خطوط آنے لگے جن میں نظر صاحب کو بچوں کے بھائی جان کے نام سے مخاطب کیا جاتا۔چنانچہ نظرصاحب کو’’ بچوں کا بھائی جان‘‘ نام سے شہرت ملنے لگی۔بچوں کے بھائی جان ملک بھر کے سکولوں اور تعلیمی اداروں میں بطور مہمان خصوصی شرکت کرنے لگے۔نظرصاحب اب نہ صرف کامیابی حاصل کرنے والے بچوں کو انعامات اور اسناد دیتے بلکہ اپنی تقاریر میں بچوں کو تعلیمی میدان میں اور آگے بڑھنے کی تلقین کرتے۔

ایک مرتبہ نظرؔ صاحب کے قریبی دوست نے انھیں اپنے سکول کی سالانہ تقریب تقسیم انعامات میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی دعوت دی تو نظرؔ صاحب چلے گئے لیکن جونہی سٹیج پر طالب علم بچیوں نے ڈانس شروع کیا تو نظرؔ صاحب وہاں سے اُٹھ کر چلے گئے۔نظرؔ صاحب چونکہ سکولوں کی آنکھوں دیکھی رپورٹ بھی شائع کرتے تھے تو انھوں نے اس سکول کی بھی آنکھوں دیکھی رپورٹ سچ سچ شائع کردی جس پر سکول کے خلاف ایکشن ہواجس پر دوست نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بچیوں کا ڈانس حاضرین کی انٹر ٹینمنٹ کیلئے تھاتو نظر صاحب نے کہا کہ انٹر ٹینمنٹ کے نام پربے ہودہ ڈانس کروا کر آپ نئی نسل کو کیا پیغام دے رہے ہیں؟آپ کا ادارہ تعلیمی ادارہ ہے اور ایک اچھے ادارے کو یہ باتیں زیب نہیں دیتیں۔دوست شرمندہ ہوگیا اور آئندہ سے توبہ کرلی۔نظرؔ صاحب بچوں کے ادب کے ساتھ ساتھ بڑوں کے ادب پر بھی کام کرتے رہے۔اصلاح کا پہلو مدنظر رکھتے ہوئے ریڈیو پاکستان اور پاکستان ٹیلی ویژن کیلئے بھی سکرپٹ لکھنے شروع کردیئے ۔نظر صاحب نے اپنی تحریروں کے ذریعے بچوں اور بڑوں کیلئے جس قدر خدمات انجام دی وہ ناقابل فراموش ہیں ۔ان کی ہر تحریر کوئی نہ کوئی پیغام دیتی نظر آتی ہے جو کچھ لکھتے اس کے معنی دلوں تک پہنچانے کی کوشش کرتے۔اپنی تحریروں کے ذریعے انہوں نے قوم کو اصلاح کی ترکیب بتائی ۔نظر صاحب جتنے اصول پسند تھے اتنے ہی ہمدرد اور نیک دل بھی تھے۔ایک مرتبہ اپنے دفتر جارہے تھے کہ موٹر سائیکل پنکچر ہوگئی ۔پنکچر کی دکان پر دیکھا کہ استاد چھوٹے سے لڑکے کو گندی گندی گالیاں دیتے ہوئے کام کروا رہا ہے۔نظر صاحب نے بچے کو گالیاں دینے سے منع کیا اوربچے سے چند سوال کئے تو بچے نے بتایا کی اسے پڑھنے کا بہت شوق ہے لیکن ماں باپ غریب ہیں اس لئے یہاں کام پر چھوڑگئے ہیں۔نظر صاحب نے بچے کا انٹرویو شائع کیا تو نہ صرف حکومت کی جانب سے بلکہ کئی مخیر حضرات نے بچے کی پڑھائی اور اس کے گھر والوں کے لئے مناسب خرچے کی حامی بھرلی۔چنانچہ بچے کو سکول داخل کرادیا گیا۔اسی طرح ایک دن اپنے آفس میں ایک بچے کوبڑا تھال تھامے چائے دیتے ہوئے دیکھا تو اس کا انٹرویو بھی شائع کردیا۔جلد ہی وہ بچہ بھی تعلیم حاصل کرنے لگا۔نظرؔ صاحب نے خود بھی لکھا اور دوسروں کو بھی لکھنے کی ترغیب دیتے رہے۔جب روزنامہ مشرق میں بہت سے نوجوان صحافت سیکھنے آتے تو نظر صاحب ان کی بھرپور تربیت کرتے یہی وجہ ہے کہ آج پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں ان کے شاگرد نامور صحافی کے طور پر کام کر رہے ہیں۔کہیں بھی نظرؔ صاحب کا ذکر کیا جائے یا تو ان کا شاگرد مل جائے گایا ان کا دوست ،جاننے والا،جس کو ایک مرتبہ نظر صاحب مل لیتے وہ کبھی بھی ان کو بھول نہ پاتا۔نامور صحافی ہونے کے باعث اکثر ضرورتمند اپنے مسائل ان کے پاس لے کر آتے تو وہ پوری توجہ سے مسائل سنتے اور اپنے قلم کے ذریعے ان کو حل کرادیتے اور بدلے میں کوئی بھی ذاتی مفاد حاصل نہ کیایہاں تک کہ کوئی مٹھائی بھی لے کر آتا تو اُسے واپس بھیج کر کہتے یہ اپنے بچوں کومیری طرف سے کھلا دینا ۔

پاکستان مسلم لیگ ن کے نواز شریف جب وزیر اعلیٰ پنجاب تھے تو وہ بھی نظر صاحب کی صحافتی خدمات کے معترف تھے اور اپنی تقریبات میں مدعو کرتے رہتے۔نظر صاحب کا شمار لاہور پریس کلب کے ان بانیوں میں سے ہوتا ہے جنھوں نے صحافیوں کی تنظیم کو منظم کرنے کا خواب دیکھا۔نظر صاحب کی صحافتی و ادبی خدمات پر انھیں بیشمار ایوارڈز اور تعریفی اسناد سے نوازا گیا۔انھوں نے علم و ادب کا کوئی پہلو اور موضوع ایسا نہیں چھوڑا جس پر کچھ نہ کچھ تحریر نہ کیا ہو۔اپنی تحریروں کے ذریعے ملک وقوم کے علاوہ ادب کیلئے اہم خدمات انجام دیں۔اکیڈمی ادبیات پاکستان سمیت متعدد ادبی و صحافتی تنطیموں سے وابستہ رہے ۔ان کی شاعری اور نثر کی کتابیں آج بھی مارکیٹ میں دستیاب ہیں جنھیں ریڈرز بڑے شوق سے پڑھتے ہیں۔

نظرؔ صاحب نے کسی بھی روزنامے میں پہلی مرتبہ روز شائع ہونے والی تصویری کہانی کا بھی آغاز کیا۔اُس وقت روزنامہ مشرق میں ان کی تصویری کہانی ’’برف کا آدمی‘‘ بہت مشہور ہوئی ۔لوگ سسپنس اور ہارر کہانی کو بڑے شوق سے پڑھتے تھے ۔نظر صاحب نے اپنی کہانیوں میں غیر معمولی طاقت رکھنے والے بہت سے کردار اُس دور میں متعارف کرائے جب دنیا بھر میں اس کا تصور بھی نہیں تھا ۔مثلاً ’’برف کا آدمی‘پتھر کا آدمی‘زندہ لاش ‘‘وغیرہ ۔آجکل ہالی وڈمیں ایسے کرداروں پر دھڑا دھڑ فلمیں بن رہی ہیں۔ صحافت ، ادب، علم و تربیت کا سفر ابھی شروع ہوا تھا کہ زندگی کا سفر ختم ہونے کو آگیا۔نظر صاحب کو 1992ء میں دانت کا انفیکشن ہوگیا بعد میں ڈاکٹر کی لاپرواہی کے باعث ان کیلئے جان لیوا ثابت ہوا۔چنانچہ 11نومبر1992ء میں اُن کا انتقال لاہورمیں ہوااور ایک عظیم انسان اپنے خالقِ حقیقی سے جاملا۔جب انمول ہسپتال میں ڈاکٹر اُن کو بچانے کی سر توڑ کوشش کررہے تھے تب بھی اُن کے ہاتھ میں قلم تھا اور آخری الفاظ جو انھوں نے ٹوٹے پھوٹے انداز میں بیڈ کے پاس کاغذ کے ٹکڑے پر لکھے، وہ تھے’’رہبر کا مرید‘‘یعنی اپنے رب کا بندہ۔اُن کے جنازہ میں معروف صحافیوں،شاعروں،دانشوروں ،ریڈیو پاکستان لاہور کے اسٹیشن ڈائریکٹر اور پاکستان ٹیلی و یژن کے پروگرام مینجر سمیت مختلف شعبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔اخبارات و جرائد میں انتقال کی خبریں اور خصوصی ایڈیشن شائع کئے گئے ۔انتقال کے بعد کئی ماہ تک اخبارات اور جرائد میں تعزیتی سیمینارز و تقریبات شائع ہوتی رہیں۔حکومت پاکستان ،وزارت اطلاعات و نشریات سمیت متعدد سیاسی و سماجی حلقوں کی جانب سے تعزیت کا اظہا رکیا گیا۔انھیں میانی صاحب قبرستان لاہور میں احاطہ طاہر بندگیؒ میں سپرد خاک کیا گیا۔ اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف نے اُن کی وفات کے بعد بیوہ کیلئے دس مرلہ پلاٹ،مالی امداد اوردو بچوں کو سرکاری نوکری اور ییلو کیب دینے کے احکامات جاری کئے بدقسمتی سے نواز شریف کا کیا ہوا وعدہ ایفا نہ ہوسکاجس پر صحافیوں کی جانب سے توجہ دلاؤ خبریں چھپتی رہیں۔ سینئر صحافی سرفراز سید نے روزنامہ پاکستان میں جبکہ یاسمین شاہد نے روز نامہ خبریں میں نواز شریف کو مرحوم صحافی کی بیوہ کے حق کیلئے توجہ دلائی۔معروف کالم نگاروں سعادت خیالی اور ضیا شاہد نے اپنے کالم اور خطوط کے ذریعے اعلیٰ حکام کی توجہ دلائی مگر مرحوم صحافی کے اہلخانہ آج تک سابق وزیر اعظم نواز شریف کی اعلان کردہ مراعات سے محروم ہیں۔

غلام محی الدین نظرؔ نے ایک بیوہ اور پانچ صاحبزادے چھوڑے ۔ان کے بڑے صاحبزادے جمشید نظر 1996ء میں اپنی تحریروں پر ایکسی لینس ایوارڈ حاصل کرچکے ہیں۔طاہر نظر روزنامہ جرأت اور پریس کلب میں جبکہ عامر نظر روز نامہ نیا اخبار اور نوائے وقت گروپ کے چلڈرن میگزین پھول میں صحافتی خدمات انجام دے چکے ہیں۔سینئر صحافی ،فیچر رائٹروکالم نگار ندیم نظر روزنامہ خبریں ،روزنامہ چٹان میں صحافتی خدمات انجام دینے کے بعد آجکل روزنامہ اوصاف کے میگزین ایڈیٹر ہیں۔ندیم نظر نے سابق آرمی چیف راحیل شریف کے معرکوں پر مبنی ایک کتاب ’’عہدِ راحیل شریف‘‘ بھی لکھی جسے زبردست پذیرائی ملی ۔غلام محی الدین نظرؔ صاحب کے صاحبزادے ندیم نظر گزشتہ 25برسوں سے اخبارات میں اپنی منفردتحریروں سے قارئین کو پڑھنے پرمجبور کرتے آ رہے ہیں۔ انہوں نے شام کے سب سے بڑے اخبار ’’نیا اخبار‘‘ میں ’’نظر کی نظر‘‘ میں مزاحیہ انداز میں سیاسی، فلم سٹارز،کھلاڑیوں اور دیگر نامور کھلاڑیوں پر تنقید کا ایک اچھا آغازکیا جو اتنا مقبول ہواکہ اب اس طرز کے ٹی وی پر پروگرامز چل رہے ہیں ۔ ندیم نظر 25برسوں میں بے شمار ایوارڈز حاصل کیے ۔رواں برس 5دسمبر کو ہونیوالی ایشیئن میڈیا ایوارڈ تقریب میں بھی انہیں بہترین میگزین ایڈیٹر کے طورپر نامزد کیا گیا ہے ۔غلام محی الدین نظرؔ صاحب نے جس طرح اپنی تحریروں کے ذریعے بچوں کی تربیت کی اوران کو تعلیم کی طرف راغب کیا ،انہی نیکیوں کی بدولت اللہ نے ان کے بچوں کی مدد کی اور علم کے زیور سے مالا مال کیا۔واقعی انسا ن کی نیکیاں کبھی رائیگاں نہیں جاتیں۔غلام محی الدین نظرؔ صاحب آج اس دنیا میں نہیں لیکن ان کی تحریریں آج بھی زندہ ہیں جو قارئین کے دلوں پر آج بھی اپنا سحر طاری کر دیتی ہیں جب تک یہ تحریریں رہیں گی غلام محی الدین نظرؔ صاحب کو بھلا نا نا ممکن ہو گا۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -