حاجی عبدالوہاب نے تبلیغی جماعت میں کب شمولیت اختیار کی، کیا وہ مولانا الیاس کاندھلوی کے بعد جماعت کے دوسرے امیر تھے؟ جانئے وہ باتیں جو اکثر لوگوں کو معلوم نہیں

حاجی عبدالوہاب نے تبلیغی جماعت میں کب شمولیت اختیار کی، کیا وہ مولانا الیاس ...
حاجی عبدالوہاب نے تبلیغی جماعت میں کب شمولیت اختیار کی، کیا وہ مولانا الیاس کاندھلوی کے بعد جماعت کے دوسرے امیر تھے؟ جانئے وہ باتیں جو اکثر لوگوں کو معلوم نہیں

  

رائیونڈ (ڈیلی پاکستان آن لائن) ’اللہ سے سب کچھ ہونے کا یقین اور غیر سے کچھ نہ ہونے کا یقین ‘ کا سبق کروڑوں انسانوں کو پڑھانے والے حاجی عبدالوہاب اسی کے پاس چلے گئے جس کے ’ کُن‘ پر پورا نظام قائم رہا ہے۔ انہوں نے 1944 میں تبلیغی جماعت میں شمولیت اختیار کی اور جماعت کے چوتھے امیر بنے۔

حاجی عبدالوہاب نوجوانی کی عمر میں مجلس احرار اسلام کیلئے کام کرتے رہے اور تقسیم کے بعد بورے والا میں مجلس کے امیر بھی رہے۔ انہوں نے 1944 میں تبلیغی جماعت کے امیر مولانا الیاس کاندھلوی سے ملاقات کی اور اس کے بعد اپنی پوری زندگی اللہ کے دین کیلئے وقف کردی۔ وہ تحصیلدار کی نوکری چھوڑ کر تبلیغی جماعت میں شامل ہوئے اور اللہ سے توکل کا ایسا پختہ یقین اپنے دل میں جگایا کہ اس کی روشنی سے دنیا بھر میں کروڑوں دلوں نے تسکین پائی۔

حاجی عبدالوہاب مولانا الیاس کاندھلوی کے ان پہلے 5 ساتھیوں میں شامل تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی اللہ کے دین کیلئے وقف کی۔ مولانا الیاس کاندھلوی نے 1927 میں تبلیغی جماعت کی بنیاد رکھی اور اپنے انتقال (1944) تک جماعت کے امیر رہے۔بانی کے انتقال کے بعد مولانا یوسف کاندھلوی (مولف: حیاة الصحابہ) 1965 تک، ان کے بعد مولانا انعام الحسن کاندھلوی 1995 تک تبلیغی جماعت کے امیر رہے۔ مولانا انعام الحسن کاندھلوی کے انتقال کے تقریباً 2 ماہ بعد حاجی عبدالوہاب 10 جون 1995 کو تبلیغی جماعت کے امیر مقرر ہوئے اور آج (18 نومبر 2018) اپنے انتقال سے پہلے تک جماعت کے امیر رہے۔

اگر پاکستان میں تبلیغی جماعت کی امارت کا جائزہ لیا جائے تو سب سے پہلے امیر محمد شفیع قریشی تھے جن کے 1971 میں انتقال کے بعد حاجی محمد بشیر پاکستان میں تبلیغی جماعت کے دوسرے امیر مقرر ہوئے۔ 1992 میں حاجی بشیر کے انتقال کے بعد حاجی عبدالوہاب تبلیغی جماعت کے پاکستان میں امیر مقرر ہوئے اور بعد ازاں مولانا انعام الحسن کاندھلوی کے انتقال کے بعد 1995 میں دنیا بھر میں تبلیغی جماعت کے امیر بنے۔

واضح رہے کہ حاجی عبدالوہاب کا آج (اتوار کو) طویل علالت کے بعد انتقال ہوا ہے۔ وہ گزشتہ کئی روز سے وینٹی لیٹر پر تھے جس کے باعث تبلیغی اجتماع میں شرکت بھی نہیں کرسکے تھے۔ ان کی نماز جنازہ کیلئے پہلے ظہر کا وقت مقرر کیا گیا تھا تاہم تبلیغی جماعت کی مجلس شوریٰ نے لوگوں کی سہولت کے پیش نظر ان کی نماز جنازہ کا وقت بعد از نماز مغرب کردیا۔ حاجی عبدالوہاب کی نماز جنازہ مرکزی اجتماع گاہ رائیونڈ میں ادا کی جائے گی۔

مزید : اہم خبریں /قومی