عدالت سے اجازت

عدالت سے اجازت

  



سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی علاج کے لئے بیرون ملک روانگی کا مسئلہ خدا خدا کر کے حل ہو گیا۔ لاہور ہائیکورٹ کے ڈویژن بنچ نے جو جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس سردار احمد نعیم پر مشتمل تھا،کئی ”گھنٹے“ کی سماعت کے بعد حکومتی موقف کو مسترد کرتے ہوئے انہیں کوئی بانڈ بھرے بغیر 4ہفتے کے لئے باہر جانے کی اجازت دیدی۔ امید کی جا سکتی ہے کہ وہ جلد از جلد عازم سفر ہو جائیں گے۔ مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب کے مطابق ایر ایمبولینس کو طلب کر لیا گیا ہے، جسے قطر سے یہاں پہنچنا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ڈاکٹروں نے اپنے مریض کو سفر کے لئے تیار کرنے کی غرض سے خصوصی ادویات دینا شروع کر دی ہیں تاکہ دوران سفر وہ پُرسکون رہیں اور کسی خطرے سے دوچار ہوئے بغیر منزل مقصود تک پہنچ جائیں۔

عدالت عالیہ لاہور نے میاں صاحب کی مخدوش حالت کے پیش نظر جس برق رفتاری سے یہ کیس نبٹایا، ہفتے کو تعطیل کے دن بھی سماعت جاری رکھی اور فریقین کو کسی سمجھوتے پر پہنچنے کے لئے جو مواقع فراہم کئے، اس سب نے عدالتی نظام پر اہل پاکستان کا اعتماد پختہ کیا ہے۔ آزاد عدلیہ یقینا کسی بھی جمہوری (یا غیر جمہوری) معاشرے کی بہت بڑی طاقت ہوتی ہے کہ انتظامیہ کی چیرہ دستیوں کے خلاف تحفظ فراہم کر کے شہریوں کے جذبہء حب الوطنی کو فروغ دینے میں اس کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہو جاتا ہے۔امیر المومنین عمر ؓفاروق کے دور میں جب ایک با ر زلزلہ آیا تو انہوں نے اپنا کوڑا زمین پرمار کر با آوازبلند کہا تھا، رک جا، رک جا، کیا تیرے اوپر بیٹھا ہوا عمر ؓ لوگوں کو انصاف فراہم نہیں کر رہا …… اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ مدینے کی ریاست میں انصاف کی قدر کس قدر واضح تھی اور اس کے اثرات کے بارے میں کیا توقعات بندھی ہوئی تھیں۔ حضرت عمرؓ کے یہ الفاظ غمازی کرتے ہیں کہ معاشرے انصاف کی بدولت ہی قائم رہتے اور آگے بڑھتے ہیں۔ جہاں انصاف نا پید ہو یا انصاف کے ادارے کام نہ کریں،وہاں استحکام کا خواب نہیں دیکھا جا سکتا۔ ایسے معاشروں میں شہری ریاست سے اس طرح نہیں جڑپاتے کہ اس کے تحفظ کے لئے اپنا سب کچھ داؤ پر لگا دیں۔ نا انصافی پر قائم ریاستیں کمزور اور کھوکھلی ہوجاتی ہیں۔جہاں طاقت قانون بن جائے وہاں افراتفری پھیلتی ہے، لوگ جتھے بنا کر ایک دوسرے سے برسر پیکار رہتے ہیں۔ مہذب معاشرے کی پہچان ہی یہ ہے کہ قانون طاقت ہو، طاقت قانون نہ بننے پائے۔ مدینے کی ریاست ہمارے خوابوں میں بستی ہے۔ مسلمان عقیدے کے طور پر (تاریخ کے جھروکوں سے) اس کی طرف جھانکتے رہتے ہیں۔ ہمارے وزیر اعظم عمران خان جب سے اقتدار میں آئے ہیں، مدینے ہی کی ریاست قائم کرنے کے عزم کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ اس لئے زیادہ ضروری ہو گیا ہے کہ پاکستان میں انصاف کے ادارے مضبوط ہوں، کسی شخص کو اہل اقتدار سے قربت کی بنا پر کوئی مصنوعی تحفظ حاصل ہو نہ ان سے دوری کی وجہ سے کسی محرومی کا احساس ہونے پائے۔

یہ بات بھی یاد رہنا چاہئے کہ انصاف کے اداروں کے استحکام کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انتظامیہ انصاف کے تقاضوں سے آنکھیں بند رکھنے کووطیرہ بنا لے۔ انتظامیہ کے پاس جو معاملات آئیں، اسے بھی ہر سطح پر منصفانہ فیصلے کرنا چاہئیں۔ اگر سیکشن افسر سے لے کر وزیر اعظم تک سب منصفانہ انداز میں اختیار کا استعمال کریں گے تو بہت کم لوگوں کو عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹانے کی ضرورت محسوس ہو گی، اس سے ان کا بوجھ کم ہو گا اور وہاں سے تیز رفتاری کے ساتھ مقدمات کے فیصلے ہو سکیں گے۔ اگر ہر چھوٹے بڑے کام کے لئے عدالت سے رجوع کرنے ہی کو طرۂ امتیازسمجھ لیا جائے تو نظام عدل بوجھ تلے دب جائے گا۔ مقدموں کی بھرمار ہو گی تو فیصلوں میں بھی تاخیر ہو گی۔ سابق وزیر اعظم کے علاج کے معاملے کوبھی دیکھا جائے تو بلا خوف تردید کہا جا سکتا ہے کہ انتظامیہ اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہی۔

ابتدا میں وزیر اعظم عمران خان نے اپنے بیمار حریف کے لئے خیر سگالی کے جن خیالات کا اظہار کیا تھا، ان کے اپنے رفقا نے ان کی قدر نہیں کی۔ کابینہ اور اس کی ذیلی کمیٹی نے معاملے کو سیاسی بنانے میں بڑی سرگرمی دکھائی۔ شریف برادران سے ایک ایسے بونڈ کا مطالبہ کیا گیا، جس سے نفسیاتی طور سے ان کی سبکی کا سامان ہو اور حکومت مونچھ اونچی کر کے دکھائے کہ اربوں روپے کی (نام نہاد) ریکوری کا اہتمام کر لیا گیا ہے۔ مشروط اجازت نامے کو پاکستان کے نامور ماہرین قانون کی انتہائی بھاری تعداد نے یہ کہہ کر رد کر دیا تھا کہ قانون میں اس کا کوئی تذکرہ نہیں ہے۔ معاملہ عدالت تک پہنچا تو یہی موقف درست ثابت ہوا۔ عدالت کے فیصلے کے بعد بھی بعض وزراء کاکلیجہ ٹھنڈا نہیں ہوا وہ حکومتی موقف کا دفاع کرنے کے ساتھ ساتھ یہ کہتے ہوئے پائے گئے کہ سپریم کورٹ میں اس فیصلے کے خلاف اپیل کی جانی چاہئے۔ اگرچہ کہ ڈاکٹر بابر اعوان جیسے قانونی سوجھ بوجھ رکھنے والے پی ٹی آئی ہی کے رہنما نے اس سے اتفاق نہیں کیا، اور اپنی دانش کو بروئے کار لاتے ہوئے کسی اپیل کے امکان کو مسترد کردیا، تاہم دودھ میں مینگنیاں ڈالنے والے اپنی جگہ دادشجاعت دے رہے ہیں۔ امید کی جاتی ہے کہ اس معاملے کو مزید الجھانے کی کوئی کوشش نہیں کی جائے گی اور سابق وزیر اعظم جلد از جلد عدالتی اجازت نامے سے استفادہ کرتے ہوئے مطلوب مقام علاج تک پہنچ جائیں گے اور وزیر اعظم عمران خان اپنے رفقا کو اپنے فرائض منصبی کی طرف توجہ دینے کی تلقین کریں گے کہ جذبات کو مجروح کرنے کا سلسلہ رک نہیں سکتا تو آہستہ تو ہو ہی جانا چایئے۔ گے۔

مزید : رائے /اداریہ