پاک افغان حکام کے مثبت مذاکرات!

پاک افغان حکام کے مثبت مذاکرات!

  



ایک بار پھر افغانستان اور پاکستان کے اعلیٰ حکام باہمی تنازعات کو خوش اسلوبی کے ساتھ حل کرنے پرمتفق ہوگئے اور طے کیا کہ ایک ٹیکنیکل کمیٹی قائم کرلی جائے جو تمام اختلافات اور شکایات کا جائزہ لے کر سفارشات مرتب کرے، دونوں ممالک کے درمیان کئی تنازعات اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ چترال میں پاکستان کی چیک پوسٹ حملے کے بعد اہم واقع کابل میں پاکستانی سفارت خانے کے عملے کو مسلسل ہراساں کرنے کا پیش آیا، یوں پھرسے کشیدگی کا تاثر ملا کہ پاکستان کے دفتر خارجہ نے اسلام آباد میں افغان ناظم الامور کو طلب کرکے احتجاج کیا تھا۔ کابل سے موصول خبروں کے مطابق پاکستان کی دفاعی ایجنسی آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید اور سیکرٹری خارجہ سہیل محمود نے کشیدگی ختم کرنے کے لئے افغانستان کا دورہ کیا اور کابل میں افغان انٹیلی جنس کے سربراہ قومی سلامتی کے چیف کے ساتھ تفصیلی مذاکرات کئے، اور تمام شکایات کے حوالے سے بات کی، فریقین نے کھلے دل سے اظہار خیال کیا اور اتفاق ہوا کہ ٹیکنیکل کمیٹی کشیدگی کا سبب بننے والے واقعات کی وجوہات کا سراغ لگائے گی۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایکشن پلان فار پیس اینڈ سالیڈیسریٹی کے تحت یہ دورہ ہوا اور طے پایا کہ ایکشن پلان کا اگلا اجلاس افغانستان میں اگلے ماہ ہوگا۔ افغانستان کی قومی سلامتی کے مشیر حمداللہ محب کے ترجمان کبیر جمال کے مطابق دونوں ممالک کے اعلیٰ سطحی نمائندوں نے باہمی تعلقات میں کشیدگی کا باعث بننے والے تمام معاملات پر تفصیل سے بات چیت کی۔ پاکستانی حکام کے مطابق دورہ مفید رہا۔ دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے ساتھ تعاون ہی کرنا ہوگا کہ خطے میں حالات سنور سکیں، پاکستان تو افغانستان میں ہر ممکن طریقے سے امن کا خواہش مند ہے کہ اس سے ہمارا اپنا اندرونی استحکام بھی بہتر ہوتا ہے، مگر یہ ایک تاریخی حقیقت اور زمینی حقائق ہیں کہ افغانستان کے حکمرانوں کا جھکاؤ بھارت کی طرف رہتا ہے جو خطے کے امن کو تباہ کرنے کے لئے بہت سے کام کرچکا، حتی کہ 10لاکھ سے زیادہ مظلوم کشمیری مسلمانوں کو قریباً ساڑھے تین ماہ سے محبوس کر رکھا ہے، ادھر افغانستان میں بھارتی قونصل خانے را کے اڈے بنے ہوئے ہیں اور پاکستان کے اندر تخریبی کارروائیوں کا بھی اہتمام کرتے ہیں۔ دوسری طرف پاکستان کا عمل یہ ہے کہ 25لاکھ سے زیادہ افغان مہاجرین کی سالہاسال سے میزبانی کی جارہی ہے اور امریکہ طالبان مذاکرات کی راہ بھی ہموار کی، پاکستان اس حوالے سے جانی و مالی نقصان اٹھا چکا جس کی تلافی ممکن ہی نہیں، اس کے باوجود امن کی کوشش جاری ہے۔ پاکستانی حکام نے بہتر، کیا کہ افغانستان جاکر کشیدگی کو ختم کرنے کے لئے بات چیت کی کہ بھارتی سازش بھی ناکام ہو اور ہمیں بھی سکھ ملے تاکہ خطے میں امن قائم ہوسکے۔ اس سلسلے میں ہمہ وقت خبردار رہنے کی ضرورت ہے۔ توقع کرنا چاہئے کہ حکام سیاسی معاملات کی الجھن سے خود کو بے نیاز رکھ کر خطے میں امن کیلئے چوکس رہیں

مزید : رائے /اداریہ