کشمیر کا مسئلہ …… اندرونی حالات

کشمیر کا مسئلہ …… اندرونی حالات
 کشمیر کا مسئلہ …… اندرونی حالات

  



ایسے نظر آتا ہے کہ بھارت نے اپنی خارجہ پالیسی میں پاکستان کے خلاف مزید جارحانہ پن کا اضافہ کردیا ہے جس میں پاکستان میں موجود لوگ جو پاکستان کی آزادی کے خلاف تھے، ان کو ہر طرح اپنے ساتھ ملانا اور پاکستان کے اندرونی حالات خراب کرنا تاکہ موجودہ عمران خان کی حکومت جو عالمی سطح پر کشمیر کے ایشو کو اجاگر کرنے اور کشمیریوں کو حق خودارادیت دلانے کی کوشش کر رہی ہے، اس کو ناکام کیا جائے اس کا ثبوت تو حضرت مولانا فضل الرحمن کے ”فسادی“ مارچ سے مل چکا ہے۔

حیران کن بات ہے کہ سب کو دکھ اپنا اپنا ہے مثلاً پی پی پی کو اپنے لیڈروں کے خلاف مسلم لیگ (ن) کے بنائے گئے مقدمات کا سامنا ہے وہ عمران خان کی حکومت میں چل رہے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کو اپنا دکھ اور پریشانی کہ ان پر پی پی پی کے دور کے بنائے گئے مقدمات عمران خان کی حکومت میں چل رہے ہیں مولانا جی الیکشن ہار گئے ہیں، چونکہ پچھلے تیس سالوں سے وہ برسراقتدار لوگوں میں شامل رہے ہیں۔

اب عمران خان نے اس کو شامل نہیں کیا ان کو اپنا دکھ اور سب حکومت مخالفین کو اپنا اپنا دکھ اور رولا اور بہانہ حضرت مولانا کی آزادی مارچ۔ (فسادی مارچ) کس سے آزادی، کیسی آزادی اور اسی رولے رپے میں جو حکومت کشمیر کے ایشو کو اجاگر کر رہی تھی وہ معاملہ تقریباً ٹھنڈا ہوگیا ہے اور اس تمام مارچ میں پاکستان کے بڑے بڑے سیاسی لوگ بھی مولانا کے ہم سفر ہوگئے اور پاکستان مخالف قوتیں تو مولانا اور ان کے ساتھیوں کی رات کو مالش کرکے تھکاوٹ اتارتی تھیں اور بڑے بڑے جغادری مولوی کہتے سنے گئے کہ ہماری بیویوں نے کہا ہے کہ عمران خان سے استعفا لے کر واپس آنا ہے۔

بہرحال موجودہ حالات اور دھرنے میں ہندوستان کو بہت فائدہ ہوا، ہندوستان کے لئے پاکستان کے حالات پریشان کن ہوگئے تھے۔ جن میں گوادر پورٹ فنگشل ہو چکی ہے اور چین کی طرف سے غیر ممالک کو بھیجی جانے والی اشیاء یہاں سے جانا شروع ہوگئی ہیں۔

سی پیک منصوبے کی کامیابی کی وجہ سے کئی ممالک نے اس میں شامل ہونے کی خواہش کا اظہار کیا ہے جس میں روس بھی شامل ہے اس منصوبے کی کامیابی پاکستان کے لئے بڑی ہی خوش آئند ہے۔

اگر دیگر ممالک اس کا حصہ بنتے ہیں تو کم از کم بھارت کی پاکستان کو تنہا کرنے کی کوششیں اپنی موت آپ مر جائیں گی۔ امریکہ نے ہندوستان کو اپنا دفاعی پارٹنر بنا لیا ہے اس لئے ہندوستان کو جدید ترین امریکی ہتھیاروں تک رسائی حاصل ہوگئی ہے، امریکہ کے ساتھ یورپی ممالک نے بھی بھارت کے لئے دفاعی ٹیکنالوجی کی فروخت شروع کردی ہے اور بھارت ان ممالک سے کئی بلین ڈالرز کے دفاعی ہتھیار خرید رہا ہے اور دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونک رہا ہے کہ پاکستان کشمیر میں دہشت گرد بھیج رہا ہے۔

ہندوستان نے تقریباً 3ماہ سے کشمیر میں کرفیو نافذ کر رکھا ہے۔ کشمیری لوگ جیلوں سے بھی بدتر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور مودی حکومت نازی حکمرانوں سے بھی زیادہ مظالم کشمیریوں پر کر رہی ہے، لیکن پاکستان کے چند لوگ اپنے مفادات میں اندھے ہوگئے ہیں، وہ اب بھی ہندوستان سے دوستی کی باتیں کرتے ہیں۔

مارچ کہاں گیا؟ ہمسایوں سے دوستی تو اچھی، لیکن اپنے ملک کی سلامتی تو ناگزیر ہے اب ہندوستان کشمیریوں پر کئے جانے والے ظلم و ستم پر پردہ ڈالنے کے لئے سرتوڑ کوشش کر رہا ہے جس میں وہ کامیاب نظر آ رہا ہے، چونکہ عالمی سطح پر کشمیر کے ایشو کو وہ پذیرائی نہیں مل سکی جو ملنی چاہئے تھی۔ پاکستان کو اندرونی دشمنوں کو ملیامیٹ کرکے جارحانہ پالیسی اپنانا ہوگی جس سے دنیا کے سامنے بھارت کا اصل چہرہ بے نقاب کرسکیں۔

خاموش ڈپلومیسی نے نہ ماضی میں کوئی فائدہ دیا اور نہ ہی مستقبل میں نظر آرہا ہے۔ امریکہ بھارت کا طرفدار ہے وہ پاکستان کی مدد کھل کر نہیں کرے گا اس کو بھارت کی منڈی درکار ہے امریکہ یا یورپی ممالک نے موجودہ حالات کے مطابق دنیا میں اپنے کاروبار تجارت میں اضافہ کرنا ہے۔

پاکستان کے اندرونی حالات اس قدر خرابی کی طرف جارہے ہیں کہ ان کا ٹھیک ہونا مشکل ترین نظر آرہا ہے۔ معاشی حالات ہی ملکوں کے حالات کو ٹھیک کرتے ہیں، تمام ملکوں کے اپنے اپنے مفادات ہوتے ہیں، بھارت نے پاکستان کے سی پیک منصوبے کو ناکام بنانے کے لئے اربوں ڈالر مختص کئے ہیں جبکہ پاکستان کو اپنے حالات ٹھیک کرنے کے لئے اربوں ڈالروں کی ضرورت ہے۔ ہمارے لئے اپنی ضروریات زندگی پوری کرنا مشکل ہو رہا ہے مگر ہندوستان کے مقابلے میں دفاعی اخراجات تو پورے کرنا لازمی ہوں گے۔

بھارت کو سب سے بڑا خطرہ ہے کہ 2030ء تک منصوبے کی تکمیل کے بعد پاکستان اور چین سپرپاور بن جائیں گے یہ بھارت کو قبول نہیں، لہٰذا اس منصوبے کو سبوتاز کرنا بھارتی خارجہ پالیسی کی اولین ترجیح ہے اس مقصد کے لئے بھارت کو آسان ہدف پاکستان معلوم ہوتا ہے جس میں وہ مذہبی انتشار اور دہشت گردی سمیت ہر حربہ استعمال کرسکتا ہے لہٰذا پاکستان کو بہت محتاط رہنا پڑے گا، بھارتی حکومت اور اس کے لیڈر پاکستان کو خطرناک دھمکیاں کیوں دے رہے ہیں، بھارت کے آرمی چیف نے چند دن پہلے بہت خطرناک دھمکی کیوں دی۔

انہوں نے پاکستان کے اندرونی دشمن خرید لئے ہونگے۔ گھر کا بھیدی لنکا ڈھا سکتا ہے بھارت کشمیری مسلمانوں پر انتہا کے ظلم و ستم کر رہا ہے پاکستان کے سوا دنیا کا کون سا اسلامی ملک ہے جو کشمیری مسلمانوں کے لئے ہندوستان کے خلاف آواز اٹھا رہا ہے کوئی بھی نہیں، آخر مسلمانوں کے درمیان کون سے مفادات ہیں جو ان کو ایک سطح پر اکٹھے نہیں ہونے دیتے اور مسلمان عالمی سطح پر تمام قوموں سے زیادہ پریشانیوں میں زندگی گزار رہے ہیں۔

ہندوستان کشمیری مسلمانوں پر ظلم وستم کر رہا ہے اور ان کے لیڈر اعلان کر رہے ہیں کہ ایٹم بم استعمال کرنے کی پالیسی پر دوبارہ سوچنا ہوگا تو پھر یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ پاکستان کشمیر کے ایشو کو اجاگر کرنے کی سزا اندرونی سازشوں اور دہشت گردی کے واقعات کے طور پر بھگت رہا ہے پاکستان حکومت کو کشمیری مسلمانوں کی ہر ممکن امداد کرنے کی سخت ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اپنے ملک کی سلامتی پر بھی گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے جس میں عوام کی روز مرہ زندگی کی ضروریات کو آسان کرنا بھی بہت اہم ہے۔ امن و امان عوام کا مسئلہ بھی حل کرنا اہم ہے اس کے ساتھ ساتھ عوام کے معاشی حالات کو سدھارنا حکومت کے اولین فرائض میں شامل ہے۔ غربت میں عوام جلدی گمراہ ہو جاتے ہیں اس طرف دھیان دینا ہوگا۔

مزید : رائے /کالم