بلوچستان کی سرزمین سے نکلنے والے قدرتی وسائل عوام اور صوبے کی ملکیت:جام کمال

بلوچستان کی سرزمین سے نکلنے والے قدرتی وسائل عوام اور صوبے کی ملکیت:جام کمال

  



کوئٹہ (این این آئی) وزیر اعلیٰ بلوچستان میر جام کمال نے بلوچستان کے وسائل کو ماضی کے ہونے والے معاہدوں کے مطابق توسیع دینے سے واضح الفاظ میں انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان کے عوام کے حقوق کے حصول اور صوبے کے وسائل پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا کیونکہ بلوچستان کی سرزمین سے نکلنے والے قدرتی وسائل عوام اور صوبے کی ملکیت ہے آئین کی شق 172 سب سیکشن 3 کے تحت بلوچستان میں تیل و گیس کے ذخائر کی تلاش اور نکلنے کی صورت میں بلوچستان اور وفاق کا برابر حصہ ہوگا اس کے علاوہ کسی بھی سابقہ معاہدوں کے مطابق ان میں توسیع نہیں کریں گے موجودہ صورتحال اور حقائق سمیت عوام کی امنگوں کی ترجمانی کرتے ہوئے معاہدے کئے جائیں گے یاد رہے کہ سوئی لیز کی معیاد 2015ء میں ختم ہوچکی ہے جس کو ایس آر او کے ذریعے چلایا جارہا ہے اسی طرح پاک ایران آئل ریفائنری کے لئے 1996ء میں وفاق کو الاٹ کی جانے والی ہزاروں ایکڑ اراضی کے معاہدوں کو بھی نئی شرائط کے مطابق یقینی بنایا جائے گا حکومت عوام اور بلوچستان کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی وزیر اعلیٰ کے واضح اور دو ٹوک موقف کے بعد گزشتہ دنوں وفاقی وزیر پیٹرولیم و توانائی عمر ایوب اور تحریک انصاف کے مرکزی رہنماء جہانگیر خان ترین سمیت وفاقی پیٹرولیم و توانائی کے سیکرٹریز اور دیگر آفیسران کو بھی اس صاف جواب کے بعد بغیر کسی حکومت کی حمایت اور یقین دہانی کے واپس خالی ہاتھ لوٹنا پڑا باوثوق ذرائع کے مطابق گزشتہ چند روز قبل وفاقی وزیر پیٹرولیم و توانائی عمر ایوب اور پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماء جہانگرین خان ترین وفاقی سیکرٹری اور دیگر آفیسران توانائی و پیٹرولیم خصوصی طیارے کے ذریعے کوئٹہ آئے اور وزیر اعلیٰ بلوچستان میر جام کمال خان سے ملاقات کی جس کا مقصد بلوچستان میں سوئی اورآئل ریفائنری کے لئے دی جانے والی اراضی کی منسوخی اور لیز کی معیاد ختم ہونے کے حوالے سے ان کی معیاد کو پرانی شرائط پر توسیع دلوانا چاہتے ہیں یاد رہے کہ سوئی لیز کی معیاد 2015ء میں ختم ہوگئی تھی تاحال اس کو ایس آر او کے ذریعے چلایا جارہا ہے اور وفاقی حکومت کے نمائندوں کی جانب سے حکومت بلوچستان اور وزیر اعلیٰ سے اس کی لیز کی میعاد میں توسیع کیلئے کہا گیا اور وفاقی وزیر کی جانب سے کوشش کی گئی کہ اس کی معیاد میں توسیع کی جائے جس پر وزیر اعلیٰ بلوچستان میر جام کمال خان نے بلوچستان اور عوام کے حق ملکیت، قدرتی وسائل پر ٹھوس اور واضح موقف اپناتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کی سرزمین سے نکلنے والے قدرتی وسائل اور زمین صوبے کے عوام اور حکومت بلوچستان کی ملکیت ہے ہم کسی بھی سابقہ شرائط پر ہونے والے معاہدوں کے مطابق کسی بھی لیز کی معیاد میں توسیع نہیں کرسکتے کیونکہ ماضی میں غلط طرز پر ہونے والے معاہدوں کی وجہ سے آج بلوچستان کے لوگوں میں احساس محرومی بڑا ہے اور صوبہ پسماندگی کی جانب گیا ہے موجودہ حکومت اس طرح کا کوئی اقدام نہیں اٹھائے گی جس سے بلوچستان کے عوام کے حقوق کی حق تلفی ہو ہماری کوشش ہے کہ بین الاقوامی معیار اور قوانین کے مطابق معاہدہ ہو جس میں حکومت بلوچستان عوام کے مفاد کو مد نظر رکھتے ہوئے شرائط مقرر کر کے توسیع دے گی تاکہ عوام کے حقوق متاثر نہ ہوں یہ تمام زمین اور معدنی وسائل بلوچستان کے عوام کی حق ملکیت ہیں اور وہی اس کے وارث ہیں اگر نئی شرائط پر لیز کے معاہدے میں توسیع کرنی ہے تو ہمارے ساتھ بیٹھ کربات کی جائے اس کے علاوہ 1996ء میں پاک ایران آئل ریفائنری کے قیام کیلئے (PEIRAC) کو گڈانی میں 5000 پانچ ہزار روپے فی ایکڑ کے حساب سے 1800 ایکڑ اراضی الاٹ کی گئی تاحال اس اراضی پر ریفائنری کی تنصیب اور قیام کے حوالے سے کوئی کام نہیں ہوا جس کے بعد بلوچستان حکومت نے اس لیز کو کینسل کردیا ہے مذکورہ وفد کی کوشش تھی کہ اس کینسلیشن لیز کو بحال کیا جائے۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان

مزید : علاقائی