انسانی ہمدردی کا تاوان

انسانی ہمدردی کا تاوان
 انسانی ہمدردی کا تاوان

  



تاریخ میں عمران خان نے ایسے وزیر اعظم کے طور پر اپنا نام رقم کرا لیا ہے جس نے انسانی ہمدردی تو جتائی لیکن اس کے عوض سات ارب روپے کا تاوان بھی مانگا۔ اگر انسانی ہمدردی تھی تو تاوان کیسا، جبکہ ہائی کورٹ ضمانت لے چکی تھی۔ اور اگر تاوان لینا تھا تو انسانی ہمدردی کے ڈھکوسلے کی کیا ضرورت تھی۔ عمران خان حکومت پچھلے پندرہ ماہ میں ہر چیز میں ناکام ہو چکی ہے لیکن اس ”منافقت“ نے چہرہ ہی بے نقاب کر دیا ہے۔ ایک ہفتہ جب ای سی ایل، ای سی ایل کے کھیل میں گذر گیا تو تنگ آمد بجنگ آمد میاں شہباز شریف نے لا ہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا جہاں معزز عدالت نے نہ صرف غیر مشروط طور پر میاں نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم صادر فرمایا بلکہ واپسی کے تعین کا اختیار بھی ڈاکٹروں کی صوابدید پر چھوڑدیا۔ عمران خان کی صرف ضد اور ”منافقت“ ہی ہاتھ سے نہیں گئی، وزارت عظمیٰ کے عہدے کی توقیر اور مان بھی جاتے رہے۔ سات ارب روپے کا تاوان کیا ملنا تھا، صرف پچاس روپے کے سٹامپ پیپر پر ایک ہومیو پیتھک سا بیان حلفی ہی ہاتھ آ سکا …… عمران خان کی کابینہ میں دو بڑے سائنس دان یعنی آئن سٹائن اور نیوٹن بیرسٹر فروغ نسیم اور مرزا شہزاد اکبر ہیں۔ کئی مہینوں سے عمران خان حکومت کو جتنا بے عزت ان دونوں ”سائنس دانوں“ نے کرایا ہے، اتنے مختصر وقت میں شائد ہی کوئی دوسرا کرا سکتا تھا۔ فروغ نسیم تو سیاست میں بہت سالوں سے ہیں، شہزاد اکبر نہ جانے کس پیراشوٹ سے جمپ لگا کر حکومت کا حصہ بنے ہیں۔ الیکشن کمیشن میں ممبران کی تقرری کا معاملہ ہو، اوٹ پٹانگ صدارتی آرڈی ننس ہوں یا احتساب کے نام پر مضحکہ خیز کارروائیاں، ہر جگہ ان دونوں میں سے کوئی ایک یا دونوں حکومت کو ذلیل کراتے نظر آئیں گے۔ یہ سات ارب روپے کی ضمانت لینے کا فارمولا بھی انہی سائنس دانوں کی ایجاد تھا۔

ان کا منصوبہ یہ تھا کہ اگر میاں صاحب یا ان کا خاندان یہ ”تحریر“ لکھ کر دے دے تو حکومت اس کا خوب ڈھول پیٹے گی، اور اگر نہ لکھ کر دیا تو سوشل میڈیا بریگیڈ کے ذریعہ بے تحاشہ پراپیگنڈا کیا جائے گا کہ چمڑی جائے دمڑی نہ جائے۔ گویا ان سائنس دانوں کے نزدیک چت بھی ان کی تھی اور پٹ بھی ان کی۔ وفاقی کابینہ میں چار درجن سقراط بقراط بیٹھے ہیں جنہوں نے سائنس دانوں کے منصوبے کو انتہائی اعلیٰ پائے کا قرار دیا۔ کرکٹ کا کھلاڑی وزیر اعظم بھلا ان نزاکتوں کو کہاں سمجھ سکتا ہے، اس نے سارے پلان کو او کے کیا، یوں پنگ پانگ کا کھیل شروع کر دیا گیا۔ انسانی ہمدردی کی بڑھک مارنے والے وزیر اعظم کو ذرا خیال نہ آیا کہ ایک ایک لمحہ میاں نواز شریف کی زندگی کے لئے کتنا قیمتی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ نرگسیت عمران خان کا ایک بڑا پرابلم ہے اور وہ اپنی ذات کے خول میں اس طرح سے قید ہیں کہ لاکھوں بلبلاتے عوام کی چیخیں بھی ان تک نہیں پہنچ رہیں۔ میاں نواز شریف کو تو ویسے ہی ذاتی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اس لئے انسانی ہمدردی کا ڈھکوسلہ کر کے تاوان مانگنے کا مقصد بھی یہی تھا کہ اگر وہ مرتے ہیں تو مر جائیں، بالکل ایسے ہی جیسے مصر کے سابق صدر محمد مرسی مر گئے تھے۔ موت برحق ہے، سب کو آنی ہے، لیکن ایسے حالات پیدا کر نے کی کوشش سے کسی کے ظرف کا پتہ ضرور چلتا ہے۔

مولانا فضل الرحمان کا لانگ مارچ کراچی سے شروع ہوکر لاکھوں لوگوں کے ساتھ اسلام آباد پہنچنا اور اس کے بعد اسے اچانک ختم کرکے علاقائی احتجاج میں اس وقت تبدیل کرنا جب حکومت دھرنے کے سامنے مجبور نظر آتی تھی، اپنے اندر معنی خیز پیغام رکھتا ہے۔ بالکل بلی چوہے کے کھیل جیسا، جس میں بلی پہلے چوہے کو پنجہ مار کر ڈراتی ہے اور جب چوہا ڈر جاتا ہے تو اسے چھوڑ دیتی ہے۔ چوہے کو لگتا ہے کہ جان چھوٹ گئی، لیکن بلی تو انجوائے کر رہی ہوتی ہے۔ جب اس کا دل کرتا ہے اسے دوبارہ پنجہ مار کر ادھ موا کر دیتی ہے۔ لوگ غلط نہیں کہتے کہ مولانا کبھی کچی یا گیلی زمین پر پیر نہیں رکھتے۔ بتایا گیا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے تمام سرکاری، سیاسی اورپارٹی مصروفیات سے دو دنوں کی چھٹی لے لی ہے۔ لگتا ہے کہ بلی چوہے کا کھیل اس وقت تک جاری رہے گا جب تک عمران خان سیاست سے مستقل ”چھٹی“ نہیں لے لیتے۔ اسی دھرنے کے دوران چودھری برادران کو مصالحت کے لئے مولانا کے پاس بھیجا گیا تو وہ ان کے ہی ہو گئے۔ اس سے بڑی مولانا کی کامیابی کیا ہو گی کہ جس چوتھے ستون پر حکومت کھڑی ہے وہی حکومت کو لڑکھرا رہا ہے۔ چودھری شجاعت کہتے ہیں کہ تین یا چھ ماہ بعد عمران خان کیا، کوئی بھی وزیر اعظم بننے کے لئے راضی نہ ہو گا۔ ادھر چودھری پرویز الٰہی نے پٹاری سے سانپ نکالنے شروع کئے تو بات جنرل پاشا تک لے گئے۔ ڈوبتی حکومت کے سائے بھی اسے چھوڑنے لگے ہیں۔ نہ صرف مسلم لیگ (ق) بلکہ ایم کیو ایم، جی ڈی اے اور بلوچستان کے اتحادی سب کے سب اپنا اپنا زاد راہ تیار کرتے نظر آرہے ہیں۔ انسانی ہمدردی جتا کر سات ارب روپے تاوان مانگنے پر حکومتی اتحادی سب سے زیادہ غصے میں نظر آئے۔ آئینی سائنس دان فروغ نسیم کی اپنی پارٹی کے سینیٹر محمد علی سیف نے کھل کر مذمت کی، بالکل ویسے ہی جیسے چودھری پرویز الٰہی نے۔ خیر، کرکٹ کے کھلاڑی کے لئے یہ موٹی موٹی سیاسی باتیں بھی سمجھ سے باہر ہیں۔ ان ہاؤس تبدیلی کا ذکر دوبارہ شروع ہو چکا ہے۔ اگر ہوتی ہے تو دیکھتے ہیں سلیکٹر قرعہ کس کے نام کا نکالتے ہیں۔ شاہ محمود قریشی، خسرو بختیار اور محمد میاں سومرو کے نام عموماً لئے جا تے ہیں۔ وفاق میں جو بھی ہونا ہو گا، ہو جائے گا، پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے لئے چودھری پرویز الٰہی دیوار چین کی طرح اب لوگوں کو خلا سے بھی دکھائی دے رہے ہیں۔

انسانی ہمدرد نے جب سات ارب تاوان مانگا تو رقم کا مسئلہ اس لئے بھی نہیں تھا کہ میاں نواز شریف کے چاہنے والوں کی کوئی کمی نہ تھی۔ اگر بات اصولوں کی نہ ہوتی تو سات ارب تو سات گھنٹوں میں اکٹھا ہو جاتا۔ لوگوں نے اپنی جائیدادیں میاں نوازشریف کے نام کرنا شروع کر دی تھیں۔ رائے ونڈ سے ایم پی اے مرزا جاوید نے کھڑے کھڑے اپنی قیمتی جائیداد میاں نواز شریف کے نام رجسٹری کردی، کروڑوں یا شائد اربوں کی جائیداد۔ مسئلہ رقم کا نہیں، مسئلہ تھا کہ تاوان کیوں دیا جائے۔ مَیں نے ای سی ایل کے قوانین بار بار پڑھے، کہیں اس بات کی گنجائش نہیں نکلتی کہ تاوان لے کر نام ای سی ایل سے نکالا جائے۔ یہ بالکل غیر قانونی، غیر آئینی اور غیر اخلاقی شرط تھی۔ نہ ہوتی تو لاہور ہائی کورٹ کبھی پچاس روپے کے سٹامپ پیپر پر بیان حلفی لے کر بیرون ملک جانے کی اجازت نہ دیتی۔ لاہور ہائی کورٹ میاں نواز شریف کو بیرون ملک علاج کرانے کی اجازت دے چکی ہے۔ انسانی ہمدردوں نے اگر کوئی اور رکاوٹ نہ ڈالی تو امید ہے میاں صاحب کا علاج برطانیہ میں شروع ہو جائے گااور اس بات کی بھی قوی امید ہے کہ میاں نواز شریف صحت مند ہونے کے بعد واپس آکر آئین اور سویلین بالا دستی کی جنگ دوبارہ شروع کریں گے۔ وہ کم از کم دو دہائیوں سے یہ جنگ لڑ رہے ہیں۔

یہ جنگ تو خیر آخری فتح تک جاری رہے گی لیکن عمران خان کو چاہئے کہ اپنی حکومت اور سیاست کو پراپیگنڈے کی بجائے پرفارمنس سے چلانے کی کوشش کریں۔ صرف ڈھول پیٹے جانے سے حکومتیں نہیں چلا کرتیں۔ میاں نواز شریف کو انتقام کا نشانہ بہت بنایا جا چکا لیکن انتقام اب حکومت کی رہی سہی ساکھ بھی ختم کر رہا ہے۔ چودھری پرویز الہٰی کے انٹرویو کے بعد وہ ایک صفحہ بھی بوسیدہ معلوم ہونے لگا ہے جس کا رات دن ڈھندورا پیٹا جاتا ہے۔ وزیر اعظم کی آرمی چیف سے دو ماہ بعد ملاقات ہوئی، سرکاری میڈیا نے تصاویر جاری کیں تو تبصروں کا انبار لگ گیا، دونوں کی باڈی لینگوئج پر جو تبصرے ہو رہے ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے کہ وزیر اعظم بار بار مسکرانے کا تاثر دے رہے ہیں جبکہ آرمی چیف کے چہرے پر بلا کی سنجیدگی دکھائی دے رہی ہے۔ اس کے بعد وزیر اعظم نے پہلی بار دو چھٹیاں لینے کا اعلان کیا تو چہ میگوئیوں کا طوفان امڈ آیا۔ میاں نواز شریف نے وزیر اعظم عمران خان کو ایک بہت بڑی اخلاقی شکست دی ہے۔ اگر عمران خان انتقامی مائندسیٹ اور نالائق سائنس دانوں کی عقل اور بغض کے اسیر نہ ہوتے تو ایک لمحہ ضائع کئے بغیر میاں نواز شریف کے سفر کے انتظامات کی خود نگرانی اور سہولت کاری کرکے اخلاقی فتح حاصل کر سکتے تھے، لیکن انہوں نے نہ صرف یہ موقع ضائع کر دیا بلکہ اپنی سیاست کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ حکومت کی کارکردگی پہلے ہی صفر ہے، ایک مریض سے تاوان کا مطالبہ کرکے وہ بند گلی میں پھنس گئے ہیں۔ حکومت کی نااہلی اور صفر کارکردگی میں جب منافقت، جھوٹی انا، تنگ نظری اور انتقام بھی شامل ہو جائیں تو اس کے انجام کی پیش گوئی کرنا کوئی زیادہ مشکل کام نہیں ہے۔ میاں نواز شریف کی صحت سے ناجائز طور پر کھیلنے اور اس میں بری طرح ہزیمت اٹھانے کے بعد عمران خان کوذاتیات سے اوپر اٹھنا ہو گا۔ انسانی ہمدردی..... سات ارب روپے تاوان۔ ناقابل یقین لیکن یہ ہماری سیاسی تاریخ کی شرمندگیوں میں سب سے بڑی شرمندگی کا مقام بن چکا ہے۔ توبہ کا راستہ ہمیشہ کھلا رہتا ہے، جتنی جلدی کر لی جائے اتنا ہی بہتر ہے۔ انسانی ہمدردی جتا کر تاوان مانگنا انسان کو کہیں کا نہیں چھوڑتا، سیاست اور حکومت تو بہت معمولی چیزیں ہیں۔

مزید : رائے /کالم