پاکستان کے کمّی

پاکستان کے کمّی
پاکستان کے کمّی

  



ہمارے دیہاتوں میں جس طبقہ کو ”کمّی“ کہا جاتا ہے اس کے خاندان میں نام لیکر پکارے جانے کے قابل کوئی نہیں ہوتا۔ گاؤں کا چودھری کسی کمّی کے بیٹے کا نام نہیں لیتا۔ کمہار کے بیٹے کو تو بلالو، موچی کو بلالو، جولاہے کے گھر میں یہ دانے پہنچا دو۔ کمّی کوئی نام نہیں رکھتا۔ وہ صرف اپنے پیشے اور ذات کے حوالے سے جانا جاتاہے۔ اب یہی صورت حال پاکستان کے 20کروڑ عوام کی ہے ان کا کوئی نام نہیں۔ ان کی کوئی حیثیت نہیں، نو آبادیاتی ریاست کے اہم ترین ادارے تو ویسے ہی انہیں انسانی سطح سے کم تصور کرتے ہیں اور برملا کہتے ہیں اس قوم کا علاج ڈنڈا ہے اور ماشاء اللہ قیام پاکستان سے اب تک ڈنڈا ہی ان پر حکمرانی کر رہا ہے۔ کچھ علاقوں میں کھلے طور پر اور کچھ میں قدرے پردہ داروں کے ساتھ۔ اب ان انسانی سطح سے کم تر لوگوں کے لئے تعلیم، روزگار، صحت، روٹی کی پرواہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ یہاں ایک فرد پورے معاشرے پر بھاری ہے۔ گزشتہ چند ماہ سے عوام سبزی کی خریداری کے قابل نہیں رہے، بچوں کی تعلیم اور بجلی کے بل کی ادائیگی کے بعد انہیں کھانے کے لئے روٹی اور سبزی دستیاب نہیں رہی، لیکن ہمارا ”آزاد“ میڈیا نوازشریف، آصف علی زرداری کی بیماری اور عمران خان کے بھاشن کے ایک ایسے گھیرے میں مقید ہوگیا ہے کہ اس کا کوئی دروازہ نظر نہیں آرہا۔ ایک ایسا اطلاعاتی گھیراؤ عوام کے اردگرد پھیلا دیا گیا ہے کہ وہ اپنی روٹی روزی بھی بھول جائیں، لیکن خالی پیٹ سب سے بڑی حقیقت ہوتی ہے۔ مولانا فضل الرحمن کا دھرنا بھی تین وقت کی روٹی کے بغیر نہیں ہوسکا۔ رات دن نوازشریف کی صحت کے بلیٹن چل رہے ہیں۔ کشمیر میں ایک کروڑ انسانوں پر اپنے جنت نظیروطن کی ہواؤں پر تک پابندی عائد ہو چکی ہے، کشمیر کے پھولوں کی خوشبو کو قید کر دیا گیا ہے۔ سندھ میں کتے انسانوں اور بچوں کو بھنبھوڑ رہے ہیں، لیکن سندھ کی حکومت اور حکمران خاندان آصف علی زرداری کی بیماری کے علاوہ کسی اور المیہ پر بات کرنے کے لئے تیار نہیں۔ ایک جمہوری اور آئینی حکمرانی والے ملک میں ریاست حراستی مراکز سپریم کورٹ کے تحت چل رہی ہے۔ ہزاروں لوگ حراستی مراکز سے زندگی کی اذیت سے گزر رہے ہیں، لیکن خواجہ آصف، خواجہ رفیق، سلمان رفیق اور ثناء اللہ کی حراست کی فکر ہے۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں خواجہ آصف کی پوری تقریر نہیں سنائی جاتی، مراد سعید بے تکان بولتے ہیں اور جب بلوچستان کا ایم این اے کھڑا ہوتا ہے تو ٹی وی اشتہار دکھانا شروع کر دیتا ہے۔ یہ ہے ہماری میڈیا کی آزادی کا استعمال۔ میڈیا مالکان نے خود پاکستان کے شہریوں کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ منتخب ایوان میں بھی مراعات یافتہ اور عام اراکین موجود ہیں اور یہ عام اراکین جمہوریت کے کمی ہیں، کیا کسی ملک میں یہ تصور بھی کیا جاسکتا ہے کہ ایک علاقے میں ایک لاکھ سے زائد افراد کتوں کے کاٹنے کا شکار ہو جائیں، سینکڑوں ہلاک ہوجائیں، لیکن وہاں کی حکومت کے پاس "Anti Rabi" دوا ہی موجود نہ ہو۔ نہ صرف یہ کہ کتے ختم کرنے کی مہم بھی نہ چلائی جاسکے۔ دس برس تک مسلسل حکومت کرنے والی جماعت صوبے میں تعلیمی ادارے اور کوئی نیا ہسپتال نہ بناسکے۔ جس کے اراکین اسمبلی ارب پتی ہو جائیں اور حکومتی ذمہ داران ان کی وکالت کا فریضہ ادا کریں۔ 30برس تک ملک میں حکومت کرنے والی سیاسی اور جرنیلی حکومتیں ملک میں ایک ایسا ہسپتال نہ قائم کرسکیں جہاں کسی ایک فرد کی پیچیدہ بیماری کا علاج ہوسکے۔ ایک ایسے ملک میں ”جمہوریت اور ووٹ کو عزت دو“ کے کیا معنی رہ جاتے ہیں، جہاں عوام زندگی کو ایک اذیت ناک عمل سمجھنے پر مجبور ہو جائیں۔ میاں نوازشریف ملک سے باہر چلے جاتے یا رہ جاتے، کیا یہی پاکستان کا بنیادی مسئلہ ہے؟ اس ملک میں ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی۔ لیاقت علی خان کو گولی ماری گئی۔ بینظیر بھٹو کو جدید ترین بارود کا نشانہ بنایا گیا۔ فرق صرف یہ ہوا کہ حکومت مختلف ہاتھوں اور اداروں کے قبضے میں رہی۔ ہماری زمین پر ساہیوال جیسے ہولناک قتل کے مجرم انسداد دہشت گردی کی عدالت بری کر دیتی ہے اور حکومت منہ دیکھتی رہتی ہے۔ اس معصوم گیارہ سالہ مقتولہ سمیت یہ کمّیوں کا قتل تھا، جن کا کوئی نام نہ تھا۔ ذراغور تو کیجئے اس فیصلے پر کوئی ٹی وی چینل ہنگامہ نہ کرسکا۔ حمزہ شہباز کے آنے جانے پر ہنگامہ بپا ہوتا ہے، یہ حصے کمّیوں کا پاکستان جن کا کوئی نام نہیں۔ جن کے کوئی حقوق نہیں، جو تھانہ کی حوالاتوں میں، میدانوں اور چھوٹے چھوٹے گاؤں اور شہر کے پسماندہ علاقوں کے گلی محلوں میں بے نام پیدا ہوتے ہیں اور بے نام مر جاتے ہیں۔

مزید : رائے /کالم