چودھریوں کی انٹری

چودھریوں کی انٹری
چودھریوں کی انٹری

  



شامی صاحب نے،، چودھری مشورے،، کے عنوان سے لکھے اپنے کالم میں وزیر اعظم عمران خان کو باور کرایا ہے کہ وہ، چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویز الٰہی کے مشوروں پر عمل کریں گے تو ان کیلئے حکومت کرناآسان اور بہتر رہے گا۔شامی صاحب سیاسی تاریخ کے استاد صحافیوں میں سے ہیں،بڑی دوربین نگاہوں کے مالک ہیں۔مجھے ان کے اس کالم میں حکومت کیلئے راہنمائی نظر آئی ہے مگر کاش حکمرانوں کو سوچنے سمجھنے کیلئے وقت ملے۔

ابھی چند دنوں کی بات ہے مولانا فضل الرحمن پلان اے کے تحت اپنا ناکام دھرنا سمیٹ کر ملک بھر کی شاہراہوں پر پھیل گئے اور اسے پلان بی کا نام دے دیا، اب پلان سی کے تحت مولانا نے کارکنوں کو صرف دن کے وقت شہروں کے اندر دھرنے دینے کا اعلان کیا ہے۔ مولانا کا دھرنا اسی روز اپنے انجام کی طرف بڑھنے لگا تھا جب چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویز الٰہی نے انٹری ڈالی تھی۔ دونوں بھائیوں کی شخصیت طلسماتی ہے، دونوں کو ناراض دوست منانے اور اپنی بات باور کرانے کا ملکہ حاصل ہے، مولانا کا آزادی مارچ اور دھرنا بڑی تیزی سے اپنے انجام کی طرف بڑھ رہا ہے اب مولانا صرف اپنی خفت مٹانے کے لئے میدان میں ہیں اور کارکنوں کو تسلی دے رہے ہیں کہ انہوں نے اپنے مقاصد حاصل کر لئے ہیں جبکہ مولانا خود بھی مقاصد سے آگاہ نہیں۔ ملکی سیاسی تاریخ میں شائد یہ واحد شو تھا جس کا اہتمام اور شرکت کرنے والے مقاصد سے بے خبر تھے، نتیجے میں مولانا کو خالی ہاتھ گھر کو لوٹنا پڑ رہا ہے، کچھ بعید نہیں اگر مولانا اعلان کر دیں کہ وزیراعظم جلد استعفیٰ دینے والے ہیں اس لئے کارکن گھروں کو واپس چلے جائیں۔

چودھری شجاعت حسین،چودھری پرویز الٰہی نے فضل الرحمن کو کس کا اور کیا پیغام پہنچایا یہ تو معلوم نہ ہو سکا بہرحال یہ سلسلہ بے وجہ نہیں تھا، کوئی نہ کوئی معشوق اس پردہ زنگاری کے پیچھے ضرور ہے، کون؟ یہ بات ابھی راز میں ہے تاہم چودھری صاحبان اپنے مقصد میں کامیاب رہے اور دھرنے والے ناکام و نامراد، آزادی مارچ اور دھرنے کے بطن سے جنم لینے والے بحران کا راستہ تو دونوں بھائیوں نے روک دیا، اس تناظر میں اگر ملک کو درپیش چیلنجوں سے نبردآزما ہونے کے لئے وفاقی حکومت چودھری شجاعت اور چودھری پرویزالٰہی کو فعال کرے تو دنوں میں مصنوعی بحران ختم اور سیاسی افق پر اڑنے والی گرد بیٹھ سکتی ہے۔ یہ بات حکمرانوں کی بھی سمجھ میں نہیں آ رہی کہ بحران اتنے شدید نہیں جتنا شور شرابا ہو رہا ہے، ہر آنے والی حکومت کو ابتداء میں اس قسم کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے تاہم کامیاب حکومت وہی ہوتی ہے جو ہنی مون پیریڈ میں ان مشکلات سے نکلنے کے راستے تلاش کر لے اور اب تحریک انصاف حکومت کے پاس ہنی مون پیریڈ کے دن ختم ہو رہے ہیں اس لئے چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویز الٰہی کے تدبر، فراست، تعلقات اور تحمل سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کیلئے ان کو اعتماد میں لیا جائے اور کچھ ٹاسک دے کر مقاصد حاصل کئے جائیں ورنہ اس وقت جو بحران معمولی دکھائی دے رہے ہیں، جن مشکلات کو درخوراعتنا نہیں سمجھا جا رہا وہ پھن پھیلا کر جلد آن سامنے کھڑے ہوں گے اور تب ان کا پھن کچلنا آسان نہیں ہو گا۔

یادش بخیر چودھری شجاعت اور چودھری پرویز الٰہی نے نواز دور میں بھی کرشمہ دکھایا اور علامہ طاہر القادری کو دھرنا ختم کرنے پر راضی کیا تھا دھرنے کے دنوں میں دونوں بھائی عمران خان کے بھی قریب رہے اور معاملہ کو بگڑنے سے بچاتے رہے، مولانا فضل الرحمن کے حوالے سے انہوں نے تاریخ دہرائی ہے، مشرف دور میں جب پنجاب کی ذمہ داری چودھری پرویز الٰہی کے کندھوں پر ڈالی گئی تو انہوں نے ملک کے سب سے بڑے صوبے کو کامیابی سے چلایا، عوامی امنگوں، خواہشات اور ضروریات سے ہم آہنگ منصوبوں کی داغ بیل ڈالی، امن و امان کے قیام میں بھی پرویز الٰہی دور شاندار تھا پولیس، پٹوار، سرکاری ملازمین کا قبلہ بھی کسی حد تک درست ہو گیا تھا، صوبہ کے عوام آج بھی چودھری پرویز الٰہی کے دور وزارت اعلیٰ کو یاد کرتے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی بہت تعریف کرتے ہیں اس بات میں کوئی شک نہیں کہ وہ ایک وضعدار، دیانتدار اور فہم و ذکاء رکھنے والی شخصیت ہیں مگر پنجاب میں 72 سال سے سیاست کا جو مزاج بن چکا ہے اس میں مس فٹ ہیں، سیاسی خانوادوں سے ان کے تعلقات کی نوعیت بھی ایسی نہیں کہ وہ کسی تنازع پر کسی ثالثی کی کوشش کریں اور کامیاب ہو جائیں، زور آور جاگیردار کسی طاقتور شخصیت کی ہی بات سنتے اور غیر مشروط طور پر مانتے ہیں اس حوالے سے ان کی شخصیت کمزور ہے۔

حکومت نے بڑے مگر مچھوں پر ہاتھ ڈال کے اگرچہ ایک بڑا اور انتہائی اقدام کیا ہے لیکن جس شدت سے حکومت نے ان پر ہاتھ ڈالا ہے اسی شدت سے یہ مچھندر باؤنس کر رہے ہیں نتیجے میں تھوڑے تھوڑے عرصہ کے بعد سیاسی جھٹکے آتے رہے ہیں اب تک تو حکومت ان جھٹکوں کی شدت برداشت کرتی آئی ہے لیکن کسی بھی وقت ایسا جھٹکا آ سکتا ہے جس کی شدت حکومت برداشت نہ کر سکے لیکن اگر چودھری خاندان حکومت کا اتحادی ہونے کے ساتھ ساتھ حکومت کا سرگرم حصہ بھی ہوں تو کسی بھی شدت کا زلزلہ حکومت کے لئے برداشت کرنا ممکن ہو جائے گا کہ چھوٹی موٹی شدت کے جھٹکے چودھری خاندان کے لئے خطرہ بن سکتے ہیں نہ کبھی انہوں نے چھوٹے موٹے جھٹکوں کو اہمیت دی ہے اگر یہ کہا جائے کہ موجودہ سیاسی صورتحال اور مستقبل میں بننے والے سیاسی منظر کے تناظر میں چودھری پرویز الٰہی ناگزیر ہیں تو غلط نہ ہو گا، اگر چودھری پرویز الٰہی پر شروع دن سے اعتماد کیا گیا ہوتا تو اب تک ن لیگ پنجاب اسمبلی میں اپنے سو سے زائد ارکان سے محروم ہو چکی ہوتی، اب بھی ایسا ممکن اگر وزیراعظم عمران خان فوری طور پر بولڈ فیصلہ لیں۔

ملک کا ایک اور بڑا ایشو نوازشریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکال کر بیرون جانے کیلئے ان کے راستہ سے آخری رکاوٹ دور کرنا تھا، حکومت اس موقع سے بھی فائدہ نہ اٹھا سکی، نیب نے سابق وزیراعظم کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی مخالفت کرنا ہی تھی، اگر چودھری شجاعت اور پرویزالٰہی کو اس معاملہ میں بھی ثالث اور انکی بات پر عمل کیا جاتا تو حکومت اور عمران خان کی تحسین ہوتی مگر انسانی ہمدردی کی بات کر کے بھی روڑے اٹکائے گئے،ہونا تو یہی تھا جو عدالت نے کردیا۔

مزید : رائے /کالم