پولیس سے ہی نفرت کیوں؟

پولیس سے ہی نفرت کیوں؟
پولیس سے ہی نفرت کیوں؟

  



میرا تمام لکھاریوں، قلم والوں، الیکٹرونک میڈیا، پرنٹ میڈیا، سو شل میڈیاسے اور خصوصا فلم اور ڈرامہ نویسوں سے سوال ہے کہ ایسا کیوں ہے کہ جس بچے نے کبھی کسی پولیس والے سے بات تک نہیں کی، جس نے کبھی پولیس کا کوئی ظلم یا زیادتی نہیں دیکھا، نہ کبھی کسی پولیس والے کو گن چلاتے دیکھا ہے، وہ بھی پولیس سے نفرت کرتا ہے؟ہاں بلکہ اس نے پولس کو سخت دھوپ میں تپتی دوپہر میں آگ اگلتی سڑک کے درمیان اپنا فرض انجام دیتے ہوئے کھڑا ضرور دیکھا ہے۔ اس نے وی آئی پیز کے پیچھے دھول کھاتے، گاڑیاں دوڑاتے ضرور دیکھا ہے۔ اس نے بغیر کسی قصور کے دہشت گردوں اور ڈاکوؤں کی فائرنگ سے قتل ہوتے ضرور دیکھا ہے۔ اس نے خون جما دینے والی سردی میں جگہ جگہ کھڑے اپنی ڈیوٹی کرتے ضرور دیکھا ہے۔پھر آخر یہ نفرت ہمارے دلوں میں کیوں پیدا ہوئی ہے؟ وہ شخص بھی ان سے دل میں نفرت رکھتا ہے جسے کبھی بھی پولیس سے کوئی کام نہیں پڑا۔ ان کو دیکھتے ہی ہمارے دل میں کیوں وہ تصویر کشی ہوتی ہے جو ہمارے اس بھائی کے لیے نہیں ہوتی جو کسی دوسرے محکمے میں کام کرتا ہے؟ یہ عین حقیقت ہے۔ معاشرے میں پولیس کے بارے یہ منفی تصور میں ہم سب کا برابر کا حصہ ہے، خصوصاً ہمارے الیکٹرونک میڈیا اور ڈرامہ یا فلم کا۔مجھے بچپن سے ہی انگریزی فلمیں دیکھنے کا شوق رہا ہے۔ آج بھی کبھی کوئی بامقصد کہانی ہو تو وقت نکال لیتا ہوں۔ میں نے اپنی 49 سالہ زندگی میں ایک بھی انگریزی فلم ایسی نہیں دیکھی جس میں پولیس یا کسی دوسرے حکومتی محکمے کو منفی حثیت میں پیش کیا گیا ہو۔ ہاں یہ ضرور دیکھا ہے کہ کوئی ایک کردار منفی دکھایا گیا ہے اور اسے فلم کی کہانی ختم ہونے تک منطقی انجام تک بھی ضرور پہنچایا گیا ہے۔ نہ کہ محکمہ کو سوالیہ نشان لگا کر چھوڑ دیا گیا۔ یہاں تک کہ سٹیٹ کے بڑے بڑے کردار کو بھی کرپشن میں ملوث دکھایا گیا ہے لیکن ہر صورت اختتام سے پہلے اسے سخت سے سخت سزا دے کر معاشرے کے لیے عبرت ناک مثال بنا دیا گیا ہے، نہ کہ محکمہ کو،ہماری فلموں اور ڈراموں میں 95 سے 98 فیصد پولیس کو ایک انتہائی کرپٹ، نااہل اور نکما ادارہ پیش کیا گیا ہے۔ ہمارا بچہ جونہی ٹی وی دیکھنا شروع کرتا ہے اس کے دل و دماغ میں ایک تصویر کشی کی جاتی ہے کہ پولیس کا محکمہ کرپٹ، رشوت خور، ظالم و زیادتی کرنے والا اور دہشت کا سبب ہے۔ میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ ہمارے ملک میں کئی اور ادارے ایسے ہیں جو پولیس سے زیادہ کرپٹ ہیں لیکن بدقسمتی کی انتہا ہے کہ ہم ہمیشہ منفی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں۔ پیدا ہونے سے لے کر بڑھاپے تک منفی سوچ کی نشوونما کرتے ہیں جو کہ آج معاشرے کی تباہی کا سبب بن رہا ہے۔ہمارے معاشرے میں سب سے زیادہ نفرت پولیس سے کیوں کی جاتی ہے۔ کیوں ایک شریف آدمی تھانے میں جا کر بات کرنے اپنے نقصان برداشت کرتے ہوئے تھانے کا رخ بھی نہیں کرتا۔ پولیس آخر اس قدر بدنام کیوں ہے۔ تمام جرائم اور واقعات کا ذمہ دار پولیس کو ٹھہرا دیا جاتا ہے تو اس میں جہاں بہت سی باتوں میں پولیس واقعی ذمہ دار ہوتی ہے وہاں پولیس کا کردار بعض بلکہ بہت اہم معاملوں میں انتہائی دیانتدار ہوتا ہے اور بہت سے خدا کے خوف سے ڈرنے والے ایک سپاہی سے لے کر بڑے افسر تک اپنا کردار بخوبی نبھاتے ہیں اور معاملے کی تہہ تک پہنچتے ہوئے ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ ہمارے ہاں ایک سپاہی سے لیکر آئی جی تک سیاسی ہوتا ہے اور وہ سرکار کا حکم سر بجا لانے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑتا۔یہاں کچھ ایم پی اے اور ایم این اے کے نالج کے بغیر ایسے ٹاؤٹ بھی موجود ہیں جو ان کا نام استعمال کرکے غریب لوگوں سے پیسے بٹورتے ہیں۔تاہم وزیر اعظم پاکستان کے ویژن کے مطابق محکمہ کے سر براہ کیپٹن ریٹائرڈ عارف نواز اور ان کے تمام افسران بالا آر پی اوز، سی پی اوز، ڈی پی اوز بالخصوص سی سی پی او لاہور بی اے ناصر انکی ٹیم ڈی آئی جی آپریشن اشفاق احمد خان، ڈی آئی جی انوسٹی گیشن ڈاکٹر انعام وحید،ایس ایس پی آپریشن محمد نوید، ایس ایس پی انوسٹی گیشنزیشان اصغر اورچیف ٹریفک آفیسرکیپٹن ریٹائرڈ لیاقت علی ملک پولیس کے منفی تاثر کو ختم کرنے اور محکمے کے مورال کو بلندیوں تک پہنچانے کے لیے اپنی تمام تر توانیاں صرف کر نے میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔میری صاحب اقتدار اور خصوصاً پولیس ڈیپارٹمنٹ سے اپیل ہے کہ سوشل میڈیا، ڈراموں اور فلموں میں پولیس کے منفی عکاسی کی نہ صرف مذمت کی جائے بلکہ اسے سختی سے روکا جائے۔ اگر اصلاحاً کچھ دکھانا ہے تو کوئی ایک کردار دکھایا جائے جسے منطقی انجام تک پہنچایا جائے، نہ کہ بحثیت محکمہ اس کی غلط تصویر کشی کر کے ہماری اگلی نسل کے دلوں میں نفرت اور نہ ختم ہونے والی نفرت ڈالی جائے۔

حکومت کو بھی چاہیے کہ اس کے لیے قانون سازی کی جائے

مزید : رائے /کالم