فوج، حکومت،تمام ادارے ایک پیج پر،چودھری برادران حکومت کے قابل اعتماد اتحادی ہیں:چوھدری سرور

فوج، حکومت،تمام ادارے ایک پیج پر،چودھری برادران حکومت کے قابل اعتماد ...

  



مریدکے(نامہ نگار) گور نر پنجاب چوہدری محمدسرور نے کہا ہے کہ اتحادیوں میں گلے شکوے ہوتے رہتے ہیں مگر چوہدری برادران حکومت کے قابل اعتماد اتحادی ہیں،ان ہاؤس تبدیلی آرہی ہے اور نہ ہی حکومت کہیں جا رہی ہے یہ بات سب کو ذہن نشین رکھنی چاہئے کہ عوام نے ہمیں پورے پانچ سال کیلئے مینڈیٹ دیا ہے،ملکی ترقی اور استحکام کیلئے افواج پاکستان اور حکومت سمیت تمام ادارے ایک پیج پر ہیں، لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے سے حکومت اور اپوزیشن میں سے کسی کی ہار جیت نہیں ہوئی ہم عدالتی فیصلوں کا مکمل احترام کرتے ہیں،پینے کے صاف پانی کے نام پر کام کر نیوالی ٹھگ کمپنیوں کو وراننگ دیتاہوں وہ باز آجائیں ورنہ پنجاب میں پینے کا غیر میعاری پانی فروخت کر نیوالی فلٹر یشن کمپنیوں کو جر مانے اور ذمہ داروں کو2سال تک سزا سمیت سخت تر ین ایکشن لیا جائیگا۔ وہ اتوار کے روز ازمیر ٹاؤن میں اروی فلٹر یشن پلانٹ کے افتتاح کے موقع پر تقریب سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے جبکہ اس موقعہ پر چیئرمین اروی میاں احسن،حاجی نعمت اللہ خاں،میاں طلعت سمیت دیگر بھی موجود تھے۔ گور نر پنجاب چوہدری محمدسرور نے میڈیاسے گفتگو کے دوران کہا کہ صرف پاکستان ہی نہیں پوری دنیا میں حکومت اور اتحادیوں کے در میان گلے شکوے ہوتے رہتے ہیں اور اتحادی اپنی بات کرسکتے ہیں مگر جہاں تک چوہدری برادران کا تعلق ہے وہ حکومت کیساتھ ہیں اور حکومت بھی اتحادیوں کو ساتھ لیکر چل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر میاں نوازشریف کو بیرون ملک علاج کی سہولت دی وہ بیمار ہوئے تو انہیں حکومت نے بہترین طبی سہولیات فراہم کی کیں اور حکومت پہلے دن سے کہہ رہی ہے کہ ہم نوازشر یف کے علاج کیلئے بیرون ملک جانے کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالیں گے اور لاہور ہائیکورٹ نے نوازشر یف کو بیرون ملک جانے کی اجازت دیدی ہے یہ حکومت یا اپوزیشن میں سے کسی کی ہار جیت نہیں (ن) لیگ کی قیادت نے لاہور ہائیکورٹ میں تحر یری یقین دہانی کروادی ہے اور ہم بھی چاہتے ہیں وہ صحت یاب ہو کر جلد پاکستان واپس آئے۔انہوں نے کہا کہ ان ہاؤس تبدیلی کے خواب دیکھنے والوں کومایوسی کے سواکچھ نہیں ملے گا او ر وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں حکومت ہر صورت اپنی آئینی مدت پور ی کر ے گی اور عام انتخابات اپنے مقررہ وقت پر ہی ہوں گے۔ گور نر پنجاب چوہدری محمدسرور نے کہا کہ پنجاب آب پاک اتھارٹی کے ذریعے پنجاب کے عوام کو آئندہ چار سالوں کے دوران پینے کا صاف پانی فراہم کر نے کا وعدہ پورا کر یں گے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ پنجاب کے50فیصد لوگ گندہ پانی پینے کی وجہ سے ہیپاٹائٹس سمیت دیگر خطر ناک بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں جن کو ہم نے ہر صورت بچانا ہے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب آب پاک اتھارٹی نے ابھی تک کسی قسم کے حکومتی فنڈز کے بغیر ہی مخیرحضرات کے تعاون سے عوام کو پینے کا صاف پانی فراہم کر نے کا آغاز کر دیا ہے اور آج کا یہ فلٹر یشن پلانٹ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب آب پاک اتھارٹی لاہور سمیت پنجاب بھر کے فلٹر یشن پلانٹس کو رجسٹرڈ کر نے کیساتھ ساتھ انکو مکمل طور پر مانیٹرنگ کر ے گی اور جو بھی کمپنی پنجاب میں لوگوں کو غیر معیاری پینے کا صاف پانی فراہم کر ے گی اس کو جر مانہ سمیت سخت سزائیں بھی دی جائیں گی۔ قبل ازیں کرتار پور راہداری کے افتتاح کے موقع پر برطانیہ اور دیگر ملکوں سے آئے سکھ یاتریوں کے اعزاز میں چودھری علی شجاعت کی طرف سے لاہور کنٹری کلب مریدکے میں عشائیہ سے خطاب میں گورنر پنجاب چودھری محمد سرورکا کہنا تھا پاکستان میں کشمیر پر بھارتی تسلط کیخلاف یوم سیاہ منایا جا رہا تھا مگر دوسری طرف ہندو برادری پاکستان میں بے خوف و خطر اپنا تہوار ہولی منا رہی تھی۔ہماری حکومت نے مذاہب کے درمیان محبت اور بھائی چارے کو فروغ دیا ہے تا کہ دنیا جنگ کامیدان بننے کے بجائے امن کاگہوارہ بن سکے۔ حکومت بین المذاہب ہم آہنگی کیلئے تاریخی اقدامات کر رہی ہے اورسکھ برادری کا ستر سالہ انتظار ختم کیا گیا ہے۔ ہم پاکستان کو ایک ٹالرنس سوسائٹی بنانا چاہتے ہیں جہاں اقلیتی خود کو غیر محفوظ خیال نہیں کریں گی۔ عمران خان نے مذہب کی آڑ میں سیاست نہ کرنے کا عزم کیا ہے۔ہم نے بھارت کے اندرونی معاملات میں کبھی مداخلت کی نہ ہی آئندہ کریں گے۔بھارت کی کشمیر پر جارحیت کے باعث حکومت پر سخت دباؤ تھا مگر بابا گورونانک کے غیبی حکم کی وجہ سے کرتار پور راہداری منصوبہ کا بروقت افتتاح ممکن ہوا۔گورنر پنجاب نے پنجابی زبان میں اپنے خطاب کے دوران کہاحکومت نے نہ صرف سکھ برادری کیلئے اقدامات کئے ہیں بلکہ ہندوؤں کے 70سال سے بند مندر کھولے جا رہے ہیں اور بدھ مذہب کا70رکنی وفد بھی ان دنوں پاکستان کے دورے پر ہے۔ 

چودھری سرور

مزید : صفحہ آخر