بلوچستان کا وفاق کو سوئی گیس  فیلڈ،گڈانی آئل ریفائنری منصوبے کی لیز میں توسیع سے انکار

بلوچستان کا وفاق کو سوئی گیس  فیلڈ،گڈانی آئل ریفائنری منصوبے کی لیز میں ...

  



کوئٹہ(آن لائن)وزیر توانائی عمر ایوب، تحریک انصاف کے مرکزی رہنما جہانگیر ترین، وفاقی سیکریٹری سمیت توانائی و پیٹرولیم کے دیگر افسران پر مشتمل ایک اعلی سطحی وفد گزشتہ دنوں خصوصی طیارے پر کوئٹہ آیا، جہاں انہوں نے وزیراعلی جام کمال سے ملاقات کرکے 2015ء میں ختم ہونیوالی سوئی گیس لیز کی معیاد اور گڈانی میں آئل ریفائنری کے منصوبے کی لیز میں توسیع کا مطالبہ کیا، تاہم صوبائی حکومت نے سابقہ معاہدوں کے تحت لیز میں توسیع سے انکار کردیا۔غیر ملکی خبر ر ساں ادارے کے مطابق بلوچستان حکومت کے ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ وزیراعلی جام کمال نے وفاقی وفد کے سامنے موقف اختیار کیا کہ یہاں کے قدرتی وسائل اور زمین صوبے کے عوام اور حکومتِ بلوچستان کی ملکیت ہے۔ ہم سابقہ شرائط کے تحت ہونے والے کسی بھی لیز معاہدے کی معیاد میں توسیع نہیں کرسکتے۔سوئی گیس فیلڈ بلوچستان کے ضلع ڈیرہ بگٹی میں واقع ہے جہاں قدرتی گیس کے ذخائر 1953 میں دریافت ہوئے تھے۔ حکومت پاکستان نے پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ کو یکم جون 1955 کو یہاں 30 سال کے لیے مائننگ کی اجازت دی تھی۔ سوئی گیس فیلڈ کے حوالے سے لیز کی مدت میں یکم جون 1985 کو مزید 30 سال کی توسیع کی گئی جو 31 جولائی 2015 کو ختم ہوچکی ہے۔ذرائع کے مطابق وزیراعلی بلوچستان نے وفاقی وفد سے کہا کہ نئی شرائط پر لیز کے معاہدے میں توسیع کرنی ہے تو ہمارے ساتھ بات کی جائے، بصورت دیگر ہم سابقہ معاہدوں کے تحت کسی بھی لیز کی توسیع نہیں کریں گے۔ذرائع کے مطابق وزیراعلی بلوچستان نے وفاقی وفد کو آئین کی شق 172 کے ذیلی سیکشن تین کے تحت بلوچستان سے تیل کے ذخائر تلاش کرنے کا معاہدہ قانون کے مطابق کرنے کا مطالبہ کیا۔آئین کی مذکورہ شق کے تحت بلوچستان میں تیل وگیس کے ذخائر کی تلاش اور برآمد میں صوبے اور وفاق کا حصہ 50/50 فیصد کا ہے۔ذرائع کے مطابق وفاقی وفد نے کوشش کی کہ گڈانی کی آئل ریفائنری کی منسوخ شدہ لیز کو بحال کیا جائے، تاہم وزیراعلی بلوچستان نے وفد سے کہا کہ اگر وفاق نے ہم سے آئل ریفائنری کے حوالے سے معاہدہ کرنا ہے تو اس میں بلوچستان کا حصہ ہوگا، جس میں ہم شراکت دار بن کر معاہدہ کریں گے۔ذرائع کے مطابق وزیراعلی بلوچستان نے وفاق کے وفد سے کہا کہ سابقہ ادوار میں غلط طرز کے معاہدوں کی وجہ سے بلوچستان کے عوام کا احساس محرومی بڑھا اور صوبہ پسماندگی کی طرف چلا گیا ہے۔

لیزسے انکار

مزید : صفحہ آخر