قومی تحفظ سیلاب منصوبہ فنڈز کی عدم دستیابی کی وجہ سے روک دیا گیا

    قومی تحفظ سیلاب منصوبہ فنڈز کی عدم دستیابی کی وجہ سے روک دیا گیا

  



اسلام آباد(آن لائن) ملک میں سیلاب کی تباہ کارویوں سے بچاؤ کیلئے چاروں صوبوں کی مشاورت سے تیار کیا جانے والا قومی تحفظ سیلاب منصوبہ فنڈز کی عدم دستیابی کی وجہ سے روک(بقیہ نمبر26صفحہ12پر)

دیا گیا ہے،10سالہ منصوبے کیلئے وفاقی سیلاب کمیشن کی جانب سے مجموعی طور پر 332ارب روپے کا پی سی ون تیار کیا گیا تھا تاہم صوبوں اور دیگر اداروں کی جانب سے فنڈز کے حصول میں مشکلات کیو جہ سے منصوبے کو ترک کردیا گیا ہے۔ وزارت آبی وسائل کی جانب سے جاری ہونے والے دستاویزات کے مطابق پاکستان میں 2010کے تباہ کن سیلاب کے بعد وفاقی سیلاب کمیشن نے چاروں صوبوں اور متعلقہ وفاقی اداروں کی مشاورت سے 332آرب 24کروڑ روپے کی لاگت سے قومی تحفظ سیلاب منصوبہ تیار کیا گیا جس پر اگلے 10سالوں کے دوران عمل درآمد کی جانی تھی اس منصوبے کی مشترکہ مفادات کونسل نے مئی 2017میں منعقد ہونے والے اجلاس میں منظوری دی اسی طرح منصوبے کے بنائے جانے والے پی سی ون کی بھی چاروں صوبوں نے منظوری دیدی جس کے بعد پی سی ون کو حتمی منظوری کیلئے وزارت منصوبہ بندی کے ادارے ایکنک کو بھجوا دی گئی تاہم فنڈز کی عدم دستیابی کی وجہ سے اس اہم ترین منصوبے کو واپس بھجوا دیا گیا دستاویزات کے مطابق اس وقت سیلاب کی تباہ کاریوں کو روکنے کیلئے وفاقی حکومت اور صوبوں کی مشاورت سے 80ارب روپے کی نظر ثانی شدہ لاگت کے منصوبے پر اتفاق رائے ہوگیا ہے مگر اس کیلئے بھی فنڈز دستیاب نہیں ہیں جس کی وجہ سے تاحال اس پر بھی کوئی کام شروع نہیں کیا جا سکا ہے۔

تحفظ سیلاب منصوبہ

مزید : ملتان صفحہ آخر