ایران،مظاہرین کا گھیراؤ،جلاؤ،جھڑپیں،9ہلاک، 13زخمی،40گرفتار،خامنہ ای نے پٹرول قیمتوں میں اضافہ کی تائید کردی

ایران،مظاہرین کا گھیراؤ،جلاؤ،جھڑپیں،9ہلاک، 13زخمی،40گرفتار،خامنہ ای نے ...

  



تہران (نیوز ایجنسیاں)ایران میں پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے بعد ملک میں جاری احتجاج اور پولیس کیساتھ جھڑپوں کے نتیجے میں گزشتہ روز 9 افراد جاں بحق جبکہ 13 زخمی ہو گئے ہیں۔مظاہرین نے پاسداران انقلاب کے زیرانتظام بسیج فورس کے صدر دفتر کوبھی آگ لگا دی۔ہلاکتیں سیرجان میں پرتشدد مظاہروں کے دوران پولیس کے ہاتھوں طاقت کے استعمال کے نتیجے میں ہوئیں۔گزشتہ روز سیرجان میں مظاہرین نے حکومتی اقدام کیخلاف بھرپور احتجاج کیا۔چارافراد کی الحمرا شہر میں ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے جب کہ اھواز شہر میں پولیس کی طرف سے مظاہرین کے خلاف کیے گئے حملوں میں 13 افراد زخمی ہوئے۔ ملک بھرمیں 53 شہروں میں مظاہرے ہوئے۔ ان میں سے کئی مظاہروں میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان براہ راست جھڑپیں ہوئیں۔ پولیس نے جھڑپوں کے نتیجے میں 40افرادکو گرفتار کر لیا ہے۔حکومتی ترجمان کے مطابق گرفتار افراد فساد پھیلانے میں ملوث ہیں جن پر لوٹ مار کی کارروائیوں کا الزام ہے اور ان میں زیادہ تر مقامی لوگ شامل نہیں ہیں۔ ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے پٹرول کی قیمتوں میں اضافے اور اس کی تقسیم محدود کرنے کے فیصلے کی تائید کی ہے۔اتوار کے روز ایران کے سرکاری ٹی وی نے بتایا کہ خامنہ ای نے اس حکومتی فیصلے پر اطمینان کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ میں کوئی ماہر نہیں اور اس حوالے سے مختلف آرا ء موجود ہیں مگر میں واضح کر چکا ہوں کہ اگر ریاست کی تینوں شاخوں کی قیادت کوئی فیصلہ کرے گی تو میں اس کی حمایت کروں گا۔خامنہ ای کے مطابق اس فیصلے پر یقینا بعض لوگوں کو تشویش محسوس ہو رہی ہے مگر تخریب کاری اور آگ لگانے کی کارروائیاں عوام نہیں بلکہ بلوائی کر رہے ہیں۔ ایران اور اس کے انقلاب کے دشمن ہمیشہ تخریب کاری اور قانون کی خلاف ورزی کو سپورٹ کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ ایران میں جمعہ کو اس اعلان کے چند گھنٹے بعد مظاہرے شروع ہو گئے تھے کہ پٹرول کی قیمتوں میں پہلے 60لیٹر کے لئے 50فیصد اور ہر ماہ اس سے زائد پٹرول کے لئے 300فیصد تک کا اضافہ کیا جائے گا۔ 

ایران،ہلاکتیں 

مزید : صفحہ اول