جے یو آئی کا پلان بی جاری،چوتھے روز بھی ملک بھر میں دھرنے،پاک افغان تجارت معطل

جے یو آئی کا پلان بی جاری،چوتھے روز بھی ملک بھر میں دھرنے،پاک افغان تجارت ...

  



کوئٹہ،کراچی، اسلام آباد،سکھر،بنوں (مانیٹرنگ ڈیسک،نیوزایجنسیاں) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے پلان بی کے تحت ملک کے مختلف شہروں میں چوتھے روز بھی دھرنے دیئے جا رہے ہیں۔جے یو ئی آئی اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے کارکنوں نے کوئٹہ چمن شاہراہ پر دھرنا دیکر افغانستان کیلئے سپلائی معطل کر دی۔احتجاج اور دھرنے کے باعث کوئٹہ چمن شاہراہ پر ٹریفک کی روانی متاثر ہے اور گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئی ہیں۔بنوں میں بھی جے یو آئی ف کے کارکنوں کی جانب سے لنک روڈ انڈس ہائی وے پر دھرنا دیا جا رہا ہے جس سے ٹریفک کی روانی متاثر ہے۔کراچی میں حب ریور روڈ پر بھی جے یو آئی ف کے کارکن چوتھے روز دھرنا دے رہے ہیں۔دھرنے کے مقام پر پولیس اور رینجرز کی نفری بھی موجود ہے جب کہ دھرنے کے باعث حب جانے والے ٹریفک کو مشرف موڑ کی طرف موڑ دیا گیا ہے۔ژوب کے قریب ڈیرہ اسماعیل خان قومی شاہراہ پر، نوشہرہ میں جی ٹی روڈ اور حکیم آباد کے مقام پر، بنوں میں لنک روڈ انڈس ہائی وے پر جب کہ مالاکنڈ میں پل چوکی چکدرہ پر گزشتہ روز بھی دھرنے جاری رہے۔جگہ جگہ مال بردار اور مسافر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگی رہیں اور مسافروں نے پریشانی پر احتجاج بھی کیا۔مانسہرہ میں غازی کوٹ کے مقام پر شاہرائے قراقرم کو ٹریفک کے لیے بند کیا گیا تو مسافروں نے احتجاج شروع کر دیا جس پر دھرنا ختم اور ایک شہری کو تو خود جمعیت علمائے اسلام ف کے مفتی کفایت اللہ نے سمجھا کر گاڑی میں کر بٹھا کر روانہ کیا۔ڈی جی خان میں تونسہ بائی پاس انڈ ہائی وے پر شام تک ٹریفک معطل رہی۔ سندھ پنجاب بارڈر کوٹ سبزل کے قریب رحیم یار خان قومی شاہراہ شام پانچ بجے سے مغرب تک بند رہی۔گھوٹکی میں قومی شاہراہ چنا اسٹاپ کے مقام پر، کندھ کوٹ میں قومی شاہراہ پر فلور مل کے مقام پر اور جیکب آبا د میں سندھ بلوچستان بائی پاس زیرو پوائنٹ پر دیئے گئے دھرنے مغرب کے بعد ختم کر دیئے گئے جب کہ خیرپور میں نیشنل ہائی وے ٹھیری بائی پاس پر صبح سے دیا گیا دھرنا رات آٹھ بجے کے بعد ختم کیا گیا۔مولانا عمر صادق نے کہا کہ دن کے اوقات میں دھرنے دینے اور رات میں سڑکیں ٹریفک کے لیے کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئل ٹینکرز مالکان سمیت دیگر شہریوں کی مشکلات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔خیرپور میں دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے جے یو آئی ف کے مرکزی رہنما راشد سومرو کا کہنا تھا کہ دھرنے کا پلان بی کامیابی سے جاری ہے۔راشد سومرو کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس تو زیڈ تک پلان موجود ہیں لیکن پلان سی سے پہلے ہی حکومت چلی جائے گی۔جے یو آئی (ف)کے پلان بی کے تحت کارکنوں کے دن کے اوقات میں شاہراہوں پر دھرنوں کا سلسلہ اتوار کو بھی جاری رہا  جبکہ جے یو آئی (ف) کے سیکرٹری مولانا عبد الغفور حیدری نے کہاہے کہ اگلے سال عمران خان وزیر اعظم نہیں رہیں گے، دھرنوں سے عوامی تکلیف کا احساس ہے، حکومت سے نجات کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔تفصیلات کے مطابق پلان بی کے چوتھے روز بھی جے یو آئی کارکنوں نے حب ریور روڈ بند کر دیا،سندھ، بلوچستان کے درمیان دھرنے کے باعث ٹریفک کی آمد و رفت بند ہو گئی ہے، شہری سڑک پر پھنس گئے ہیں، کوئٹہ چمن شاہراہ اور سکھر میں بھی قومی شاہراہ بلاک کر دی گئی ہے جس سے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کر نا پڑا،کندھکوٹ میں جے یو آئی ف کا انڈس ہائی وے پر دھرنا جاری رہا جس سے ٹریفک معطل ہوگئی، گھوٹکی میں بھی جے یو آئی کا قومی شاہراہ پر دھرنا چوتھے روز میں داخل ہو چکا ہے، سکھر میں ٹھیڑی بائی پاس پر دھرنا دیا گیا، قومی شاہراہ بلاک ہے، گاڑیوں کی لمبی لمبی قطاریں لگ گئی ہیں،کوئٹہ چمن شاہراہ کو سید حمید کے مقام پر بند کیا گیا، شاہراہ کی بندش کے باعث پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ سپلائی معطل ہو گئی،چلاس میں تھور کے مقام پر جے یو آئی ف کے کارکنوں نے شاہراہ قراقرم پر دھرنا دیا ہوا ہے، جس کے باعث شاہراہ قراقرم بند ہو چکی ہے، اور مسافر گاڑیاں پھنسی ہوئی ہیں، شاہراہ کی بندش سے گلگت بلتستان کا راولپنڈی سے زمینی رابطہ بھی منقطع ہو چکا ہے۔کے پی کے ضلع مالاکنڈ میں بھی جے یو آئی (ف)کے کارکنوں نے چکدرہ پل کو ایک بار پھر بند کر دیا ہے، مالاکنڈ میں مین شاہراہ بھی بدستور بند ہے، مسافروں کو آمد و رفت میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، لوگ اذیت میں مبتلا ہو چکے ہیں۔اسی طرح موٹر وے چوک اسلام آباد کے مقام پر بھی جے یو آئی کے کارکنوں نے پلان بی کے تحت دھرنا دیا اور ٹریفک بلاک کردی۔ اس موقع پر سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری نے مظاہرین سے خطاب کیا اور کہا کہ مولانا فضل الرحمان سے بات ہوئی، جلد پلان سی کا اعلان ہو گا،تحریک کامیاب رہی،اگلے سال عمران خان وزیراعظم نہیں رہیں گے،دھرنوں،سڑکوں کی بندش سے عوام کو تکلیف ہے، مگر حکومت سے نجات کایہی راستہ ہے۔رہبر کمیٹی کے سربراہ اکرم خان درانی نے کہا ہے کہ آج دنیا بھر میں ہمارے پر امن دھرنے کی مثالیں دی جاتی ہیں،حکومت نے رہبر کمیٹی کے تمام مطالبات تسلیم کر لیے ہیں تاہم وزیر اعظم کے استعفے پر ڈیڈ لاک برقرار ہے۔رہبر کمیٹی کے سربراہ اکرم خان درانی نے بنوں میں دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے رہبر کمیٹی کے تمام مطالبات تسلیم کر لیے ہیں تاہم وزیر اعظم کے استعفے پر ڈیڈ لاک برقرار ہے۔انہوں نے کہا کہ پلان بی کے تحت دن کو سڑکیں بند رہیں گی اور رات کو کھول دی جائیں گی، وزیر اعظم عمران خان کو اب حکومت کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔اکرم خان درانی نے کہا کہ عوام بہت جلد خوشخبری سنے گی کیونکہ موجودہ حکومت جانے والی ہے اور جلد جے یو آئی کا دور آنے والا ہے،ملک کی تاریخ کا پہلا دھرنا ہے جس میں نہ تو کوئی لاٹھی چلی اور نہ ہی گولی چلی۔انہوں نے کہا کہ رہبر کمیٹی وزیر اعظم کے استعفیٰ کے مطالبے سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹے گی جبکہ احتجاج کا دوسرا مرحلہ شروع کرنے کے لیے آج رات اسلام آباد میں پارٹی رہنماؤں کا اجلاس طلب کیا گیا ہے۔ ہم تیسرے مرحلے پر ہر اضلاع میں احتجاج منعقد کریں گے۔جے یو آئی ف کے رہنما نے کارکنان کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ کارکنان دھرنے کے دوران صبر اور استقامت سے کام لیں۔جے یو آئی راولپنڈی و اسلام آباد نے ایک دن چھوڑ کر ایک دن احتجاج کا اعلان کردیا۔ اتوار کوجے یو آئی کے پلان بی پر راولپنڈی و اسلام آباد کی چونگی نمبر چھ موٹروے چوک پر چوتھے روز بھی ظہر سے مغرب تک دھرنا دیا گیا اس دوران پشاور سے راولپنڈی و اسلام آباد آنے اور جانے والی ٹریفک کو متبادل راستوں پر موڑ دیا گیا شدید رش کے باعث سڑکوں پر ٹریفک کی قطاریں لگ گئیں،لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا،لوگوں کی مشکلات کو دیکھتے ہوئے جے یو آئی راولپنڈی و اسلام آباد کی قیادت نے فیصلہ کیا کہ آئندہ سے ایک دن چھوڑ کر ایک دھرنا دیا جایا کریگا۔ امیر جے یو آئی اسلام آباد مولانا عبدالمجید ہزاروی نے کہا کہ عمران خان استعفیٰ دیں اور عوام کو مشکلات سے نکالیں،عمران خان تم نے دو چھٹیاں کی ہیں ہم ایک چھٹی کررہے ہیں۔دوسری طرف جمعیت علمائے اسلام (ف) کے پلان بی پرپنجاب پولیس کومتحرک کردیا گیا،ناکام بنانے کے لیے جے یو آئی(ف) کے مدرسوں کی نگرانی شروع کردی گئی۔نجی ٹی وی نے ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ پنجاب بھر کے مدرسوں میں زیر تعلیم بچوں اور عملے کی نگرانی شروع کردی گئی ہے جبکہ ان کی سرپرستی کرنے والے افراد کو بھی مانیٹرکیا جارہاہے۔پنجاب کے تمام پولیس افسران کو مدرسوں میں ہونے والی سرگرمیوں سے باخبر رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

جے یوآئی کا دھرنا

مزید : صفحہ اول