مقبوضہ وادی میں کرفیو کو 106روز مکمل،5کشمیری گرفتار،حریت پسند وں کی املاک ضبط

مقبوضہ وادی میں کرفیو کو 106روز مکمل،5کشمیری گرفتار،حریت پسند وں کی املاک ضبط

  



سرینگر،جموں،سٹٹگارٹ،لندن،اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک،نیوزایجنسیاں)مقبوضہ جموں وکشمیرمیں جاری فوجی محاصرے اور مواصلاتی ذرائع کی معطلی کی وجہ سے اتوار کو مسلسل106ویں روزبھی علاقے کا باقی دنیا سے رابطہ منقطع رہا۔کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق علاقے میں خوراک اور ادویات کی شدید قلت ہے جبکہ شدید برفباری سے مظلوم کشمیریوں کی مشکلات میں مزیداضافہ ہوگیا ہے۔ انہیں زندہ رہنے، حصول تعلیم، صحت اور مذہبی فرائض کی ادائیگی جیسے بنیادی حقوق سے محروم رکھا جارہا ہے۔ وادی کشمیر میں انٹرنیٹ اور پری پیڈ موبائل سروسز مسلسل معطل ہیں۔ بھارت کے تحقیقاتی ادارے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے جنوبی کشمیر میں دو حریت پسندوں کی 12کنال اراضی ضبط کرلی ہے۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے اہلکار وں نے پولیس کے ہمراہ پہلگام میں غلام نبی خان اور ظفر حسین بٹ کے گھروں پر چھاپے مارے اور ان کی املاک ضبط کرلی۔دریں اثناء بھارتی فورسز نے ضلع بارہمولہ میں سوپورکے دو مختلف علاقوں سے چھاپوں کے دوران پانچ کشمیری نوجوانوں کو گرفتار کرلیا ہے۔  گرفتار نوجوانوں کی شناخت ہلال احمد میر، ساحل نذیر،پیر زادہ محمد ظہیر، الفت بشیر میر اوراعجاز احمد بٹ کے طورپر ہوئی ہے۔ جموں کی ایک ٹاڈا عدالت نے بھارتی فضائیہ کے چار اہلکاروں کے قتل کے حوالے سے درج جھوٹے مقدمے کی سماعت 3دسمبر تک ملتوی کردی ہے۔ مقدمے میں ملزم جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک اس وقت دہلی کی تہاڑ جیل میں نظربندہیں۔کشمیری رہنماؤں اور جرمنی کے انسانی حقوق کے کارکنوں نے عالمی برادری پر زوردیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کی طرف سے جاری انسانی حقوق کی پامالیوں کو نظرانداز نہ کرے۔ جرمنی کے شہر سٹٹگارٹ میں ”کشمیرمیں خطرناک انسانی بحران“کے زیر عنوان ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہاکہ مقبوضہ علاقے میں انسانیت کو قید کرلیا گیا ہے۔ مقرین میں انسانی حقوق کے رہنماKarl-Christian Hausmann، ڈاکٹر اسحق، ظفر قریشی اور کشمیر کونسل یورپ کے چیئرمین علی رضا سید بھی شامل تھے۔اقوام متحدہ میں برطانیہ کے سابق سفیرSir Mark Lyall Grant نے امریکی جریدے فوربز میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں خبردار کیا ہے کہ تنازعہ کشمیر پر پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ کا حقیقی خطرہ موجود ہے۔انہوں نے عالمی برادری پر زوردیاہے کہ وہ تنازعہ کشمیر کے حل میں مدد کرے یامستقبل میں جوہری جنگ کی صورت میں بھاری قیمت ادا کرنے کے لیے تیا ررہے۔ سابق سفارتکار نے کہاکہ بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ سے صرف برطانیہ کو 20ارب پاؤنڈ کا نقصان ہوسکتا ہے۔مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم اور مسلسل فوجی محاصرے کی مذمت کے لیے حریت تنظیموں نے اسلام آباد پریس کلب کے سامنے ایک احتجاجی مظاہرے کا اہتمام کیا۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق حریت رہنماؤں نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہاکہ مقبوضہ کشمیر گزشتہ 105روز سے دنیا سے کٹا ہوا ہے اور موبائل، انٹرنیٹ اور دیگر مواصلاتی رابطے مسلسل منقطع ہیں۔ انہوں نے اقوام متحدہ سے اپیل کی کہ وہ کشمیریوں کو ان کا ناقابل تنسیخ حق، حق خودارادیت دلانے کے لیے مداخلت کرے۔ 

مقبوضہ کشمیر

مزید : صفحہ اول