پتنگ بازی،لاہور میں 200 افراد خونی کھیل کی بھینٹ چڑھ چکے

  پتنگ بازی،لاہور میں 200 افراد خونی کھیل کی بھینٹ چڑھ چکے

  



 لا ہور (رپورٹ، یو نس باٹھ)پتنگ بازی کا خونی کھیل ملک بھر میں با لعموم اور پنجاب میں بالخصوص دھڑلے سے جاری ہے۔اعداوشمار کے مطابق گزشتہ چندسالوں کے دوران 200 سے زائد افراد قاتل ڈور کا شکار ہوئے۔ 2004 میں 9 افراد بسنت کے دن گردن پر ڈور پھرنے سے جان کی بازی ہا ر گئے۔2005 کو 19 شہری خونی کھیل کی بھینٹ چڑھ گئے، 2007 میں 10 افراد جاں بحق جبکہ 700 سے زائد زخمی ہوئے، جس کے بعد 2009 میں اس تہوار پر مکمل پابندی کے احکامات جاری کیے گئے۔ پتنگ کی دھاتی ڈور سے جاں بحق افراد کی اکثریت ان لوگوں کی ہے جنہیں خود نہ پتنگ بازی کا شوق نہ تھا۔ماضی میں اس خونی کھیل نے باقاعدہ تہوار کی شکل اختیار کرلی تھی۔ زیادہ تر ہلاکتیں شیشہ والی ڈور پھرنے سے واقع ہوئیں،دھاتی تار والی پتنگ سے کرنٹ لگنے، اس خونی تہوار پر ہوائی فائرنگ اور پتنگ  لوٹنے کے دوران چھت سے گرنے اور گاڑیوں کے نیچے کچلے جانے سے بھی اموات ہوئیں۔سیاسی اثر و رسوخ بھی اس خونی کھیل کے جاری رہنے میں اہم کردار ادا کرتا رہا۔ آج بھی چھٹی کے روزشہر میں سارا دن پتنگ بازی ہوتی ہے۔ 

پتنگ بازی

مزید : صفحہ اول