کاشتکاروں کا گنے کی قیمت فی 40 کلو 300 روپے کرنیکا مطالبہ

  کاشتکاروں کا گنے کی قیمت فی 40 کلو 300 روپے کرنیکا مطالبہ

  



پشاور(سٹی رپورٹر) خیبرپختونخوا بالخصوص پشاور کے گنے کے کاشتکار مہنگائی کی وجہ سے گنے کی قیمت فی 40 کلو 300 روپے کرنے کا مطالبہ کردیا ہے گنے کے کاشتکاروں کا کہنا تھا کہ وہ انتہائی پریشان ہیں زرعی اخراجات میں بہت اضافہ ہوگیا ہے لیکن گنے کی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوا گنے کی قیمت فی 40 کلو 300 روپے مقرر کی جائے یہ بات اتحاد زمینداران داؤدزئی کے نائب صدر و ممبرشوگر کین بورڈ خیبرپختونخوا راشد محمود خان بابوزئی نے کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ کاشتکار پچھلے 6 سال سے انتہائی مشکل سے گنے کی کاشت کررہے ہیں اور بدترین معاشی استحصال کا شکار ہوچکے ہیں 2013 سے گنے کا سرکاری نرخ 180 روپے فی 40 کلو مقرر ہے۔ جبکہ اس عرصہ میں چینی، شیرے، بگاس، کھاد، ڈیزل اور زرعی ادویات کی قیمتوں میں 100 فیصد اضافہ ہوچکا ہے جس کی وجہ سے گنے کی کاشت کرنے میں دشواری پیش آرہی ہے اور گنے کی کاشت کافی حد تک کم ہوچکی ہے اگر حکومت نے ہنگامی طور پر گنے کی فی من قیمت 300 روپے مقرر نہ کی تو گنے کے کاشتکار گنا کاشت نہ کرنے پر مجبور ہوجائیں گے اور ان کے خاندان فاقہ کشی پر مجبور ہوں گے کیونکہ گنے کے کاشتکاروں کو گنے کی کاشت کے علاوہ دوسرہ کوئی کام نہیں آتا لہٰذا حکومت گنے کی قیمت میں فی الفور اضافہ کرے۔ راشد محمود خان بابوزئی کا کہنا تھا کہ ہر ملک کی ترقی میں کسان زمیندار اور کاشتکار وں کا اہم رول ہوتا ہے اور انہیں زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کی جاتی ہیں لیکن افسوس کی بات ہے کہ گزشتہ چھ سالوں سے گنے کے کاشتکار گنے کی قیمت میں اضافے کا مطالبہ کررہے ہیں لیکن کوئی اضافہ نہیں ہورہا راشد محمود خان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت نے 300 روپے فی 40 کلو گنے میں اضافے نہ کیا تو گنے کے کاشتکار احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے۔ راشد محمود خان کا کہنا تھا کہ علاقہ میں پہلے ہی گنے کی کاشت کی پیداوار خاصی کم ہوچکی ہے کاشتکاروں کے حالات نہایت خراب ہوچکے ہیں۔ راشد محمود خان کا کہنا تھا کہ 2018 ء میں چینی کا نرخ 50 روپے کلو تھا جبکہ اب چینی کا نرخ 75 سے 80 روپے فی کلو ہے۔ زراعت اور کاشتکاروں کو بچانے کے لئے ہمارا مطالبہ ہے کہ گنے کی قیمت 300 روپے فی 40 کلو اضافہ کیا جائے۔ 2018-19 میں حکومت نے 40 کلو گنے کی قیمت 180 مقرر کی لیکن ملزوالے زمینداروں کو 145 روپے پھر 160 اور بعد میں احتجاج کے بعد 174 روپے مقرر کی گئی جو کہ سراسر زیادتی ہے مہربانی کرکے حکومت قیمت مقرر کرنے کے بعد اس پر سختی سے عمل بھی کرے تاکہ کاشتکاروں کو ان کا پورا حق مل سکے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر