گھوڑوں پر دوڑنے والے احتساب کے خوف سے ویل چیئرمین پہنچ جاتے ہیں:حلیم عادل شیخ

گھوڑوں پر دوڑنے والے احتساب کے خوف سے ویل چیئرمین پہنچ جاتے ہیں:حلیم عادل شیخ

  



کراچی(اسٹاف رپوڑٹر)پاکستان تحریک انصاف سندھ کے سینیئر رہنما و سندھ اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر حلیم عادل شیخ پی ٹی آئی کے رہنما کیعلماء شیخ الحدیث مولانا ضئیا الدین، مولانا مومن عادل و دیگر کے ہمراہ انصاف ہایوس میں پریس کانفرنس سے خطاب کیا، حلیم عادل شیخ نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا سندھ میں کتوں کو کھسی کرنے پر 50 کروڑرکھے جاتے ہیں لیکن ایکسین اسپتالوں تک نہیں پہنچائی جاتی۔ وزیر صحت کو بھی ویکسین لگانے کی ضرورت ہے وہ کبھی کہتی ہیں کہ سارے کتے پاگل نہیں ہوتے اور بچے کتوں سے دور رہے ہیں خود اپنی ذمہ داری نبھانے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ بلاول زرداری نے سندھ کتوں کے حوالے کر رکھی ہے۔ بلاول پی ٹی آئی کی حکومت جانے کے خواب دیکھنے سے پہلے سندھ حکومت کو دیکھ لیں وہ کس طرح لوٹمار لگا کر بیٹھی ہے، عمران خان کے آنے کے بعد ملک سے نوسر باز حکمرانوں کا خاتمہ ہوچکا ہے۔ کرپٹ حکمران جب جیل سے باہر ہوتے ہیں تو گھوڑوں پر ڈوڑتے ہیں۔گرفتار ہونے کے بعد سارے کرپٹ حکمران بیمار پڑ جاتے ہیں اوروہیل چیئر پر آجاتے ہیں۔ سندھ میں ٹڈی دل کے حملوں سمیت ایڈز و قدرتی آفات ان کرپٹ حکمرانوں کے اعمال کا نتیجہ ہے۔ عمران خان ملک پر صرف 5 برس کے کئے نہیں آئے وہ ملک کے مستقل لیڈر ہیں۔ وہ مہاتیر محمد، طیب ارگان بن کر آئے ہیں۔ سندھ کے وزراء گردن تک کرپشن میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ 30 سال ملک پر حکمرانی کرنے والوں نے ایک ایسا اسپتال نہیں بنوایا جہان انکا علاج ہوسکے۔ نوازشریف کو اگر حکومت اجازت دیتی تو ڈیل کی باتیں کی جاتیں مولانا کو دھرنے سے پندرہ بیس سال تک کا حلوہ ملا ہے۔ مولانا نے پارٹیوں سے چندہ لینے سمیت ملکگیر چندہ جمع کیا تھا۔ مولانا کا دھرنا عوام کے حقوق کے لئے نہیں تھا مولانا سڑکیں بند کرکے اشتعال پھیلانا چاہتے ہیں۔ دین اسلام کسی کا راستہ بند کرنے کا درس نہیں دیتا۔ اب اس حلوے کو حضم کرنے کیلئے روڈ بلاک کر رہے ہیں۔ جب کوئی ملازم یا تحریک انصاف کے رہنما حق کے لئے سڑکوں پر نکلتے ہیں تو ان کے خلاف دہشتگردی کیمقدمات درج کیے جاتیہیں آج جیآئی یو جو سندھ میں دھرنے دے رہی ہے سندھ حکومت ان کے ساتھ شریک ملزم کے طور پر پیش پیش ہے۔ سندھ میں اگر سی ایم ہاؤس کی طرف کوئی بڑھتا ہے تو اس پر تشدد کیا جاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا  تھر میں ہزاروں لوگ آسمانی بجلی سے شہید ہوگئے جانور مر چکے ہیں ابھی تک کوئی رلیف نہیں دیا گیا۔ تھر میں بوکھ و افلاس کے لئے سندھ حکومت نے کچھ نہیں کیا گیا تھا  تھر کو پی ٹی آئی نے 2 لاکھ 75 ہیلتھ کارڈ دیئے ہیں۔مرتضیٰ وھاب اسپتال کے افتتاح پر بھی ٹماٹروں کی بات کر رہے تھے ان کو سندھ کے مسائل پر بات کرنی چاہیے تھی جو ان کو نظر نہیں آتے، سندھ میں کتوں کے کاٹنے سے 23 افراد جانبحق ہوچکے ہیں سندھ کی عوام نے بلاول زرداری کی حکومت کا مکروح چہرہ دیکھ لیا ہے سندھ پولیس میں کالی بھیڑوں کے خلاف انکوائریاں شروع چکی ہیں ایس ایس پی عمرکوٹ کے خلاف بھی انکوائری شروع کر دی گئی ہے۔ نواز شریف پر جرمانہ تھا جس کو عدالت نے چھوڑا ہے نواز شریف جائیں گے ان کی طبعیت ٹھیک نہیں ہوگی وہاں پہنچ کر سیاسی قیدی بھی بن سکتے ہیں کتنے لوگ ہونگے جن کو ایئر ایمبولنس کی سہولیت موجود نہیں کئی بیمار قیدی جیلوں میں مر رہے ہیں ان کو سہولیات نہیں دی جاتی نواز شریف کو اتنی سہولیات ملنے کے باوجود وہ رو رہے ہیں۔ 18 ترمیم کے بعد سندھ حکومت کے کام میں وفاق مداخلت نہیں کر سکتا جب بھی ویکسین کا آرڈر دیا جاتا ہے اس کو اتنی ویکسین دی جاتی ہے۔ تھر میں علاج وفاق کروا رہی ہیویکسین وفاق دے رہی ہے سندھ حکومت صرف لوٹ مار کرنے کے لئے بنی ہوئی ہے۔ مولانا فضل الرحمان دین کا لباس پہن کر عوام کو گمراہ کر رہے ہیں ان کو ہم بے نقاب کریں پوری پاکستان کے علماء مولانا کے خلاف ہیں۔ پی ٹی آئی رہنما شیخ الحدیث مولانا ضئیا الدین نے کہا عمران خان پورے عالم اسلام کی جنگ لڑ رہے ہیں  تفرقہ بازی عالم اسلام اور مسلمانوں کے لئے نقصان دہ ہے امت ماسلم آج جس مشکلات کا شکار ہے ان کے حق میں آواز اٹھانے والا کوئی نہیں  تھا اب عمران خان آچکا ہے۔ پاکستان ایک نیو کلیئر ملک ہے جس کے لئے ایک پاور فل وزیر اعظم اللہ نے ہمیں عطا کیا ہے سلامتی کاؤنسل میں پوری دنیا کو جو پیغام دیا ہے کہ امت مسلم کو اکیلا نہیں چھوڑیں گے، عمران خان ہوری مسلم امہ کے قائد ہیں جنہوں نے مسلمانوں کی ترجمانی کی ہے  سلامتی کاؤنسل کے اجلاس میں آج تک کسی بھی مسلمان سیاستدان نے مسلمانوں کی ترجمانی نہیں کی ہے۔ مولانا فضل الرحمان کی پیروکاری وہ قرآن و حدیث سے ہٹ کر ہے، مولانا کی جماعت کا طریقہ کار قرآن و حدیث کے مطابق نہیں ہے بداخلاقی، مساجد اور مدراس کے وقار کو مجروح کیا جارہا ہے، فتوے لگانا مولانا کا کام نہیں ہے۔

مزید : صفحہ اول