ریلوے گالف کلب عملدرآمد کیس، ریلوے افسران بتائیں ریلوے چلانی ہے یاگالف کلب؟،سپریم کورٹ نے ریلوے کی رپورٹ مستر دکردی

ریلوے گالف کلب عملدرآمد کیس، ریلوے افسران بتائیں ریلوے چلانی ہے یاگالف ...
ریلوے گالف کلب عملدرآمد کیس، ریلوے افسران بتائیں ریلوے چلانی ہے یاگالف کلب؟،سپریم کورٹ نے ریلوے کی رپورٹ مستر دکردی

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ آف پاکستان نے ریلوے گالف کلب عملدرآمد کیس میں ریلوے کی رپورٹ مسترد کردی اور 15 روز میں نئی رپورٹ طلب کرلی،عدالت نے ریلوے سے گالف کلب کا بڈپلان اور اکاﺅنٹس کی تفصیل طلب کرلی ،عدالت نے ریمارکس دیئے ہیں کہ ریلوے والے سو رہے ہیں ،ریلوے افسران بتائیں کہ ریلوے چلانی ہے یاگالف کلب؟۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میںریلوے گالف کلب عملدرآمد کیس کی سماعت ہوئی،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریلوے والے سو رہے ہیں ،جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ریلوے حکام بتائیں کہ ریلوے چلانی ہے یا گالف کلب؟ فوری طور پر بڈنگ کا عمل شروع کیا جائے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آڈیٹر رپورٹ میں سابقہ انتظامیہ پر سنجیدہ الزامات لگائے گئے ہیں،وکیل سابقہ انتظامیہ علی ظفر نے کہا کہ جو بھی الزامات ہیں ان کے جوابات دیں گے،ریلوے نے سپریم کورٹ کے احکامات کی توہین کی ،جسٹس عمر عطابندیال نے کہا کہ الزامات کے باعث سابقہ انتظامیہ شایدبڈنگ میں شامل بھی نہ ہو سکے،وکیل ریلوے نے کہا کہ سابقہ انتظامیہ نے فرگیوسن کمپنی سے آڈٹ کےلئے خدمات لی تھیں،

جسٹس عمر عطابندیال نے کہا کہ جو ریکارڈ نہیں مل رہا اس کا مقدمہ درج کروائیں،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ عدالت کو نہ ملنے والے ریکارڈ کی تفصیل فراہم کریں بعد میں مناسب حکم دیں گے،ریلوے والے بھی سوئے رہے ہیں،عدالت نے کہا کہ نیب دائر ریفرنس پر کارروائی جاری رکھے۔

عدالت نے ریلوے کی رپورٹ مسترد کرتے ہوئے 15 روز میں نئی رپورٹ طلب کرلی ،عدالت نے ریلوے سے گالف کلب کا بڈپلان اور اکاﺅنٹس کی تفصیل طلب کرلی ،عدالت نے ریلوے کے متعلقہ افسروں کو بھی آئندہ سماعت پر طلب کرلیاگیا۔

مزید : قومی /علاقائی /اسلام آباد