وزیراعظم کی سینئر قانون دان سے ملاقات، نوازشریف کی بیرون ملک روانگی پرعدالتی فیصلہ چیلنج کرنے پر مشاورت

وزیراعظم کی سینئر قانون دان سے ملاقات، نوازشریف کی بیرون ملک روانگی ...
وزیراعظم کی سینئر قانون دان سے ملاقات، نوازشریف کی بیرون ملک روانگی پرعدالتی فیصلہ چیلنج کرنے پر مشاورت

  



اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم عمران خان سے بابر اعوان نے ملاقات کی ہے جس میں نوازشریف کا نام ای سی ایل سے نکالے جانے سمیت مختلف قانونی پہلووں پر تبادلہ خیال ہواہے۔جیو نیوز کے مطابق ملاقات میں نوازشریف

کی بیرون ملک روانگی سے متعلق ہائیکورٹ کے فیصلے پر مشاورت  کی گئی ہے۔نجی ٹی وی نے ذرائع کے حوالے سے بتایاہے کہ ملاقات میں یہ پہلو بھی زیر بحث آیا کہ کیا نوازشریف کے ای سی ایل سے نام نکالے جانے کے معاملے کو چیلنج کیاجانا چاہئے یا نہیں۔

اس موقع پر وزیراعظم نے کہا اصلاحاتی ایجنڈے کے تحت ادارے مضبوط ہورہے ہیں۔رول آف لا سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹوں گا،انصاف ہمیشہ پہلی ترجیح رہے گی۔انہوں نے کہا این آر او مانگنے والے احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ ادارے پاکستان کو مضبوط بنانے کیلئے ایک صفحے پر موجود ہیں۔اداروں کی تعمیر نو اور بہتری کے بغیر کام نہیں چلے گا۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کرپشن ملک کیلئے دیمک کی طرح ہے اور احتساب ہمیشہ ان کی پہلی ترجیح رہے گی۔

انہوں نےبتایا کہ اس ماہ عوامی ریلیف کے بڑے فیصلے سامنے آئیں گے۔عمران خان نے کہا میڈیا قوم کی تعلیم و تربیت کافرض اداکرے۔انہوں نے کہا وہ چاہتے ہیں کہ ملک میں انصاف کا بول بالا ہو۔کشمیر ہماری شہہ رگ ہے آزادی کشمیریوں کی منزل ہے۔

جبکہ بابر اعوان نے کہاوزیراعظم کے فیصلوں سے معیشت بہتر ہورہی ہے،جلد لوگوں کو ریلیف ملے گا۔وقت ثابت کرے گا کہ کٹھن فیصلوں سے آسانی پیداہوئیں۔احساس پروگرام سے غریب عوام کوریلیف پہنچے گا۔بابر اعوان نے کہا حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کے ثمرات جلد عوام تک پہنچیں گے۔انہوں نے کہا معیشت کی درستگی کے حکومتی فیصلوں کو پذیرائی مل رہی ہے۔

یاد رہے کہ عدالت عالیہ نوازشریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے اور انہیں بیرون ملک علاج کیلئے جانے کی سہولت دے رکھی ہے۔ہائیکورٹ کا تحریری فیصلہ 4 صفحات پر مشتمل ہے جسے جسٹس علی باقرنجفی اور جسٹس سرداراحمد نعیم پرمشتمل بینچ نے جاری کیا۔فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دیا جاتا ہے، نواز شریف کو عبوری طور پر 4 ہفتوں کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دی جاتی ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں نواز شریف کو ایک بار کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دی ہے اور لکھا ہے کہ نواز شریف صحت یاب ہونے پر 4 ہفتوں کے بعد واپس پاکستان آئیں گے۔فیصلے کے مطابق نوازشریف کےبیان حلفی پررجسٹرارلاہورہائیکورٹ کودستخط کرانےکےلیے بھیجا گیا جب کہ نوازشریف اور شہباز شریف کی وطن واپسی کی یقین دہانی پرمبنی اوریجنل بیان حلفی کوریکارڈکاحصہ بنادیاہے۔

تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ درخواست پر مزید سماعت جنوری کے تیسرے ہفتے میں ہوگی۔

واضح رہے کہ سابق وزیراعظم نوازشریف کل بروز منگل کو لاہور سے بذریعہ ایئرایمبولینس لندن کیلئے روانہ ہوں گے، ان کے ساتھ ان کے بھائی اور سابق وزیراعلیٰ شہباز شریف اور ان کے معالج ڈاٹر عدنان بھی جائیں گے۔

مزید : اہم خبریں /قومی