شکر کریں باہر جانے کی اجازت دیدی، اس ملک کا پیسہ لوٹنے والے ایک آدمی کو بھی نہیں چھوڑوں گا: وزیراعظم عمران خان

شکر کریں باہر جانے کی اجازت دیدی، اس ملک کا پیسہ لوٹنے والے ایک آدمی کو بھی ...
شکر کریں باہر جانے کی اجازت دیدی، اس ملک کا پیسہ لوٹنے والے ایک آدمی کو بھی نہیں چھوڑوں گا: وزیراعظم عمران خان

  



مانسہرہ (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعظم پاکستان عمران خان نے کہا ہے کہ کابینہ کے زیادہ تر افراد نے نواز شریف کو باہر جانے کی اجازت دینے کی مخالفت کی لیکن شکر کریں کہ مجھے رحم آ گیا اور بدلے میں صرف ان سے 7 ارب روپے کی گارنٹی مانگی مگر ڈرامے شروع ہو گئے، حالانکہ یہ 7 ارب روپے کی تو ٹپ دے سکتے ہیں، شہباز شریف کسی کی کیا گارنٹی دیں گے، وہ تو خود مقدمے بھگت رہے ہیں، بلاول بھٹو زرداری لبرل بنتا ہے لیکن وہ لبرلی کرپٹ ہے، مولانا فضل الرحمان بچوں کو گمراہ کر رہے ہیں، ان کی آخرت کی بہت فکر ہے، سب اکٹھے ہو جاﺅ، جو کرنا ہے کر لو، میرا اللہ سے وعدہ ہے کہ اس ملک کا پیسہ چوری کرنے والے ایک آدمی کو بھی نہیں چھوڑوں گا۔

تفصیلات کے مطابق تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ تمام بے روزگار سیاستدان کنٹینر پر کھڑے تھے لیکن مجھے تو مولانا کی آخرت کی فکر ہے کیونکہ وہ بچوں کو گمراہ کر رہے ہیں، آزادی مارچ میں مدارس کے بچوں کو استعمال کیا گیا جنہیں کچھ پتہ نہیں تھا کہ وہ اسلام آباد کیوں آئے ہیں، اسلام آباد میں بارش ہوئی تو بچے سردی میں تھے لیکن مولانا گرم کمرے میں تھے ، میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں بڑی سزا نہ دے، مولانا کو ڈیزل کا پرمٹ دیدو، جو مرضی فتویٰ دیدیں گے ، میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ یہ سب اکٹھے ہو جائیں گے، یہ ایک مافیا ہے، منڈیلا بننے کی کوشش کرنے والے شہباز شریف بھی کنٹینر پر کھڑے تھے، خود کو لبرل کہنے والا بلاول بھٹو بھی کنٹینر پر کھڑا تھا جن کی تھیوری سن کر آئن سٹائن کی روح بھی گھبرا گئی ہو گی کہ جب زیادہ بارش ہوتی ہے تو زیادہ پانی آتا ہے، یہ لبرل نہیں لبرلی کرپٹ ہے لیکن میں ان کو نہیں چھوڑوں گا کیونکہ اگر ایسا کیا تو اپنی قوم کیساتھ غداری کروں گا۔

انہوں نے کہا کہ عدالت نے ایک شخص کو مجرم قرار دیدیا تو ہمیں درخواست کی گئی کہ اسے انسانی بنیادوں پر باہر جانے دیا جائے، ہم نے ڈاکٹرز کی رپورٹس دیکھیں اور کابینہ کے زیادہ تر اراکین نے کہا کہ انہیں باہر جانے کی اجازت نہ دی جائے کیونکہ باقی لوگ بھی تو جیلوں میں بیمار ہوتے ہیں لیکن مجھے رحم آ گیا اور کابینہ سے کہا کہ جانے دو اور ہم نے بدلے میں صرف ایک چیز مانگی یعنی سات ارب روپے کی گارنٹی۔۔۔ میرے پاکستانیوں یہ یاد رکھنا کہ شریف خاندان کے پاس جتنا پیسہ ہے، سات ارب روپے ان کیلئے کچھ نہیں اور یہ تو صرف ٹپ میں اتنی رقم دے سکتے ہیں کیونکہ ان کے پاس موجود دولت کا آپ کو اندازہ ہی نہیں ہے لیکن گارنٹی دینے کے بجائے ڈرامے شروع ہو گئے، شہباز شریف نے ایکٹنگ شروع کر دی جنہیں یہاں نہیں بلکہ بالی ووڈ میں ہونا چاہئے تھا، کہتا ہے کہ میں گارنٹی دوں گا، شہباز شریف ! آپ کا بیٹا اور داماد اربوں روپے کی چوری پر بھاگا ہوا ہے، ان کی گارنٹی تو دیں، نواز شریف کے دونوں بیٹے بھاگے ہوئے ہیں اور باہر ارپوں روپے کے گھروں میں رہتے ہیں، ان کی گارنٹی کون دے گا، نواز شریف کا سمدھی باہر بھاگا ہوا ہے اور اس کے دو بیٹے بھی باہر بھاگے ہوئے ہیں، ان کی گارنٹی کون دے گا اور سب سے بڑی بات یہ کہ آپ کی گارنٹی کون دے گا، آپ پر بھی کرپشن کے مقدمات چل رہے ہیں۔ شکر کریں کہ ہمیں رحم آ گیا اور علاج کیلئے بیرون ملک جانے کا موقع دیا، ہم عدالت کا فیصلہ قبول کرتے ہیں لیکن ساتھ ہی شہباز شریف کو بتانا چاہتا ہوں کہ یہ قوم آپ کو سمجھ گئی ہے اور اب آپ کی باتوں میں نہیں آئے گی۔

عمران خان نے مزید کہا کہ قومیں جذبے اور جنون سے کھڑی ہوتی ہیں، اگر ہم کرکٹ ٹیموں کی بات کریں تو صلاحیت رکھنے والی ٹیم کا مقابلہ جنون رکھنے والی ٹیم کیساتھ ہو تو جنون ہمیشہ صلاحیت اور عقل کو شکست دیتا ہے، آج جو ہم اس موٹر وے کا افتتاح کر رہے ہیں، یہ سی پیک کا حصہ ہے، اور میں اپنے پاکستانیوں کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ یہ سی پیک ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا، ہمارے ملک میں زراعت کی پیداوار سب سے کم ہے اور چین میں زرعی پیداوار ہم سے تین، چار گنا زیادہ ہے، سی پیک پہلے صرف ایک سڑک کا نام تھا لیکن آج سی پیک ہر طرح سے مختلف ہے، اس کے ذریعے پاکستان میں انڈسٹری آ رہی ہے اور نوجوانوں کو تکنیکی علم بھی فراہم کیا جائے گا اور جیسے جیسے ہمارے نوجوانوں کو ہنر ملے گا تو یہی آبادی ہماری سب سے بڑی طاقت بن جائے گی۔

اس موقع پر انہوں نے مراد سعید کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ انصاف سٹوڈنٹ فیڈریشن (آئی ایس ایف) کے ذریعے اوپر آئے اور آج وفاقی وزیر ہیں جنہوں نے وزارت پوسٹل سروس اور مواصلات کے ادارے سنبھالے جو خسارے میں تھے لیکن انہوں نے اپنے زبردست کام کے ذریعے ترقی کی راہ پر گامزن کر دیا ہے جس پر میں مراد سعید کو خصوصی طور پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ میں ساری قوم کو بتاناچاہتا ہوں کہ اللہ کا اس ملک پر خاص کرم ہے جو نعمتیں یہاں ہیں وہ شائد ہی کسی ملک کے پاس ہوں، ہمیں صرف صحیح طرح ان نعمتوں کو استعمال کرنا ہے، ہمیں اپنے نوجوانوں کی تعلیم اور عوام کی صحت پر پیسہ لگانا ہے، ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان میں درآمد ہونے والی ہسپتالوں کی تمام تر مشینری کو ڈیوٹی فری کر دیں تاکہ لوگ یہاں آ کر ہسپتال بنا سکیں، اس کے علاوہ ہاﺅسنگ سکیم کے شروع ہوتے ہی بہت سے لوگوں کو روزگار مہیا ہو گا۔

مزید : اہم خبریں /قومی