وہ معروف پاکستانی شخصیت جسے کوہ طور کے مقدس مقام پر اذان دینے کی سعادت حاصل ہوئی ،مشکل ترین سفر کی ایمان افروز داستان بھی بیان کردی

وہ معروف پاکستانی شخصیت جسے کوہ طور کے مقدس مقام پر اذان دینے کی سعادت حاصل ...
وہ معروف پاکستانی شخصیت جسے کوہ طور کے مقدس مقام پر اذان دینے کی سعادت حاصل ہوئی ،مشکل ترین سفر کی ایمان افروز داستان بھی بیان کردی

  

وادی سینا(ڈیلی پاکستان آن لائن)کوہ طور پہاڑی کا نام سنتے ہی دل و دماغ میں اللہ تعالی کی تجلی کا خوبصورت نظارہ  ابھر کےسامنے آ جاتا ہے،یہ وہ مقدس مقام  ہےجہاں حضرت موسی علیہ السلام نےاللہ تعالی سےہمکلام ہونے کا شرف حاصل کیا،اب اسی  مقدس  پہاڑی کےاس مقام پرجہاں حضرت موسیٰ  علیہ السلام اللہ تعالیٰ سےہمکلام ہوتے  تھے  ایک  پاکستانی سیاح فرخ جاوید بیگ نے روح پرور اذان  دینے کا اعزاز حاصل کیا ہے،اذان دینے کی  روح  پرورمنظر  کی ویڈیو بھی سامنے آ گئی ہے۔      

تفصیلات کےمطابق مصرکےصوبہ جنوبی سیناءکےشہر سینٹ کیتھرین میں واقع "جبلِ شریعہ" وہ مقام ہے جہاں اللہ تعالی اپنے رسول حضرت موسی علیہ السلام سےہمکلام ہوتے تھے، جبلِ موسی کی بلندی سطح سمندر سے 2242 میٹر ہے،قرآن کریم میں سیناء کے علاقے کو سینین کے نام سے ذکر کیا گیا ہے اس کا معنی پہاڑوں کی نوکیں ہیں، اس کو سیناء کا نام دینےکی وجہ یہاں کثیر تعداد میں واقع پہاڑ ہیں  جبکہ  قرآن  کریم میں اللہ  نے  اس  پہاڑ  کی  قسم  بھی  کھائی ہے ،کوہ طور کی چوٹی دنیا کا واحد مقام ہے جہاں  تینوں مذاہب کے زائرین اکھٹے ہوتے  اور ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہو کر اللہ تعالی کے حضور دعا کرتے ہیں ۔یہ وہی مقام ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے اپنی تجلی حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دکھائی تھی جس کے اثر سے وہ بے ہوش ہوگئے اور کوہ طور جل کر سرمے کی مانند سیاہ ہوگیاتھا  ۔

امریکہ میں مقیم معروف پاکستانی کاروباری  شخصیت اورفلاحی تنظیم"گلزار مدینہ ویلفیئرٹرسٹ"کےچیئرمین مرزا فرخ جاوید بیگ کو  یہ  اعزاز حاصل  ہوا  ہے  کہ انہوں  نے کوہ  طور  میں  "مقام  موسیٰ"پر  کھڑے  ہو  کر  اذان  دی  ہے۔اپنے  اس سفر  اور اذان  کی  سعادت حاصل کرنے کےحوالے سے "ڈیلی پاکستان"سے گفتگو کرتے ہوئے فرخ جاوید  بیگ کا کہنا تھا کہ اس مقدس پہاڑ کو جبل طور اور طور سلمہ کہا جاتا ہے ،یہ پہاڑ قاہرہ سے تقریبا پانچ سو کلو میٹر کی دوری اور سات گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے ،میرے لئے یہ بڑے اعزاز کی بات ہے کہ میں نے اس مقدس پہاڑ کی نہ صرف زیارت کی بلکہ ’مقام موسی‘پر کھڑے ہو کر اذان بھی دی ،جس موقع پر میں نے اذان دی اس وقت وہاں بڑی تعداد میں غیر مسلم بھی موجود تھے ،جو بڑے ہی حیرانگی کے انداز میں اللہ کی کبریائی کا بلند ہونے والا آوازہ سنتے رہے۔

انہوں نے کہا کہ شام کا اندھیرا ڈھلتے ہی میں نے اس مقدس وادی کا پیدل سفر شروع کیا جبکہ کچھ سلسلہ اونٹ کے ذریعے سفر طے ہوا،ایک مقام ایسا بھی آتا ہے جہاں اونٹ کے ذریعے بھی نہیں جایا جا سکتا اور اپ کو پہاڑی سلسلہ پیدل طے کرنا پڑتا ہے، پہاڑی سلسلہ بڑا دشوار گذار ہے تاہم شوق اور لگن آپ کو سفر کی تھکان محسوس نہیں ہونے دیتی ،جس مقام پر کھڑے ہو کر میں نے اذان دی یہ وہ مقام ہے جہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے چالیس دن عبادت کی تھی ۔انہوں نے کہا کہ اس مقدس مقام کی زیارت میری دلی خواہش تھی کیونکہ اللہ کی رحمت سے مکہ مکرمہ ،مدینہ منورہ اور مسجد اقصیٰ کی زیارت تو بارہا مرتبہ مجھے نصیب ہو چکی ہے ،میری دلی خواہش تھی کہ اللہ تعالیٰ مجھے اس مقام کی زیارت بھی نصیب کرے ،سو میں نے ہمت کی اور اللہ نے میرے راستے آسان کردیئے ۔

مزید :

خصوصی رپورٹ -روشن کرنیں -