انگریزوں کے تعلیمی اداروں کے بائیکاٹ کی مہم میں پنجاب کی” دوسری پوزیشن “ 

انگریزوں کے تعلیمی اداروں کے بائیکاٹ کی مہم میں پنجاب کی” دوسری پوزیشن “ 
انگریزوں کے تعلیمی اداروں کے بائیکاٹ کی مہم میں پنجاب کی” دوسری پوزیشن “ 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف: پروفیسر عزیز الدین احمد
قسط:107
 پنجاب میں سرکاری تعلیمی اداروں کے بائیکاٹ کی مہم خاص طور پر کامیاب ہوئی اور اس ضمن میں اسے بنگال کے بعد دوسری پوزیشن دی گئی۔وکیلوں کی جانب سے عدالتوں کے بائیکاٹ کی مہم میں بنگال اول رہا جبکہ پنجاب نے پانچویں پوزیشن حاصل کی۔کانگریس نے عدم تعاون کے دوران سارے ملک سے1 کروڑ روپے کا چندہ اکٹھا کرنے کا اعلان کیا تھا۔ پنجاب کو 9 لاکھ روپیہ کا ٹارگٹ دیا گیا۔اس دور میں یہ بہت بڑی رقم تھی تاہم قیادت کی ان تھک کوششوں کے نتیجہ میں یہ ہدف بھی حاصل کرلیاگیا۔ بدیسی کپڑے کو جلانے کی تحریک میں لالہ لاجپت رائے پیش پیش تھے۔ بقول ڈاکٹر عاشق حسین بٹالوی وہ بدیسی کپڑوں کے ڈھیر کو آگ لگانے سے پیشتر کڑک کر اعوذ باﷲ من الشیطان الرجیم بسم اﷲ الرحمن الرحیم پڑھتے ، پھر کپڑے کے ڈھیر کی طرف اشارہ کر کے کہتے یہ شیطان الرجیم ہے جسے میں آگ میں جھونکنے لگا ہوں۔یہ ہندو مسلم اتحاد کا اظہار تھا جو اس دوران پنجاب میں عام نظر آتا تھا۔
اس تحریک میں عوام کی قربانیوں اور ان کے نہ ختم ہونے والے جوش و جذبہ کو دیکھ کر یہ تاثر ابھرنے لگا کہ برطانوی راج چند دن کا مہمان ہے۔خود مہاتما گاندھی نے تحریک شروع کرتے ہوئے بڑے بھروسے سے اعلان کیا تھا کہ اگر ان کے پروگرام پر پوری طرح عملدرآمد کیا گیا تو برطانوی راج ایک سال کے اندر اندر ختم ہو جائے گا۔ چنانچہ 12فروری 1922 کو جب مہاتما گاندھی نے اچانک بغیر پارٹی سے مشورہ کیے عدم تعاون کی عظیم الشان تحریک کے خاتمے کا اعلان کیا تو یہ عوام پر بجلی کی طرح گرا۔ راس کماری سے خیبر تک مایوسی کی لہر پھیل گئی۔گاندھی جی کا کہنا تھا کہ چوری چورا کے پر تشدد سانحہ نے تحریک کی اخلاقی بنیاد کو جو عدم تشد د پر قائم تھی ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ اور اسے مزید جاری نہیں رکھا جا سکتا۔
چوری چورا یو پی کے ضلع گوررکھ پور کا ایک قصبہ تھا۔ یہاں کانگریس اور خلافت تحریک کے ایک بڑے جلوس کو پولیس نے تشدد کے استعمال سے منتشر کر نے کی کوشش کی۔ جلوس میں موجود کچھ لوگوں نے اینٹ کا جواب پتھر سے دیا۔ جوابی کارروائی کے طور پر پولیس نے مظاہرین پر گولی چلادی۔اس پر مجمع بپھر گیا۔جب پولیس کی نفری نے بھاگ کر تھانے میں پناہ لی تو مشتعل ہجوم نے عدم تشدد کی پالیسی کو پس پشت ڈالتے ہوئے تھانے کو آگ لگا دی۔جن سپاہیوں نے بھاگنے کی کوشش کی انہیں پکڑ کر مار ڈالا گیا اور ان کی لاشیں آگ میں پھینک دی گئیں۔ اس طرح پولیس کے 22سپاہی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ 
تحریک کے خاتمے کا غیر متوقع اعلان کانگریس کی اعلیٰ قیادت اور عام کارکنوں کے لیے بھی ناقابل فہم تھا۔ جگہ جگہ یہ سوال اٹھایا جانے لگا کہ ایک چھو ٹے سے قصبے میں چند سرپھرے لوگوں کی کارروائی کے نتیجے میں ملک گیر تحریک کے خاتمے کا فیصلہ کر نا کہاں کی دانشمندی ہے۔ تحریک میں ہزاروں کارکن جیلوں میں گئے تھے اور سیکڑوں قید بھگت رہے تھے۔ لاکھوں افراد کا کاروبار تباہ ہوا تھا یا وہ ملازمتوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ہزاروں نوجوان تعلیمی ادارے چھوڑ کر اور اپنا مستقبل داﺅ پر لگا کر گاﺅں گاﺅں کانگریس کا پیغام پھیلا رہے تھے۔ کانگریس کے مخالفین نے اس اعلان کے محرکات بارے شکوک و شبہات کا اظہار کیا۔یہ بھی کہا گیا کہ مہاتما گاندھی تحریک میں انقلابی جذبے کے اس لیے مخالف تھے کہ اس سے انہیں سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کا مستقبل مخدوش نظر آنے لگا تھااور تحریک کا خاتمہ نظام کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری تھا۔ ( جاری ہے ) 
نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -