ہر طرف بھوک کی آگ تھی جس کا ایندھن لوگ تھے، انسا نیت بدعنوانی کی بھٹی میں گل سڑ کر تعفّن چھوڑ رہی تھی

ہر طرف بھوک کی آگ تھی جس کا ایندھن لوگ تھے، انسا نیت بدعنوانی کی بھٹی میں گل ...
ہر طرف بھوک کی آگ تھی جس کا ایندھن لوگ تھے، انسا نیت بدعنوانی کی بھٹی میں گل سڑ کر تعفّن چھوڑ رہی تھی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف : اپٹون سنکلئیر
ترجمہ :عمران الحق چوہان 
 قسط:79
یورگس اتنا سادہ اور مخلص تھا کہ اس کے ساتھی نے اپنا تمام احوال کھول کر اس کے سامنے رکھ دیا۔ اسے یورگس کو، جو ابھی تک شہر کے طور طریقوں سے ناواقف تھا، اپنی مہمّات سنانے میں مزہ آتا تھا۔ ڈُواین نے نام اور جگہیں چھپانے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی اور اسے اپنی کامیابیاں، ناکامیاں، محبتیں اور دکھ سب بتاڈالے۔ اس نے یورگس کا تعارف دوسرے قیدیوں سے بھی کروایا جن میں سے آدھوں کو وہ نام سے جانتا تھا۔ ان لوگوں نے پہلے ہی یورگس کا نام ” بدبودار“ رکھا ہوا تھا۔ یہ سنگ دلی تو تھی لیکن پھر بھی ان کی نیت بری نہیں تھی۔ یورگس نے بھی اس نام کا برا نہیں منایا۔
یورگس کو ارد گرد کی گندگی کا احساس تو تھا لیکن اس میں رہنے کا موقع پہلی بار ملا تھا۔ یہ جیل شہر کے جرائم کا سفینۂ نوح تھا۔۔۔ وہاں قاتل، لٹیرے، فراڈیے، جعلساز،2شادیوں والے، اچکّے، چور، مخبر، جیب کترے،جواری، دنگا فساد کرنے والے، طوائفوں کے دلّال، بھکاری، آوارہ،شرابی۔۔۔ گورے کالے، بوڑھے جوان، امریکی اور دنیا کی ہر قوم کے لوگ تھے۔ ان میں عادی مجرم بھی تھے اور معصوم بے گناہ بھی جو غربت کی وجہ سے اپنی ضمانت نہیں کروا سکتے تھے۔ بوڑھے آدمی اور ایسے لڑکے بھی جو ابھی عنفوان ِ شباب میں داخل ہو رہے تھے۔ وہ معاشرے کے اندر پھیلی گندگی کی نکاسی تھے۔ انہیں دیکھے سے کراہت آتی اور بات کرنے سے نفرت محسوس ہوتی تھی۔ وہ زندگی کا گلا سڑا اور بدبودار جزو تھے۔ ان کے لیے محبت درندگی، خوشی دھوکا اورایک بد دعا کا نام تھی۔ صحن میں ٹہلتے ہوئے یورگس ان سب کی کہانیاں سنتا رہتا۔ وہ نا سمجھ تھا اور وہ سمجھ دار تھے۔ انھوں نے زندگی کی اونچ نیچ دیکھ رکھی تھی۔ وہ اسے اپنے واقعات سے اس شہر کی اصل روح دکھاتے جہاں انصاف اور عزت، عورتوں کے جسم اور مَردوں کے ضمیر بازار میں برائے فروخت تھے۔ انسان کسی گڑھے میں پھنسے ہوئے بھیڑیوں کی طرح ایک دوسرے پر ٹوٹے پڑتے تھے۔ جہاں ہر طرف بھوک کی آگ تھی جس کا ایندھن لوگ تھے۔ انسا نیت بدعنوانی کی بھٹی میں گل سڑ کر تعفّن چھوڑ رہی تھی۔ اس جان وَروں کی بستی میں یہ لوگ اپنی مرضی سے پیدا نہیں ہوئے تھے۔ وہ اس گھناؤنے کاروبار میں اس لیے ملوث تھے کہ اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ جیل میں ہونا ان کے لیے کوئی بے عزتی کی بات نہیں تھی کیوں کہ یہ کھیل انصاف کے اصولوں پر نہیں کھیلا جا رہا تھا۔ یہ بے چارے تو پیسوں ٹکوں کے وہ چور اچکّے تھے جنھیں لاکھوں کروڑوں ڈالر چرانے لوٹنے والوں نے اپنے راستے سے ہٹا دیا تھا۔ 
یورگس کوشش کرتا کہ ان کی زیادہ باتیں نہ سنے۔ اس ان کے تمسخر سے ڈر آتا تھا۔ اس کا دھیان دور کہیں اور رہتا جہاں وہ لوگ رہتے تھے جن سے وہ محبت کرتا تھا۔ کبھی کبھی ان کا سوچ کر اس کی آنکھوں میں آنسو آجاتے لیکن اس کے ساتھیوں کے قہقہے اسے حقیقت کی دنیا میں واپس لے آتے۔
اسے یہاں رہتے پورا ہفتہ ہو گیا تھا لیکن اس کے گھر والوں کی کوئی خبر نہیں تھی۔ اس نے15 سینٹ خرچ کرکے پوسٹ کارڈ خریدا جسے اس کے ایک ساتھی نے لکھا اور گھر والوں کو بتایا کہ وہ کہاں ہے اور اس کا مقدمہ کب شروع ہوگا، لیکن کوئی جواب نہیں آیا۔ نئے سال کے آغاز سے ایک دن پہلے یورگس نے جیک ڈُواین کو الوداع کہا۔ جانے سے پہلے ڈُواین نے اسے اپنا بلکہ اپنی داشتہ کا پتا دیا اور یورگس سے وعدہ لیا کہ وہ رہا ہوکر اس سے ضرور ملے گا۔ ” ہو سکتا ہے کسی دن میں تمھارے کسی کام ہی آجاؤں۔“ اس نے کہا۔ یورگس ایک بار پھر گشتی ویگن میں بیٹھ کر جسٹس کالاہان کی عدالت میں مقدمہ بھگتنے کے لیے روانہ ہو گیا۔
عدالت میں داخل ہوتے ہی اسے سب سے پہلے آنٹ الزبیٹا اور ننھی کترینا نظر آئیں جو خوفزدہ زرد چہروں کے ساتھ سب سے پیچھے ایک کونے میں بیٹھی تھیں۔ اس کا دل تیز تیز دھڑکنے لگا لیکن اس نے ان سے بات کرنے یا اشارہ کرنے کی جرأ ت نہیں کی۔ نہ ہی الزبیٹا نے یہ جسارت کی۔ وہ کٹہرے میں کرسی پر بیٹھ کر بے چارگی کے ساتھ انہیں ٹکٹکی باندھ کر دیکھنے لگا۔ اس نے دیکھا کہ اونا ان کے ساتھ نہیں تھی، پھر وہ اس کے نہ آنے کی وجہ کے متعلق سوچوں میں گم ہوگیا۔ وہ کوئی آدھ گھنٹہ تک انہی خیالات میں کھویا رہا۔۔۔ اور پھر اچانک وہ سیدھا ہوکر بیٹھ گیا۔ اس کا چہرہ سرخ ہوگیا تھا۔ ایک آدمی عدالت میں داخل ہوا تھا جس کا چہرہ پٹیوں میں لپٹا ہونے کی وجہ سے پوری طرح واضح نہیں تھا لیکن یورگس کو اس بھاری جثے کی پہچان تھی۔ یہ کونر تھا۔ اس کا بدن لرزنے لگا اور اس کے پٹھے یوں تن گئے جیسے اسے دبوچنے کے لیے تیار ہوں لیکن فوراًہی اسے ایک ہاتھ اپنی گردن پر محسوس ہوا اور ایک سخت آواز نے اس سے کہا،” بیٹھے رہو، کتیا کے۔۔۔! “( جاری ہے ) 
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم “ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں )ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

ادب وثقافت -