نشتر کی چھت پر لاشیں،مرتکبین پر پھر انکوائری کی تلوار

نشتر کی چھت پر لاشیں،مرتکبین پر پھر انکوائری کی تلوار

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 ملتان (خصوصی رپورٹر) نشتر میڈیکل یونیورسٹی کے اناٹومی ڈیپارٹمنٹ کی چھت سے لاوارث لاشیں ملنے کا معاملہ،وزیر اعلی پنجاب کی جانب سے انکوائری کے بعد معطل کئے گئے ڈاکٹروں اور ملازمین کے خلاف سیکرٹری ہیلتھ پنجاب کی جانب سے  ایمپلائز ایمپلائز ایفشینسی ڈسپلن اینڈ اکانٹبیلیٹی ایکٹ 2006 کے تحت سابقہ انکوائری میں نااہلی اور غفلت کا مرتکب پائے جانے پر ایک بار پھر انکوائری شروع کر دی ہے واضح رہے 12 اکتوبر 2022 کو مشیر (بقیہ نمبر23صفحہ نمبر6)
وزیر اعلی پنجاب نے نشتر میڈیکل یونیورسٹی کے اناٹومی ڈیپارٹمنٹ کی چھت پر لاوارث لاشوں کی نشاندہی کی تھی جس پر وزیر اعلی پنجاب چوہدری پرویز الہی نے ایکشن لیتے ہوئے ایڈیشنل سیکرٹری جنوبی پنجاب کی قائم کردہ 6 رکنی کمیٹی کی رپورٹ کی روشنی میں اناٹومی ڈیپارٹمنٹ کی سربراہ ڈاکٹر مریم اشرف، سینئیر ڈیمانسٹریٹر ڈاکٹر سیرت عباس، ڈیمانسٹریٹر ڈاکٹر عبدالوہاب، چوکیدار غلام عباس، محمد سجاد اور عبدالروف کو معطل کر دیا تھا تاہم اب ایک بار پھر سیکرٹری ہیلتھ پنجاب کی جانب سے تینوں ڈاکٹروں اور چوکیداروں کے خلاف انکوائری شروع کی گئی ہے جس کے لئے سیکرٹری صوبائی ٹرانسپورٹ اتھارٹی محمد احسن وحید کو انکوائری آفیسر مقرر کیا گیا ہے جبکہ مجرمانہ غفلت کے مرتکب تمام ڈاکٹروں اور چوکیداروں کو 14 روز کے اندر اپنے دفاع میں تحریری جواب جمع کروانے کے احکامات دئیے گئے ہیں،اسی طرح نشتر میڈیکل کالج کے پرنسپل ڈاکٹر راشد قمر راو کو ڈیپارٹمنٹلریپریزینٹیٹیو بنایا گیا ہے جبکہ انکوائری آفیسر کو 60 روز میں انکوائری مکمل کر کے رپورٹ جمع کروانے کا کہا گیا ہے