جدید نصاب اور تدریسی طریقوں کو اپنانا ہو گا،پروفیسر اصغر زیدی

جدید نصاب اور تدریسی طریقوں کو اپنانا ہو گا،پروفیسر اصغر زیدی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


لاہور(لیڈی رپورٹر)وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹراصغر زیدی نے کہا ہے کہ ملک میں تعلیم کے معیار کو بڑھانے کیلئے جدید نصاب اور تدریسی طریقوں کو اپنانا ہوگا وہ پنجاب یونیورسٹی ادارہ تعلیم و تحقیق کے زیر اہتمام ’اکیسویں صدی کی ضروریات کیلئے تدریس میں تبدیلی‘ کے موضوع پر تین روزہ بین الاقوامی کانفرنس کی اختتامی تقریب سے وحید شہید حال میں خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پرچیئرمین پنجاب ہائیر ایجوکیشن کمیشن پروفیسر ڈاکٹر شاہد منیر،سابق وزیر تعلیم میاں عمران مسعود،ڈائریکٹر ادارہ تعلیم و تحقیق پروفیسر ڈاکٹر رفاقت علی اکبر، کانفرنس سیکریٹری پروفیسر ڈاکٹر محمد شاہد فاروق، مختلف جامعات کے وائس چانسلرز،دنیا بھر سے محققین،ماہرین تعلیم، سماجی سائنسدا ن، فیکلٹی ممبران اور طلباؤطالبات نے شرکت کی۔اپنے خطاب میں پروفیسرڈاکٹر اصغر زیدی نے کہا کہ تدریسی عمل کے دوران طلباء  کو سوال کرنے کی آزادی ہونی چاہیے۔

تاکہ ان کی صلاحیتوں میں نکھار آئے۔ ا نہوں نے کہا کہ نئے علوم کی تخلیق،جدید رجحانات،سائنس اور ٹیکنالوجی کو فروغ دینے کے لئے جامعات کو بھرپور اقدامات کرنے چاہیے۔ انہوں نے بہترین تقریب کے انعقاد پرمنتظمین کی کاوشوں کو سراہا۔ پروفیسر ڈاکٹر شاہد منیر نے کہا کہ کمپیوٹر لٹریسی ہر نصاب کا حصہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جامعات کو ایسا نصاب ترتیب دینا چاہیے جو مارکیٹ اور معاشرے کی ضروریات کے مطابق ہو۔ انہوں نے کہا کہ تھیوروٹیکل ریسرچ کی بجائے پریکٹیکل ریسرچ پرکو فروغ ملنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ نئے علوم تخلیق کرنے کی ذمہ داری جامعات کی ہے جو تحقیقی کلچر کو پروان چڑھائے بغیر ممکن نہیں۔انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے ہی اساتذہ تدریسی طریقوں میں بہتری لا سکتے ہیں۔ ڈاکٹر رفاقت علی اکبر نے کہا کہ تعلیم شخصیت سازی اور مہذب معاشرے کی تشکیل کی ضامن ہے۔انہوں نے کہا کہ نصاب تعلیم کو روزمرہ کے معاملات سے منسلک کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ملک سے غربت، بے روزگاری، کرپشن اور ناانصافی کاخاتمہ کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ اساتذہ کو کلاس رومز میں طلباء  کو خوشگوار ماحول دینا چا ہیے اور آگے بڑھنے کیلئے رٹہ سسٹم سے نجات ضروری ہے۔پروفیسرڈاکٹر شاہد فاروق نے کہا کہ تین روزہ کانفرنس میں پاکستان سمیت دنیا بھر سے مندوبین نے 150سے زائد پریزنٹیشنز پیش کیں جبکہ پاکستان سمیت دیگر ممالک سے 46 مقررین و تعلیمی ماہرین نے اپنے تجربات کا تبادلہ کیا۔بعد ازاں معززین کو سووینئرز پیش کئے گئے۔