لانگ مارچ، مقاصد اور ممکنہ نتائج 

  لانگ مارچ، مقاصد اور ممکنہ نتائج 
  لانگ مارچ، مقاصد اور ممکنہ نتائج 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 آئین پاکستان میں چیف آف آرمی سٹاف کی تقرری کا مکمل اختیار سربراہ حکومت کو تفویض کیا گیا ہے یاد رہے کہ پاکستان سمیت ساری دنیا میں جو بھی  شخص لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی پاتا ہے اس کے پیچھے اس کی ساری زندگی کی محنت کارفرما ہوتی ہے اس نے اپنی نوکری کی  تمام منازل بہت محنت،جاں فشانی اور لگن کے ساتھ طے کی  ہوتی  ہیں نا تو وہ کسی بیرونی طاقت نہ رشوت اور نہ ہی کسی کے سہارے یہاں تک پہنچا ہوتا ہے فوج وہ ادارہ ہے جہاں ہر ترقی پانے والے کو انتھک محنت کی  چکی میں پس کر گزرنا ہوتا ہے پاکستانی فوج میں کمیشن حاصل کرنے والے بہت سے افراد کیپٹن میجر،کرنل، بریگیڈیئر،میجر جنرل کے عہدے سے ریٹائر ہو جاتے ہیں لیکن لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے تک صرف وہی خوش نصیب پہنچ پاتے ہیں جنہوں نے اپنی ساری جوانی طاقت، ذہنی صلاحیت ریاست کی بقاء اور حفاظت کے لیے وقف کی  ہوتی ہے اس ادارے کا نظام اس قدر مضبوط ہے جس میں کسی قسم کی رعایت نہیں دی جاتی جو جانے انجانے میں کسی کوتاہی کا مرتکب ہو گیا تو سمجھو وہ گیا اس کی بہت سی مثالیں موجود ہیں 


اس وقت جو پانچ نام آرمی چیف کی لسٹ میں شامل ہیں یہ سب کے سب ہی منتخب کردہ، باصلاحیت،باکردار  لوگ ہیں یہ سب کے سب  ہر لحاظ سے میرٹ پر یہاں پہنچے ہیں  ان میں سے کون خوش نصیب آرمی چیف کی ذمہ داری سنبھالتا ہے اس کا فیصلہ وزیراعظم پاکستان کریں گے اب یہاں پر یہ کہنا کہ وزیراعظم اپنی مرضی کا آرمی چیف لگانا چاہ رہے ہیں اس کا مطلب کیا ہوا؟ اور خان صاحب کیا چاہتے ہیں کہ یہ سارا ملک جانتا ہے دراصل خان صاحب ان پانچ افراد میں سے صرف ایک صاحب کو آرمی چیف نہیں دیکھنا چاہتے۔
لانگ مارچ کے مقاصد صرف آرمی چیف کی تعیناتی میں ان صاحب کے نام کو خارج کروانے کے لیے حکومت پر دباؤ بڑھانا ہے اس کا ثبوت یہ ہے کہ پہلے یہ کہا جارہا تھا کہ آرمی چیف کے لیے دو یا تین نومبر تک نام فائنل کر دیا جائے گا تو خان صاحب نے اکتوبر میں ہی لانگ مار چ  شروع کر دیا اس وقت لانگ مارچ جس رفتار سے اسلام آباد کی طرف جا رہا ہے اس سے پہلے کسی جلسے،جلوس مارچ  کی رفتار کی ایسی مثال نہیں ملتی اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ اگر لانگ مارچ نومبر کے پہلے ہفتے میں اسلام آباد کا گھیراؤ کر لیتا ہے تو لوگوں کے ہجوم کو اتنے دنوں تک قابو میں رکھنا مشکل ہو جائے گا اب یہ توقع کی جارہی ہے کہ وزیر اعظم نومبر کے تیسرے ہفتے میں نئے چیف کا نام فائنل کر دیں گے اب خان صاحب کوشش کریں گے کہ کے پی کے، جنوبی پنجاب، لاہور،گوجرانوالہ کے لوگوں کو کسی طرح آٹھ دس دن تک بٹھاے رکھیں جو بہت مشکل نظر آ رہا ہے کیوں کہ اسلام آباد میں درجہ حرارت کافی حد تک گر چکا ہے اور موسم شدت اختیار کرتا جارہا ہے اور شاید  دوسری وجہ یہ بھی ہو کہ اس لانگ مارچ میں پرانے انویسٹر موجود نہیں ہیں جو اس ایونٹ کے اخراجات برداشت کر سکیں۔


نتائج کی طرف آنے سے پہلے ایک واقعہ پیش کرنا چاہوں گا تین دوست شیر کا شکار کرنے جنگل میں گئے شیر سامنے آیا انہوں نے گولیاں بر سانا شروع کردیں آخرکار گولیاں ختم ہو گئیں شیر نے شکاریوں کو گھیر لیا شکاریوں نے درخواست کی کہ جناب شیر صاحب آپ ہمیں کھائیں نہ بلکہ ہمیں بے عزت کردیں شیر نے پوچھا وہ کیسے انہوں نے کہا کہ جناب ہم سے ناک سے لکیریں نکلوالیں شیر نے کہا ٹھیک ہے شکاریوں نے لکیریں  نکالیں  اور چلے گئے اگلے سال  پھر وہی شیر، وہی شکاری،وہی لکیریں اور  اس سے اگلے سال پھر وہی ہوا شیر نے شکاریوں کو گھیر لیا شکاریوں نے درخواست کی آپ ہمیں کھائیں نہ  ہمیں بے عزت کر لیں شیر نے قہقہہ لگایا  اور کہا اب نا تو میں آپ کو کھاؤں گا اور نہ ہی بے عزت کروں گا لیکن آپ کو میرے ایک سوال کا جواب دینا ہو گا شکاریوں نے کہا پوچھیے شیر نے کہا بتاؤ تم ہر سال شکار کے لیے آتے ہو یا بے عزت ہونے کے لئے خان صاحب کے لانگ مارچ کے نتائج بھی کچھ ایسے ہی ہونے جا رہے ہیں، اگر خان صاحب کی سیاسی جدوجہد  سے دھرنے لانگ مارچ، الزامات،دھمکیاں،جھوٹ، چور، ڈاکو لٹیرے،اور یوٹرن نکال دیے  جائیں  تو شاید ان کے پاس کچھ بھی نہ بچے ۔
جناب خان صاحب کچھ ہوش کریں اپنے ذاتی مفادات کی خاطر ریاست کو قربان نہ کریں  ہماری ریاست ہماری ماں ہے اس کی تذلیل نہ کریں  آپ نے جو کانٹے ساڑھے تین سالوں میں بچھائے تھے انہیں چننے میں شاید ابھی اور وقت لگے جناب کی محنت سے برباد کیا ہوا سی پیک دوبارہ سے شروع ہونے جا رہا ہے دوست ممالک کے ساتھ ریاست کے  معاشی استحکام کے لیے منصوبے ترتیب دیے جا رہے ہیں پرنس محمد بن سلمان،صدر شی جن پنگ اور پیوٹن کے دورہ پاکستان کی باتیں چلی ہوئی ہیں لیکن آپ کے لانگ مارچ اور دارالحکومت کے گھیراؤ کی وجہ سے یہ لوگ پاکستان نہیں آئیں گے آپ پہلے بھی اس قسم کی واردات کے مرتکب ہو چکے ہیں اگر آپ نے اب بھی ایسا ہی کیا تو قوم اور ریاست  آپ کو کبھی معاف نہیں کرے گی۔

مزید :

رائے -کالم -