عمران پل صراط عبور کرپائیں گے یا نہیں!

عمران پل صراط عبور کرپائیں گے یا نہیں!
عمران پل صراط عبور کرپائیں گے یا نہیں!

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 اس کا کیا سبب ہے کہ ہر روز عمران خان سے جڑی ہوئی نو نو دس دس خبریں بیک وقت اخبارات کی ویب سائٹوں پر موجود ہوتی ہیں، ہر ٹی وی چینل پر ان کے بارے میں بات ہورہی ہوتی ہے،ڈان اخبار ایسا موقر روزنامہ ہر دوسرے دن ان پر ایک اداریہ تحریر کرتا ہے، سپریم کورٹ سے لے کر ہائی کورٹ اور ہائی کورٹوں سے لے کر سول اور سیشن عدالتوں اور ان عدالتوں سے لے کر نیب اور ایف آئی اے ایسے ادارے ان کی یا ان کے خلاف درخواستوں سے لدے پھندے نظر آتے ہیں، وہ ہر محفل میں موضوع بحث ہوتے ہیں، ہر شخص کی زبان پر ان کا نام ہوتا ہے، ہر سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ان کا چرچا ہوتا ہے اور ہر بچہ، ہر جوان اور ہر بوڑھا ان کی بات میں بات کرتا دکھائی دیتا ہے۔ نہ صرف یہ کہ ان کے حق میں بلکہ ان کے خلاف بیانات کی بھرمار ہوتی ہے، نون لیگ براہ راست ان کو نشانے پر رکھتی ہے، مولانا ان کے پیچھے لٹھ لے کر پڑے نظر آتے ہیں اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شرجیل میمن ہر روز ان پر ایک تنقیدی پریس کانفرنس سجا کر بیٹھے ہوتے ہیں۔ آئی ایس پی آر ان کے الزامات کا جواب دیتا پایا جاتا ہے، ڈی جی آئی ایس آئی ان کی وجہ سے پہلی بار منظر عام پر آکر ایک سیاسی پریس کانفرنس کرتے پائے جاتے ہیں، ان کے لانگ مارچ کے مقابلے میں ملک کے طول و عرض میں فوج کے حق میں ریلیاں نکلتی دکھائی دیتی ہیں، ہر دوسرے بے باک سیاستدان کے بارے میں افواہیں گرم رہتی ہیں کہ وہ عمران خان کو جوائن کرنے والے ہیں، ہر کوئی کہتا ہے کہ اس وقت انتخابات ہوں تو عمران خان کو دو تہائی اکثریت مل جائے گی!


اس کا پہلا سبب تو یہ ہے کہ خود نون لیگ کے حلقے مانتے ہیں کہ عمران خان ابھی تک مقتدر حلقوں میں سے ایک یا دوسرے حصے کے لاڈلے ہیں۔ دوسرا سبب یہ ہوسکتا ہے کہ پنجاب میں نوازشریف کی مقبولیت کی ضد میں لوگ عمران خان کے دیوانے ہیں۔ تیسرا سبب یہ ہو سکتا ہے کہ عمران خان فی الواقعی انٹی نواز شریف ووٹ کے بلاشرکت غیرے حقدار بن چکے ہیں۔ چوتھا سبب یہ ہو سکتا ہے کہ ان کے ہینڈلرز انہیں 29نومبر تک ہوجانے والی تعیناتی سے قبل اپنے مقاصد کے حصول کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔ پانچواں سبب یہ ہو سکتا ہے کہ عمران خان کو ایسی غیر ملکی طاقتوں کی پشت پناہی ہے جو عالمی منظرنامے میں اپنی مرضی کا رنگ بھرنے کے لئے ہر ملک کی مقبول قیادت کی مقابل قیادت کو استعمال کررہے ہیں۔ چھٹا سبب یہ ہوسکتا ہے کہ پاک فوج کو کمزور کرنے والی عالمی طاقتیں ان کے انٹی اسٹیبلشمنٹ موقف کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنے کی غرض سے ان کی مدد کر رہے ہیں۔ ساتواں سبب یہ ہوسکتا ہے کہ عمران خان کشتیاں جلا کر میدان سیاست میں انہونیوں کے متمنی ہیں۔ آٹھواں سبب یہ ہو سکتا ہے کہ وہ اپنی سیاسی زندگی کا سب سے بڑا جوا کھیلنے کو تیار ہو چکے ہیں۔ نوواں سبب یہ ہو سکتا ہے کہ انہیں بعض ایک غیبی طاقتوں یا پھر جادو ٹونوں کی طاقت حاصل ہو چکی ہے۔ دسواں سبب یہ ہو سکتا ہے کہ پاکستان کے نوجوان اپنے جذباتی پن میں انہیں کندھوں پر اٹھائے پھر رہے ہیں اور اس کے علاوہ ان کی رام لیلا کی اور کوئی اہمیت نہیں ہے۔ 
قیافوں اور قیاس آرائیوں سے ہٹ کر دیکھا جائے تو عمران خان کا دعویٰ ہے کہ وہ ملک میں قبل از وقت انتخابات کے لئے عوام کو موبلائز کررہے ہیں۔ اس کے لئے انہوں نے امریکی سائفر سے کھیلا، اسٹیبلشمنٹ کو کوسا کہ وہ کیونکر نیوٹرل بننے پر مصر ہے جب وہ اور ان کے چاہنے والے فوج کے سیاسی کردار سے مطمئن ہیں، نئے آرمی چیف کی تعیناتی کو متنازع بنانے کی کوشش کی، نواز شریف، مولانا فضل الرحمٰن اور آصف زرداری کے خلاف کے دشنام طرازی کی، سپریم کورٹ، الیکشن کمیشن اور ہائی کورٹوں کی توہین کی، سیشن جج زیبا کو دھمکی دی، رانا ثناء اللہ کے ڈیرے پر حملہ کروایا، شہباز گل اور اعظم سواتی پر پولیس کی حراست میں جنسی تشدد کروایا اور اپنے خلاف توشہ خانہ کے تحائف بیچنے کے فیصلے کو جوتے کی نوک پر رکھا۔ 


اس سب کے باوجود عمران خان کو قبل از انتخابات کی تاریخ نہیں مل سکی ہے اور اب تو صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے بھی ہاتھ کھڑے کردیئے ہیں کہ وہ ناکام ہو گئے ہیں۔ نون لیگ ابھی تک بضد ہے کہ انتخابات اپنے وقت پر ہی ہوں گے اور نئے آرمی چیف کی تعیناتی مقررہ وقت پر کرکے وہ ثابت کرے گی وہ کسی بھی طریقے سے عمران خان کی پراپیگنڈہ مہم کی وجہ سے انڈر پریشر نہیں ہے۔ تاہم بعض حلقوں کا ماننا ہے کہ جس طرح عمران خان نے فوج اور امریکہ کے بارے میں اپنے معاندانہ موقف سے یوٹرن لیا ہے وہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ انہیں یقین دہانی کروائی گئی ہے کہ اگلے سال کے آغاز میں عام انتخابات کا ڈول ڈالا جا سکتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے نئے آرمی چیف کی تعیناتی اور امریکہ کی جانب سے رجیم چینج کی سازش کو عوامی موضوع بنانے سے احتراز برتنا شروع کردیا ہے۔ 
اگر واقعی ایسا ہے تو عمران خان کو آئندہ اتوار تک یا اس سے اگلے دو چار روز کے اندر راولپنڈی میں لاکھوں انسانوں کا ہجوم دکھانا ہوگا تاکہ وہ دنیا کو باور کراسکیں کہ قبل از وقت انتخابات کا مطالبہ اب پورے پاکستان کا مطالبہ بن چکا ہے۔اگر وہ ایسا نہ کر سکے اور معاملہ ایک بار پھر جی ٹی روڈ پر ان کے لانگ مارچ کو لگی بریکوں والا ہی رہا تو عمران خان کو ان کے گھر والے بھی گھاس نہیں ڈالیں گے۔ دیکھنا یہ ہے کہ وہ اس پل صراط کو عبور کرپائیں گے یا نہیں! 

مزید :

رائے -کالم -