ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے خلاف انتقامی کارروائیاں کیوں؟

ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے خلاف انتقامی کارروائیاں کیوں؟
ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے خلاف انتقامی کارروائیاں کیوں؟

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


رئیل اسٹیٹ کسی بھی ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے دنیا بھر میں درجنوں ممالک کی مثال دی جا سکتی ہے جنہوں نے رئیل اسٹیٹ  کے کاروبار کو عوام کے لئے کھولا، ریلیف دیا، خصوصی پیکیج دیئے، سرمایہ کاری کو تحفظ فراہم کیا،ان ممالک نے دیکھتے ہی دیکھتے ترقی کی منازل طے کیں اور عام لوگوں کو چھت کی فراہمی بھی ممکن ہو گئی،اس کی بنیادی وجہ یہ  ہے رئیل اسٹیٹ سیکٹر ایک ایسی صنعت ہے جس کے ساتھ درجنوں چھوٹی بڑی صنعتیں جڑی ہوئی ہیں، ایک گھر کی تعمیر شروع ہوتی ہے بظاہر راج مستری، مزدور کام شروع کرتے ہیں لیکن بنیادوں سے چھت تک اور پھر اس کی تزئین و آرائش تک تین درجن مختلف شعبے خودبخود ملوث ہوتے چلے جاتے ہیں۔ایک گھر بنانے والا نہ صرف غریب افراد کو روزگار کی فراہمی کا باعث بنتا ہے، بلکہ گھر بنانے کے لئے استعمال ہونے والی ضروریات جو سیمنٹ، سریا، بجری ریت وغیرہ ہوتی ہیں وہ بلڈنگ میٹریل کے ساتھ رنگ و روغن تک  پھر ٹائل اور پتھر سے دروازوں تک محدود نہیں رہتی، الیکٹرک کی اشیا ء تک پھیل جاتی ہیں، تمہید طویل ہو گئی، بلڈر ڈویلپرز اور پراپرٹی ڈیلر کا بھی آپس میں گہرا تعلق ہے دیگر ممالک کی مثالیں دینے سے پہلے میں اپنے وطن عزیز پاکستان کی مثال دے سکتا ہوں۔جنرل پرویز مشرف نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ  رئیل اسٹیٹ کو ہدف بنایا اور دنیا بھر میں بسنے والے افراد کو پاکستان کی رئیل اسٹیٹ  میں سرمایہ کاری کی دعوت دی اس کے لئے ایمنسٹی سکیم متعارف کرائی اور سرمایہ کاری کرنے والوں کو تحفظ فراہم کرتے ہوئے خصوصی ریلیف پیکیج دیئے، نتیجہ پوری قوم کے سامنے ہے بظاہر آمریت کا دور تاریخ مرتب کر چکا ہے۔اس دور میں اہل پاکستان کے لیونگ سٹینڈرڈ میں اضافہ ہوا، لاکھوں خاندانوں کو چھت ملی اور اربوں روپے کی سرمایہ کاری باہر سے آئی،ملکی معیشت مضبوط ہوئی،زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوا، ان کی حکومت کے جانے کے بعد جمہوری دور کا آغاز ہوا، بیرون ممالک سے آنے والی سرمایہ کاری رک گئی، خوف بڑھا اس کی بنیادی وجہ ٹیکسز میں بلاوجہ کا اضافہ، نیب کا خوف، سرمایہ کاری میں عدم تحفظ قرار پایا۔دلچسپ امر یہ ہے کہ اِس وقت بھی پراپرٹی کے بحران کا ذمہ دار موجودہ وزیر خزانہ کو قرار دیا گیا۔اِس وقت جب وفاق میں مسلم لیگ(ن)، سندھ میں پیپلزپارٹی اور خیبرپختونخوا اور پنجاب میں پی ٹی آئی کا اقتدار ہے رئیل اسٹیٹ کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا ہے، انڈے کھانے کی بجائے انڈے دینے والی مرغی  ہی کو حلال کر دیا گیا ہے۔


زمینی حقائق بتاتے ہیں پی ٹی آئی کے ساڑھے تین سالہ  دور میں مشرف دور کے بعد رئیل اسٹیٹ  میں دوبارہ ہل جل شروع ہوئی، گھر بنانے کے لئے دی گئی ایمنسٹی سکیم سے ہزاروں افراد کو چھت بھی مل گئی، باہر سے سرمایہ بھی آیا اور رئیل اسٹیٹ سے منسلک صنعتوں میں کام بھی چل نکلا۔جنرل مشرف کے دور کے بعد تحریک انصاف کے دور میں ہاؤسنگ سوسائٹیوں کو بھی آن بورڈ لیا گیا، نیا پاکستان کے نام سے گھروں کی فراہمی کا منصوبہ بھی بنا اس کے لئے آسان اقساط میں گھروں کی فراہمی کے لئے پنجاب بنک کے اشتراک سے سکیم بھی متعارف کرائی گئی۔ایک کروڑ گھروں کی فراہمی کے حوالے سے پبلک پارٹنر شپ کا لائحہ عمل بھی دیا گیا،پنجاب میں ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی رجسٹریشن اور منظوری کے لئے آسان طریقہ کار متعارف کرایا گیا،سوسائٹیوں کے سالہا سال سے رکے ہوئے کام بھی اسی دور میں ہوئے۔ایک بات ذمہ داری سے کہہ سکتا ہوں کرپشن بڑھی، نذرانے کی رقم دو گنا ہو گئی، مال بنانے والوں نے دروازے کھول دیئے، ایک ذمہ دار مجھے عمران خان کے آخری دور میں ایل ڈی اے میں کہہ رہا تھا پہلی دفعہ پنجاب میں کام ہو رہے ہیں، ایل ڈی اے میں رشوت تو پہلے بھی تھی لیکن کام کے لئے تاریخیں زیادہ ملتی تھیں اب رشوت کی مشین تیز ہو گئی ہے سودا ہو گیا تو کام یقینی۔ دلچسپ بات یہ ہے موجودہ دور وہ عمران خان کا ہو یا پرویز الٰہی کا قوم کے پاس وقت نہیں ہے،پیسے دے کر کام وقت پر ہو جانا غنیمت سمجھا جاتا ہے، کیا رونا رویا جائے تعمیراتی پیکیج کے آگے آئی ایم ایف آ گیا توسیع نہ مل سکی، نیا پاکستان منصوبہ بھی ادھورا رہ گیا، ایک کروڑ گھر تو دور کی بات50لاکھ گھروں کا خواب بھی حکومت کے دھڑن تختہ کی وجہ سے خواب بن گیا، اِس وقت پاکستان کے وفاق میں پی ڈی ایم کی حکمرانی ہے۔ پنجاب، خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی برسر اقتدار ہے، عوام کسی سیاسی جماعت یا سیاسی رہنما کو نظر نہیں آ رہی۔ مرکز نے رئیل اسٹیٹ پر بے تحاشا ٹیکسز لگا کر گین ٹیکس کی مدت چھ سال کر دی۔ پنجاب حکومت نے ایف بی آر اور ڈی سی ریٹس میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے، ٹرانسفر فیس کو ڈی سی ریٹس سے مشروط کر دیا ہے جس کی وجہ سے پلاٹوں کی ٹرانسفر میں لاکھوں روپے اضافی دینا پڑ رہے ہیں، سیلز پرچیز رک چکی ہے رہی سہی کسر روپے کی بے قدری نے پوری کر دی ہے۔

ان دِنوں جب پراپرٹی کے دفاتر بند ہو رہے ہیں رئیل اسٹیٹ سیکٹر اور اس سے منسلک درجنوں صنعتیں دیوالیہ کی زد میں ہیں۔ بلڈرز پریشان ہے، بلڈنگ میٹریل پہنچ سے باہر ہو گیا ہے،پنجاب حکومت نے اچانک ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے کھاتے کھول لئے ہیں۔ تاریخ میں پہلی مرتبہ سینئرصوبا ئی وزیر اپنے وزراء کے ساتھ اپنے سابق سینئرصوبا ئی وزیر کے خلاف پریس کانفرنس کر کے اس کی سوسائٹی کو غیر قانونی قرار دے رہا ہے۔اندھیر نگری یہ ہے پنجاب حکومت پارک ویو سوسائٹی جو سابق سینئر صوبائی وزیر کی ملکیت ہے اس کے خلاف برسر پیکار ہے۔ پارک ویو کو  غیر قانونی ثابت کرنے کے لئے ایل ڈی اے کی طرف سے اب تک کروڑوں روپے کے اشتہار شائع کرا چکے ہیں۔پارک ویو میں رہائش پذیر ہزاروں خاندان سوال کرتے نظر آئے ہیں۔ پارک ویو کی ملک بھر میں اربوں روپے کی اشتہار بازی ہو رہی ہے ہر طرح کا میڈیا بکنگ کے اشتہار شائع کر رہا ہے۔اشتہاروں کے کونے پر ایل ڈی اے سے منظور کا سلوگن بھی لگا ہوا ہے، ہزاروں کنال فروخت ہو چکی ہے اب اچانک کیا آفت آن پڑی ہے ایک فرد سے انتقام کے چکر میں پارک ویو میں رہائش پذیر ہزاروں خاندانوں کی نیند اڑا دی گئی ہے، زندگی بھر کی جمع پونجی سے پلاٹ خریدنے والوں کو پریشان کیا جا رہا ہے۔ایک سابق وزیر کی سوسائٹی کے خلاف ایکشن کو جواز بنانے کے لئے پہلی دفعہ ریونیو بورڈ پنجاب کے ایک سینئر ممبر زاہد اختر زمان نے تمام ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے کھاتے کھولنے کا اعلان کیا ہے۔ آڈٹ کے نوٹسز جاری کئے جا رہے ہیں جعلی اشٹام پیپر کے خلاف بھی جہاد کا آغاز ہو رہا ہے۔اشٹام پیپر ہی ٹرانسفر فیس میں استعمال ہو رہے ہیں،اہل پاکستان اچانک سوسائٹیوں کے خلاف چڑھائی پر حیران ہیں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی دوڑ میں عوام کو کیا ملنا ہے میرا ایک پنجاب کی حکومت سے سوال ہے۔علیم خان کی مخالفت میں دیگر اچھی ساکھ رکھنے والی ہاؤسنگ سکیموں کیخلاف پروپیگنڈا اور حکومتی اہلکاروں اور مشیران کی طرف سے ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے مالکان کو بلیک میل کرنے اور ایل ڈی اے کو ان کو تنگ کرنے کی ہدایات دے کر پرائیویٹ ہاؤسنگ سکیموں میں رہنے والوں کو کیوں ذہنی مریض بنایا جا رہا ہے،کیا حکومت یا ایل ڈی اے دو نمبرکام کرنے والوں یا غلط منظوری دینے والوں کو بھی منظر عام پر لائے گی۔عوام کا آخری سوال یہ ہے ہمارے لئے کچھ نہیں کر سکتے تو اپنی ذاتی لڑائیوں میں تو کم از کم ہمیں شامل نہ کریں ہمارے لئے ناقابل برداشت مہنگائی، بے روزگاری ہی کافی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -