آرمی چیف تقرری،مولانا فضل الرحمن نے مکمل اختیاروزیر اعظم کو دیدیا

    آرمی چیف تقرری،مولانا فضل الرحمن نے مکمل اختیاروزیر اعظم کو دیدیا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 اسلام آباد(آن لائن)وزیراعظم شہباز شریف نے آرمی چیف کی تقرری سے قبل اپنی اتحادی جماعتوں کی سینئر قیادت سے مشاورت کی، انہوں نے طے شدہ روایات اور طریقہ کار کے تحت تقرری سے متعلق وزیراعظم کو مکمل اختیاردیدیا،جبکہ بعض وزراء نے تقرری کی منظوری کابینہ سے بھی لینے کی تجویز دی،مگراکثریت نے اس سے اتفاق نہیں کیا۔ ذرائع کے مطابق پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے وزیراعظم شہباز شریف کی خیریت دریافت کرنے کیلئے انہیں فون کیا اوردونوں رہنماؤں نے ملکی موجودہ صورتحال اور نئے آ رمی چیف کی اہم تقرری کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا، ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے سارا وزن شہباز شریف کے پلڑے میں ڈال دیا اور کہا وزیر ا عظم طے شدہ طریقہ کار کے تحت آرمی چیف کا تقرر کریں۔ ذرائع کے مطابق اکثریت نے تقرری کووزیراعظم کی انتظامی و صوابدیدی اختیار قرار دیدیا ہے جبکہ پیپلز پارٹی اور جے یو آئی ف نے معاملہ مکمل طور پر وزیراعظم پر چھوڑ دیا ہے۔ادھر پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری بھی اسلام آباد میں موجود ہیں اور خیال کیا جارہا ہے کہ ان کی وزیراعظم شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمن سے جلد ملاقات متوقع ہے۔کابینہ ذرائع کا کہنا ہے ماضی میں کبھی بھی آرمی چیف کی تقرری کی کابینہ سے اجازت نہیں لی گئی،یہ مکمل طور پر وزیراعظم کا اختیار ہے جبکہ بعض وزراء کا یہ موقف ہے کہ وفاقی کابینہ کی منظوری کی مہر لگنے سے کسی فورم سے انگلی نہیں اٹھائی جائیگی کیونکہ سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں ہر اہم تقرری کی منظوری کابینہ سے لی جاتی ہے۔ ذرائع کا مزید کہنا تھا حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے بعض رہنماآرمی چیف کی تقرری کی منظوری وفاقی کابینہ سے لینے کے حامی ہیں۔
فضل الرحمن

مزید :

صفحہ اول -