اینٹی کرپشن حکام نے ڈپٹی کمشنر مٹیاری عدنان راشد کو گرفتار کر لیا

اینٹی کرپشن حکام نے ڈپٹی کمشنر مٹیاری عدنان راشد کو گرفتار کر لیا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


حیدرآباد(این این آئی)حیدرآباد سکھر موٹر وے کی تعمیر کے منصوبے کے لئے زمین کی خریداری میں دو ارب روپے کے کرپشن کیس میں اینٹی کرپشن حکام نے ڈپٹی کمشنر مٹیاری عدنان راشد کو گرفتار کر لیا گیا جب کہ اسسٹنٹ کمشنر منصور عباسی مفرور ہے۔مٹیاری کے پولیس حکام اور اینٹی کرپشن حکام نے تصدیق کی ہے ڈپٹی کمشنر مٹیاری عدنان کو گرفتار کیا گیا ہے جب کہ اسسٹنٹ کمشنر منصور عباسی  مفرور ہے، حیدرآباد سکھر موٹروے کی تعمیر کے فنڈز سے 2 ارب روپے کی خوردبرد پر وزیر اعلی مراد علی شاہ نے نوٹس لیا اور تحقیقات کے لئے ٹیم تشکیل دی گئی تھی جس کے بعد اینٹی کرپشن حیدرآباد کی ٹیم نے چھاپہ مار کر ڈپٹی کمشنر عدنان راشد کو ڈی سی ہاس سے  گرفتار کر لیا۔بتایا گیا ہے وفاقی حکومت نے 70 کلو میٹر  موٹر وے کی تعمیر کے لئے زمین خریدنے کے لئے سندھ حکومت کو 4 ارب روپے کی رقم فراہم کی تھی، زمین کی خریداری کے لئے اسسٹنٹ کمشنر منصور عباسی کو لینڈ ایکوزیشن افسر مقرر کیا گیا تھا اور رقم  سرکاری اکانٹ میں جمع تھی مبینہ طور پر اسسٹنٹ کمشنر نے اس میں سے ایک ارب 81 کروڑ کی رقم  اکانٹ سے نکلوا کر غائب کر دی، وزیر اعلی مراد علی شاہ نے اعلی حکام کے ذریعے پتہ چلنے پر اینٹی کرپشن حکام کی ٹیم کو تحقیقات کا حکم دیا تھا جس پر کیس رجسٹر کر کے مٹیاری پولیس کی نفری کی معاونت سے چھاپہ مار کر اینٹی کرپشن حکام حیدرآباد نے ڈپٹی کمشنر عدنان راشد  کو ڈی سی ہاس سے گرفتار کر لیا جب کہ اسسٹنٹ کمشنر منصور عباسی فرار ہے جس کی تلاش جاری ہے، چیف سیکریٹری نے ڈپٹی کمشنر عدنان راشد اور اسسٹنٹ کمشنر منصور عباسی کو پہلے ہی ہٹا کر معطل کر دیا تھا۔