سازشی بیانیہ پر یوٹرن‘ نیازی قوم سے معافی مانگے‘ ارباب فاروق

    سازشی بیانیہ پر یوٹرن‘ نیازی قوم سے معافی مانگے‘ ارباب فاروق

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


پشاور(سٹی رپورٹر) جمعیت علمائے اسلام کے صوبائی رہنماء و سابق امیدوار صوبائی اسمبلی ارباب فاروق جان نے کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران نیازی امریکی سازشی بیانیہ سے دستبرداری پر قوم سے معافی مانگیں کیونکہ انہوں نے سائفر کو بنیاد بنا کر قوم کے جذبات سے جس طریقے سے کھیلا اس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنی رہائشگاہ بیت النصر میں جمعیت علمائے اسلام کے کارکنوں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر جمعیت علمائے اسلام کے کارکنوں نے اپنی یوسیز میں جمعیت کی سرگرمیوں اور عوامی رابطہ مہم سے متعلق ارباب فاروق جان کو آگاہ کیا۔ اس موقع پر جمعیت علمائے اسلام کے صوبائی رہنماء و سابق امیدوار صوبائی اسمبلی ارباب فاروق جان نے کہا کہ سابق وزیر اعظم سات مہینوں تک مختلف فورمز پر پرچی لہرا کر الزامات کی سیاست کرتے رہے اب یو ٹرن لینا کافی نہیں ہے کیونکہ انہوں نے ملک کو سفارتی نقصان پہنچایا ہے انہیں حساب دینا پڑے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین و سابق وزیر اعظم کی جانب سے آرمی چیف کی تعیناتی پر ہنگامہ کھڑا کردیا گیا تھا آئے روز ریاستی اداروں کے خلاف زبان درازی سمیت سوشل میڈیا پر معتبر اداروں کے خلاف ٹرینڈ زچلائے اب آرمی چیف کی تعیناتی کے معاملے سے بھی پیچھے ہٹ جانے کی خبر دیکھ خو د کو بری الذمہ کردیا جو کسی صورت عوام کو قبول نہیں ہے‘ عوام نے یوٹرن کی سیاست کو مسترد کردیا ہے عوام حقیقی معنوں میں خدمت کی سیاست پر یقین رکھتے ہیں نہ کہ انہیں سبز باغات دکھا کر ٹرخایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان صوبہ میں مالی بحران پر قابو پائے نہ کہ وفاق پر الزام تراشی کرے انہوں نے پی ٹی آئی کے دور حکومت میں صوبائی حقوق کی بات کیوں نہیں کی وہ عوام کو بیوقوف بنانے کی ناکام کوشش چھوڑ کر صوبے کے عوام کو ریلیف دیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں آئے روز ٹارگٹ کلنگ اور پولیس و دیگر فورسز پر حملوں کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے جس سے صوبے کے عوام میں بے چینی پائی جاتی ہے صوبائی حکومت الزام تراشی کی سیاست ترک کر کے صوبے میں قیام امن کیلئے اقدامات کرے اور عوام کو تحفظ فراہم کرے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک طرف وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان صوبے میں مالی مشکلات اور سرکاری ملازمین کیلئے تنخواہیں نہ ہونے کی بات کرتے ہیں دوسری طرف وہ مختلف اضلاع میں اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کر رہے ہیں جو سمجھ سے بالاتر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر حقیقی معنوں میں صوبے میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کا مسئلہ ہے تو وزیر اعلیٰ زمینی حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کا مسئلہ ترجیحی بنیادوں پر حل کریں۔