اسلام آباد میں فرانزک لیبارٹری کے قیام، جھوٹی ایف آئی آر کیخلاف دو ترامیمی بلز منظور

اسلام آباد میں فرانزک لیبارٹری کے قیام، جھوٹی ایف آئی آر کیخلاف دو ترامیمی ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


      اسلام آباد(آئی این پی)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے اسلام آباد میں فرانزک لیبارٹری کے قیام اور جھوٹی ایف آئی آر کیخلاف دو ترامیمی بلز منظور کر لیے۔ کمیٹی نے ڈومیسائل بنانے کا اختیار نادرا کے سپرد کرنے کے بل پر آئندہ اجلاس میں چیئر مین نادرا کو طلب کرلیا، کمیٹی نے امن و امان کے قیام کیلئے وفاقی و صوبائی حکومتوں کی کارکردگی پر تحفظا ت کا اظہار کرتے ہوئے آئندہ اجلاس میں تمام پولیس سربراہان کو طلب کرلیا، تفصیلات کے مطابق پارلیمانی کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس چیئرمین کمیٹی احمد حسین دھڑ کی زیر صدار ت ہوا جس میں مختلف ایجنڈے زیر بحث آئے۔ چیئر مین کمیٹی نے اسلام آباد کے بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے تجویز دی کہ حکومت کا ایک سال سے کم عرصہ رہ گیا ہے بلدیاتی  الیکشن جنرل الیکشن کے ایک سال بعد کرانے چاہئیں جس پر ممبر سید آغا رفیع اللہ نے کہا آئین کے مطابق لوکل اور جنرل الیکشن کی حکومت کے علیحدہ علیحدہ اختیارات ہوتے ہیں۔  چیئر مین کمیٹی نے کہا جنرل الیکشن کے پہلے سال بلدیاتی الیکشن ہوں اسکا پروپوزل بنا کرگورنمنٹ کو بھیج دیں،جس پر سیکرٹری داخلہ نے کہا آپکی تجویز اچھی ہے مگر یہ مسئلہ الیکشن کمیشن کو دیں تو بہتر رہے گا،جس پر چیئر مین نے کہا آئی پی سی کو درخواست بھیج دیں۔جھوٹی ایف آئی آر کے اندراج کرانے والے کو سات سال قید کی سزا ہوگی،پارلیمانی کمیٹی نے بل منظور کر لیا۔کمیٹی نے جھوٹی ایف آئی آر کے اندراج پر سزا دینے کے بل کو منظور کر لیا۔ چیئر مین کمیٹی نے کہا یہ اللہ، رسول کے مشن کامعاملہ ہے ہم اس پر جواب دہ ہیں، جھوٹی ایف آ ئی آر سے متاثرہ لوگ سچائی ثابت کرنے کیلئے اپنی جمع پونجی تک بیچ دیتے ہیں جس پر ایڈیشنل آئی جی پنجاب نے کہا اس طرح کے فیصلے پر کافی وقت لگ جائیگا۔پولیس کو حق ہو کہ جو بھی جھوٹ بولے اسکے خلاف کارروائی کر سکے۔جنوبی پنجاب کچہ کے علاقوں میں پولیس حالات کنٹرول کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، رحیم یار خان کے کچہ کے علاقوں میں ڈاکوؤں کے گینگ کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے کہا رحیم یار خان اور سندھ کے بارڈر پر کچہ کے علاقوں میں مختلف گروہ سرگرم ہیں، انکے خلاف بیس آپریشن ہو چکے،جس پر چیئر مین کمیٹی نے کہا بظاہر لگتا ہے ہمارے بیوروکریٹ گینگ سے ڈرتے ہیں تو اس پر اے آئی جی نے کہا پولیس آپریشن کر نے کی صلاحیت رکھتی ہے، کچہ میں ڈاکوں کے پورے قبیلے آباد ہیں، اس علاقے کو سپیشل علاقہ ڈکلیر کیا جائے۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا آئندہ میٹنگ میں چیف سیکرٹریز اور آئی جیز کو بلائیں، ان سے مشورہ کر لیں اور جو اخراجات آنے ہیں ان کیلئے حکومت کو درخواست بھیج دیں، چیئر مین کمیٹی نے کشمیر،بلوچستان اور گلگت کے پولیس حکام کی عدم موجودگی اور رپورٹ بروقت نا دینے پر اظہار برہمی کیا اور انکو شوکاز نوٹس بھی دیدیا، کمیٹی ممبران نے وزیر داخلہ کی عدم موجودگی پر اظہار برہمی کیا جس پر چیئرمین کمیٹی نے بتایا وزیر داخلہ عارضہ قلب کی وجہ سے نہ آسکے آئندہ اجلاس میں آئیں گے۔